فیلڈ مارشل کا دورۂ واشنگٹن، پاک-امریکا تعلقات میں نئی سمت کا تعین قرار

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جس کا سہرا پاکستان کی مؤثر اور متحرک سفارت کاری کو دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ واشنگٹن پاک-امریکا تعلقات میں "نئی سمت کی علامت” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے تجزیہ کار ڈاکٹر ڈینیئل ایس مارکی کے مطابق، پاکستان ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، جس میں عسکری، تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں اشتراک شامل ہے۔

اخبار کے مطابق، امریکا نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان نے امریکا کو کرپٹو کرنسی، معدنیات اور توانائی کے منصوبوں میں تعاون کی پیشکش کی، جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔

چین اورپاک افغان وزرائے خارجہ کاسی پیک کوتوسیع دینے پر اتفاق

 

معروف جریدے دی اکانومسٹ نے بھی ایک تفصیلی تجزیے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا معمار قرار دیتے ہوئے ان کی 18 جون کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کو خطے میں سفارتی تعلقات کے لیے ایک اہم موڑ کہا ہے۔

حالیہ پیش رفت میں، امریکا نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرتے ہوئے اسے "کمزور معیشت” قرار دیا، جبکہ پاکستان کے ساتھ صرف 19 فیصد ٹیرف پر تجارتی معاہدہ طے پایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں جنوبی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکا کی اسٹریٹجک ترجیحات میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

Back to top button