عمران خان کے بنی گالہ منتقل ہونے کا کتنا امکان ہے ؟

معروف کالم نگار اور عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران اور ان کی اہلیہ قید سے رہائی پا کر جلد بنی گالا منتقل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اسلام آباد کے سیاسی حلقے فی الحال عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بنی گالا منتقلی کے کسی فوری امکان کو سختی سے رد کر رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اللہ کرے ایسا ہی ہو‘‘ کیونکہ ان کے بقول سیاست کو راستہ ملے گا تو ملک آگے بڑھے گا، بصورت دیگر حالات اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں کہ پاکستان کی داستان تاریخ کی داستانوں میں بھی باقی نہ رہے۔ نیازی نے پاکستان کے موجودہ بحران کو بنیادی طور پر سیاسی بحران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست اور سیاست ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔ ان کے مطابق مضبوط، آزاد اور باوقار ریاست کے لیے زندہ اور متحرک سیاست ناگزیر ہے، جبکہ سیاست کو کمزور کرکے ریاست کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ حفیظ اللہ نیازی پچھلے ہفتے اپنے سابقہ بہنوئی عمران خان کو معاف کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جس کے بعد سے بانی تحریک انصاف کے لیے ان کے جذبات کافی مثبت ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ نیازی نے الزام عائد کیا کہ ملک کے تمام اہم فریق، جن میں سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے شامل ہیں، اپنے اپنے مفادات کے حصول میں مصروف ہیں اور قومی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے بقول سیاسی نظام کی مضبوطی کے بغیر ریاست کو درپیش مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
حفیظ اللہ نیازی نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس بنانے کی بحث پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انتظامی بنیادوں پر تبدیلی بظاہر ایک اچھا اقدام ہو سکتا ہے، لیکن سیاست کی عدم موجودگی میں ایسے اقدامات ملک کو مزید تقسیم کرنے اور نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے موجودہ بحران کا حل سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیر داخلہ کو سیاسی معاملات میں مختلف تجربات کرنے کے بجائے تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی اور دیگر بڑی سیاسی قوتوں کو کسی نہ کسی شکل میں ایک میز پر بٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
حفیظ اللہ نیازی نے واضح کیا کہ ان کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں اور نہ ہی کسی حکومت یا ریاستی ادارے کے ساتھ ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ ان کے مطابق ان کی واحد دلچسپی پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور مضبوط مستقبل میں ہے، اسی لیے وہ مسلسل یہ مؤقف پیش کرتے رہے ہیں کہ ملک کا بنیادی بحران سیاسی ہے اور اس کا حل بھی سیاسی ہی ہونا چاہیے۔
حفیظ نیازی نے اپنے ماضی کے سیاسی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے موقع پر انہوں نے پارٹی کے بعض رہنماؤں سے ملاقات کرکے عمران خان کو اس مارچ کا حصہ بننے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے اس وقت بھی خبردار کیا تھا کہ نواز شریف حکومت کے خلاف شروع ہونے والی یہ کشمکش بالآخر پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ مارچ 2019 میں جب انہیں کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کا موقع ملا تو انہوں نے ان سے بھی کہا تھا کہ اگر مستقبل میں عمران خان کو کسی مشکل کا سامنا ہو تو انہیں عمران خان کے خلاف کسی دوسرے فریق کا مہرہ نہیں بننا چاہیے۔ انکے مطابق یہ مشورہ اس وقت بھی دیا گیا جب عمران خان کے ساتھ ان کی اپنی شدید ناراضی موجود تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی انہوں نے ان کے قریبی ساتھیوں نعیم الحق اور سیف اللہ نیازی سے ملاقاتیں کیں اور انہیں مشورہ دیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کشیدگی کم کی جائے، کیونکہ سیاسی مخالفین بھی جمہوری نظام میں ایک طرح سے حفاظتی بند کا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ان کی یہ تجاویز اس وقت قبول نہیں کی گئیں۔
کیا شہباز کی اتحادی حکومت مدت پوری کرے گی ؟
حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ 2021 کے آخر اور 2022 کے آغاز میں انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت کے بعض اہم رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور انہیں مشورہ دیا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشمکش سے خود کو دور رکھا جائے اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے گریز کیا جائے۔ تاہم ان کے بقول ان کی یہ کوششیں بھی بے نتیجہ رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2022 سے وہ مسلسل یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے عوام، قومی وسائل اور ریاستی قوت کے درمیان ہم آہنگی درکار ہے۔ ان کے مطابق جب تک عوام، ملکی وسائل اور ریاستی قوت ایک سمت میں نہیں ہوں گے، ریاست مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔
حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کے سیاسی اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں عمران کو سیاسی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھ کر ملک کو آگے لے جانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ان کے بقول گزشتہ کئی برس سے وہ بار بار اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ملک کے بڑے سیاسی فریقوں کے درمیان مفاہمت کے بغیر سیاسی اور معاشی استحکام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
