عمران خان کا دوغلہ چہرہ کیسے بے نقاب ہوا؟

وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل میں چینی سفیر کی موجودگی میں ایک خود کش کار بم دھماکے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جیتی ہوئی جنگ ہارنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اسی وزیراعظم کا بیان ہے جس کی حکومت نے اس خود کش دھماکے سے دو روز پہلے ایک شدت پسند تنظیم تحریک لبیک کو دہشت گرد قرار دے کر پابندی لگانے کا باوجود نہ صرف اسکے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کیے بلکہ اس بیشتر مطالبات بھی تسلیم کیے۔ وزیراعظم کی کنفیوژن کا یہ عالم ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کی حکومت اور تحریک لبیک کے مقاصد ایک ہیں لیکن بس طریقہ کار میں اختلاف ہے۔
کپتان حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹے سے مذہبی گروہ کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے بعد عمران خان نہ جانے کس منہ سے قوم کو دہشت گردی کے خلاف جیتی ہوئی جنگ نہ ہارنے کے حوالے سے وارننگ دے رہے ہیں حالانکہ خود ان کی حکومت یہ جنگ ہارنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے علاوہ جس ایک گروہ نے تحریک لبیک کے ساتھ باقاعدہ تحریری طور پر اظہار یک جہتی کا اعلان کیا تھا، وہ تحریک طالبان پاکستان تھی۔ اسی گروہ نے کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کے خود کش حملہ آور نے سیرینا ہوٹل کے کار پارکنگ ایریا میں اپنی کار سمیت خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس حملہ میں پانچ افراد جاں بحق اور درجن بھر زخمی ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ حملہ سیرینا ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے چین کے سفیر اور وفد کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے چینی عہدیدار اس دھماکے میں بچ گے۔
پاکستان مسلسل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کم سہی لیکن دہشت گردی کے واقعات تسلسل سے ہوتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ سانحہ کے جو ٹوئٹ پیغام میں بھی دہشت گردی ختم کرنے کا دعویٰ دہرایا ہے۔ عمران خان نے لکھا ہے کہ ’ مجھے گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے قابل مذمت اور بزدلانہ دہشت گرد حملہ میں ہونے والے جانی نقصان پر شدید دکھ ہے۔ ہماری قوم نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ہم دوبارہ اسے سر نہیں اٹھانے دیں گے۔ ہم تمام اندرونی اور بیرونی خطروں سے چوکنا ہیں‘۔ یاد رہے کہ یہ بیان حکومتی شخصیات کی طرف سے مذمت کرنے کا سکہ بند طریقہ ہے جسے سنتے سنتے اہل پاکستان نے ہزاروں جنازے اٹھائے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب ان عوامل پر غور کیا جائے گا جو اسے پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ریاست اور حکومت جب تک مذہب کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتی رہے گی تب تک شدت پسند عناصر اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی کے دورے وائرس سے محفوظ بنانا ہے تو وزیر اعظم عمران خان کو منافقت چھوڑ کر کسی انتہا پسند گروہ کی خوشامد میں اس کے اور اپنے مقاصد میں مماثلت تلاش کرنے کی بجائے یہ کہنے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑے گا کہ خارجہ معاملات کسی ایک گروہ کے دباو پر طے نہیں کئے جاسکتے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ نہ تو انکی حکومت یہ اصولی مؤقف اپنا سکی اور نہ ہی دباو لینے سے بچ سکی۔ عمران حکومت نے تو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک شدت پسند مذہبی تنظیم کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کے باوجود اسی کے دباو پر قومی اسمبلی میں ایک ایسی قرارداد لانے کا کارنامہ بھی سر انجام دے دیا جس کا تعلق ملک کی خارجہ پالیسی سے تھا۔ یہ فیصلہ دنیا کی سفارتی تاریخ میں ایک افسوسناک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اب کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان یورپی ملکوں بالخصوص فرانس کو مراسلوں کے ذریعے رسول پاکﷺ سے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کے بارے میں مطلع کریں گے۔ عمران خان جوش بیان میں پاکستانی عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ یورپ میں توہین رسالت کے واقعات ’لاعلمی‘ کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ یا تو وزیر اعظم اپنی اصلاح کر لیں یا وزارت خارجہ سے اس موضوع پر بریفنگ لے لیں کیوں کہ ان کی معلومات ناقص اور غلط ہیں۔ یورپ میں توہین مذہب کو آزادی اظہار کی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی نظریہ ان ملکوں کے جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ لہٰذا یورپ پاکستان یا تمام مسلمان ملکوں کے کہنے پر اس اصول سے دست بردار نہیں ہوگا۔ عمران خان کو تو یہ سوچنا اور سمجھنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں ہی کے خلاف اس قسم کی اشتعال انگیزی دیکھنے میں آتی ہے، ہندوؤں، سکھوں یا دوسرے عقائد کی مذہبی علامات کی یوں تضحیک نہیں کی جاتی۔ ناقدین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے شدت پسندی کا راستہ اپنا لیا اور یورپ میں کئی افراد کو قتل کر دیا۔ ان حالات میں جب حکومت پاکستان کالعدم قرار دی گئی شدت پسند مذہبی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کرتی ہے تو دنیا پاکستان کو بھی دہشت گردوں کا ہمدرد تو سمجھے گی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ حقیقت سے آنکھیں پھیر لینے سے سچائی تبدیل نہیں ہوجاتی۔ اس تفہیم کو بدلنے کے لئے ہمیں اپنی تنگ نظری کے حصار کو توڑنا ہوگا۔ دنیا کسی ایسے ملک کو دہشت گردی کے سامنے دیوار نہیں مانے گی جہاں کی حکومت تین روز تک تشدد کرنے والے ایک گروہ کی تحسین پر مجبور ہو، اس کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک غیر ملکی سفیر کی ملک بدری پر قومی اسمبلی میں بحث پر آمادہ ہو جائے۔ ایسے ملک کو کیوں کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ناقابل تسخیر قلعہ مانا جائے گا؟
