سارہ علی خان اپنی ٹرولنگ کا جواب کیسے دیتی ہیں؟

اداکار بھارتی ہوں یا پاکستانی، اکثر تنقید سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں، لیکن بھارتی اداکار سیف علی خان کی اداکارہ صاحبزادی سارہ علی خان کا کہنا ہے کہ وہ خود پر ہونے والی تنقید سے بچپن سے لطف اندوز ہوتی آ رہی ہیں، اور کبھی تنقید کی پرواہ نہیں کی۔ ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو کے دوران بھارتی سٹار سارہ علی خان نے کہا کہ اگر مجھ پر میرے کام کے حوالے سے تنقید ہوتی ہے تو مجھ پر اس کا اثر پڑتا ہے کیونکہ فلمیں لوگوں کے لیے بنتی ہیں. اس لیے اگر وہ انہیں پسند نہیں کرتے تو یہ ایک مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے مجھے اپنی اداکاری کو مزید بہتر کرنا ہوتا ہے، لیکن اگر میری شخصیت کی وجہ سے میری ٹرولنگ کی جائے تو پھر مجھے کوئی پرواہ نہیں، میرے ذہنی سکون کا انحصار اس بات پر نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔

اداکارہ امریتا سنگھ کے بطن سے پیدا ہونے والی سارہ علی خان کا کہنا ہے کہ میں بچپن سے ہی تنقید سے لطف اندوز ہوتی تھی، جب میرے والد مجھ پر تنقید کرتے تھے تو میں خوش ہوتی تھی، میں اپنی تعریف پر بھی خوش ہوتی ہوں۔

ایکٹرس روبینہ اشرف کی بیٹی نے کس سے نکاح کیا؟

میں بہت شروع میں ہی یہ بات سمجھ گئی تھی کہ کامیابی سے ملنے والی خوشی سے زیادہ ناکامیاں زندگی میں ہمیں سکھاتی ہیں۔ سارہ علی خان کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’’اترنگی رے‘‘ باکس آفس پر کامیاب رہی ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتی تھیں کہ او ٹی ٹی سروسز پر ریلیز کی وجہ سے اس فلم کو زیادہ پسند کیا جائے گا۔ اداکارہ نے بتایا کہ پچھلے برس میرے لیے واحد چیز جو اچھی رہی وہ میری فلم اترنگی رے تھی۔

سارہ علی خان نے کہا کہ مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ اگر لوگوں کا پیار ملنا ہوتا ہے تو وہ کہیں بھی مل جاتا ہے، ملک میں کرونا کی صورتحال کے پیش نظر تھیٹر کی بجائے او ٹی ٹی سروسز سے فلموں کی ریلیز کو وہ ٹھیک سمجھتی ہیں یا نہیں۔

اس سوال کے جواب میں سارہ علی خان کا کہنا تھا کہ اگر آپ میرے سے یہ سوال 10 دن پہلے پوچھتے تو میں یہ کہتی کہ میں تھیٹرز کو بہت یاد کرتی ہوں، جوکہ میں کرتی ہوں لیکن ہم فلمیں بناتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھیں، لطف اندوز ہوں اور سراہیں، اداکارہ نے بتایا کہ اگر آپ کا کانٹینٹ مضبوط ہے اور آپ کے فنکار ایماندار ہیں تو چاہے او ٹی ٹی ہو یا تھیٹر اس سے فرق نہیں پڑتا۔

Back to top button