پاکستان یورپین ممالک کیلئے انسانی سمگلنگ کا ہیڈ کوارٹر کیسے بنا؟

 

 

 

 

ایف آئی اے کی جانب سے مربوط کارروائیوں کے دعوؤں کے باوجود پاکستان سے انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندا زوروشور سے جاری ہے۔ انسانی سمگلرز نے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ افغانستان اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے نوجوانوں کو غیر قانونی راستوں سے یورپ بھجوانے کیلئے پاکستان کو انسانی سمگلنگ کا ہیڈ کوارٹر بنا لیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام کے دعوؤں کے برعکس انسانی سمگلروں کا دھندا پاکستان سے یورپ تک اب بھی بھرپور طریقے سےچل رہا ہے۔ کیونکہ جون ہی کے مہینے میں صرف 3 روز میں سینکڑوں پاکستانی، افغان اور بنگلہ دیشی تارکین وطن سمیت 1500 سے زائد افراد یورپی جزیروں پر پہچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جن سے ملنے والی معلومات میں انکشاف ہوا کہ ان کی اکثریت پاکستان سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے ایران، ترکی کے راستے یہاں پہچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

 

ذرائع کے مطابق ان رپورٹس کے موصول ہونے کے بعد ایف آئی اے نے بلوچستان اور کراچی میں کارروائیاں کرکے 56 بنگالی افراد کو حراست میں لیا، جو وزٹ ویزوں پر پاکستان آئے تھے اور انسانی اسمگلروں کے ذریعے پاکستان کا بارڈر کراس کرکے ایران جارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق اسی سلسلے میں لئے جانے والے مزید اقدامات میں ایف آئی اے حکام نے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی جس میں دنیا کے 28 ایسے ممالک کی نشاندہی کی گئی، جہاں سے انسانی اسمگلر پاکستانی افراد کو یورپ کے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان ممالک کا سفر کرنے والے پاکستانی افراد کی اس وقت سخت ترین مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور ملک کے تمام ایئرپورٹس سے ان کی کلیئرنس کے لئے چیکنگ بڑھادی گئی ہے۔

 

اس ایڈوائزری کے تحت پہلے 15 ممالک، پاکستان کے 9 شہر اور 2 ائیر لائنز پر کڑی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں پہلی دفعہ بیرون ملک کے 15 سے 40 سال عمر کے مسافروں پر نگرانی سخت کرنے کا حکم دیا گیا۔ فلائی دبئی اور اتھوپین ایئر لائنز کو جواں عمر مسافروں کی سخت چیکنگ کرنے کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آذربائیجان، ایتھوپیا، سینگال، کینیا، روس، سعودیہ، مصر کے مسافروں کی بھی سخت چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔

 

مراسلے میں لیبیا، ایران، موریطانیہ، عراق ترکیہ، قطر، کویت، کرغیزستان کے مسافروں کی بھی پروفائلنگ کی ہدایات دی گئیں ہیں کیونکہ ان 15 ممالک کو پاکستانیوں نے یورپ میں انسانی اسمگلنگ کے لیے ٹرانزٹ کے طور پر استعمال کیا، اسی لئے اب ان ممالک کے وزٹ، سیاحت، مذہبی یا تعلیمی ویزوں پر مسافروں کی نقل و حرکت کا سخت جائزہ لینے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جبکہ ایڈوائزری کے مطابق منڈی بہاؤالدین، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، بمبر کے مسافروں کی کڑی نگرانی کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظ آباد اور شیخوپورہ کے مسافروں کی پروفائلنگ کے بہتر اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق ریٹرن ٹکٹس، ہوٹل بکنگ سمیت تمام دستاویزات کی مکمل چھان بین کرنے، وزٹ یا سیاحتی ویزوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ دستاویز کی جانچ پڑتال کرنے اور مشکوک مسافروں اور ان کے سفری مقصد اور مالی انتظامات کے لیے انٹرویوز کرنے کے بھی احکامات دئیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے بقول اس ضمن میں مذکورہ بالا 15ممالک کے علاوہ 13مزید ایسے ممالک کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ جنہیں انسانی اسمگلر پاکستانیوں کو یورپ بھجوانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں سوڈان، رومانیہ، بوسنیا، البانیا، تیونس، مڈغاسکر، نائجریا اور دیگر ایسے ہی ممالک شامل ہیں۔

تاہم دوسری ضانب حکومتی ذمہ داران کے مطابق برسوں کی غفلت اور ادارہ جاتی لاپروائی کے بعد بالآخر ایف آئی اے کی مربوط کارروائیوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کی وجہ سےبحیرہ روم کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین وطن کی سمگلنگ کا عالمی نیٹ ورک پاش پاش ہو چکا ہے۔ جس کے بعد یورپ جانے کے خواب میں جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کوسمندر کی بے رحم موجوں کے سپرد کرنے والے نوجوان اب موت کے اس سفر سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 

گزشتہ تین برسوں میں سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوششوں میں 500سے زائد پاکستانی نوجوانوں کی اموات کے برعکس جون سے اگست کے وسط تک بحیرہ روم میں ہونے والے 4 کشتی حادثات میں بنگلہ دیش، افغانستان، سوڈان، اریٹیریا سمیت کئی ممالک کے تقریباً 150 سے زائد تارکین وطن کو سمندر کی بے رحم موجوں نے نگل لیا، جن میں صرف 5 پاکستانی افراد شامل تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی حالیہ اقدامات رنگ لانے لگے ہیں اب پاکستانی نوجوان سمندری راستے سے یورپ جانے سے باز آ چکے ہیں۔

 

ذرائع کے بقول 2023ء سے 2025ء کے آغاز تک 4 بڑے کشتی حادثات میں 500 سے 600 پاکستانی افراد کے لقمہ اجل بننے کے بعد حکومت کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سخت بدنامی اور سبکی کا سامنا رہا۔ جس کے بعد ایف آئی اے کے ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران ان وارداتوں میں ملوث انسانی اسمگلروں کے مقامی ایجنٹوں اور ان کے بیرون ملک موجود سرغنوں کے حوالے سے 300 سے زائد انکوائریوں شروع کی گئیں۔ جبکہ 170 سے زائد مقدمات درج کئے گئے جن میں 123 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ جب کہ تین بڑے انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود انسانی اسمگلروں کی سرگرمیاں جاری رہیں اور رواں برس کے دوسرے ہی مہینے میں ایک اور کشتی حادثہ میں 20 پاکستانی ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد دباؤ بڑھنے پر سخت ترین اقدامات کئے گئے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ  پاکستان سے انسانی سمگلنگ کا سلسلہ تاحال زوروشور سے جاری ہے۔

Back to top button