افغانستان سے ایک حملہ ہوا تو جواب میں 10 پاکستانی حملے ہوں گے

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے افغان حکام پر واضح کر دیا ہے کہ اب اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر ایک حملہ ہوگا تو اس کے جواب میں پاکستانی فضائیہ افغان سرزمین پر کم از کم 10 فضائی حملے کرے گی کیونکہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
عباس ناصر انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ پاک افغان تعلقات اُس دن سے بگڑتے چلے گئے جب آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد کابل کے سرینا ہوٹل کی لابی میں فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ ’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا’۔ تب تک افغان طالبان دوبارہ اقتدار میں آ چکے تھے کیونکہ اشرف غنی حکومت کی افواج نے بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے تھے اور ان کے رہنما ملک چھوڑ کر فرار ہوچکے تھے۔
عباس ناصر کہتے ہیں کہ فیض حمید کا فکر نہ کرنے کا مشورہ بہت ذیادہ غیر حقیقت پسندانہ تھا۔ اس سے پہلے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان میں روسی افواج کے کے بعد اسی طرح کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائی تھی جس کا خمیازہ پاکستانی قوم اج دن تک بھگت رہی ہے۔ تب پاکستان نے امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر انتہائی مذہبی عقائد کے حامل جنگجوؤں کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنے اور تربیت دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس ایک غلط فیصلے نے پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا کر دیے۔ افغان جہاد کے نتیجے میں پاکستان کو تین بڑے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلا یہ کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی زور پکڑ گئی، دوسرا منشیات کی لعنت معاشرے میں سرائیت کر گئی اور تیسرا کلاشنکوف کلچر نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔
عباس ناصر کہتے ہیں مجھے یاد ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی یونیورسٹیز کے کیمپسز میں یہ کہتے ہوئے احتجاج کرتے تھے کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں ہے اور ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ مگر ہمیں ‘سوویت ایجنٹ ’ قرار دے دیا جاتا تھا اور اُس وقت کی ضیا الحق نواز اسلامیہ جمعیتِ طلبہ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا تھا جو فوجی آمر کے شانہ بشانہ، مکمل طور پر اس غیرملکی فنڈنگ سے چلنے والے، مسلح اور بیرونی حمایت یافتہ ‘جہاد’ کے حق میں تھی۔ اگرچہ آج کئی سابق سینئر فوجی افسران اس حقیقت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں مگر 198 کے جینیوا معاہدوں کے بعد سوویت انخلا کے وقت ’سٹریٹجک ڈیپتھ‘ کا معروف تصور بارہا سننے کو ملتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر خاصا تنگ ہے اور بھارت کے برعکس بعض علاقوں میں کم رسائی رکھتا ہے تو وہ افغانستان کی سرزمین کو دفاعی سرزمین کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان نے متعدد بار شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں بھارت ملوث ہے۔ یہ مؤقف بظاہر درست بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر ہم اسے درست تسلیم کر لیں تو پھر یہ ہمارے کئی دیرینہ قومی مفروضوں کو خود ہی غلط ثابت کر دیتا ہے خاص طور پر یہ مفروضے کہ پہلے سوویت یونین اور پھر امریکی افواج کے خلاف جنگ میں افغانون کی حمایت کرنے سے پاکستان کو علاقائی تحفظ، دوستانہ ہمسایہ یا سٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے۔
عباس ناصر کہتے ہیں کہ پائیدار دوستی کے بجائے اقتدار میں آنے والے طالبان نے اپنے نظریاتی بھائیوں یعنی تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کیا کیونکہ دونوں ایک جیسے جہالت پر مبنی انتہا پسند نظریات کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں عوام اور بہادر فوجیوں کو شہید کیا گیا۔ رواں سال موسمِ گرما میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب ملنے کے بعد مودی سرکار نے افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے مئی کے مختصر پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے فوجی و نیم فوجی اہلکاروں پر دہشتگرد حملوں میں قابلِ ذکر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان حملوں میں فوجی اور پولیس اہلکار بڑی تعداد میں شہید کیے جا رہے ہیں، ایس میں پاکستان کے پاسبجوابی فوجی کارروائی خصوصا فضائی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہو سکتے تھے۔
عباس ناصر کہتے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سٹریٹیجک ڈیپتھ کی غیر دانشمندانہ پالیسی اب غلط ثابت ہو چلی ہے۔ پاکستان نے اس پالیسی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ 2008 سے 2016 کے دوران فوجی آپریشنز سے پاکستان نے طالبان کے خلاف میدان جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کیں وہ سب مذاکرات کی نذر کر دی گئیں۔ عمران کے دور حکومت میں ٹی ٹی پی کے جنگجووں کو ہتھیاروں سمیت واپس آنے کی اجازت دی گئی تاکہ ان کے غیض و غضب سے بچا جا سکے۔ لیکن ہوا اسکے الٹ اور انہوں نے دوبارہ بندوق کے زور پر اپنے جہالت پر مبنی عقائد دوسروں پر مسلط کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
عباس ناصر کے مطابق پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کا تعلق افغان طالبان کے اندرونی تناؤ سے ہے۔ اس وقت افغانستان کے حکمران طالبان دو بڑے دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ طالبان کے پاکستان مخالف قندھاری گروپ کی قیادت ملا محمد عمر کے صاحبزادے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کر رہے ہیں جبکہ طالبان کے پرو پاکستان گروپ کے لیڈر حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور وزیر داخلہ کمانڈر سراج الدین حقانی کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستانی سرزمین پر تحریک طالبان کے جنگجوؤں کی جانب سے ہونے والے زیادہ تر حملے ایسے افغان سرحدی علاقوں سے کیے گئے ہیں جو کہ سراج الدین حقانی نیٹ ورک کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔
عباس ناصر کے مطابق یہ دو میں سے کسی ایک بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یا تو حقانی نیٹ ورک افغانستان پر اپنا کنٹرول کھو رہا ہے یا یہ خفیہ طور پر پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے دوہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ ماہرین اس پر جو بھی رائے رکھتے ہوں، حالیہ صورتِ حال پاکستان کے لیے کسی طور بھی امید افزا نہیں۔ لوگ بار بار افغانوں کی غیرملکی حملہ آوروں سے نمٹنے کی تاریخ کا حوالہ دے رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ پچھلی دہائیوں میں واقعی انہوں نے غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین سے بےدخل کیا ہے مگر یہ بات اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا جس میں کہ پاکستان کا کردار اہم ترین تھا۔
ہاد رہے کہ اگر سی آئی اے کی سرپرستی اور آئی ایس آئی کی مدد سے روسی افواج کا بھرپور مقابلہ نہ کیا جاتا تو سوویت ریڈ آرمی کو افغان سر زمین سے نکالنا ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح امریکا نے بھی فوجی جانی نقصان کے ساتھ ساتھ، مالی اعتبار سے بھاری قیمت چکائی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی رقم امریکا نے افغانستان میں فوجیں رکھنے پر خرچ کی، اگر اس کا صرف ایک تہائی بھی مختلف گروہوں، سرداروں اور دھڑوں کو خریدنے میں لگا دیتا تو شاید اس کے لیے قیامِ امن زیادہ آسان ہوتا۔ لیکن امریکا اکثر پینٹاگون کی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے۔
عباس ناصر کے مطابق پاکستان کی افغانستان پر حملہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں لیکن اگر افغان طالبان یونہی اپنی سر زمین سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والی ٹی ٹی پی کو لگام دینے سے اظہار معذوری کرتے رہیں گے تو پاکستان بھی مجبوراً اپنی فضائی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ان شرپسندوں اور گروہوں کے خلاف منظم حملے جاری رکھے گا جو سرحد پار سے آ کر ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔
دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے افغان نمائندوں پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں سہولت کاری کی انہیں بھاری قیمت چکانا ہوگی اور ایک دہشت گرد حملے کا جواب 10 فضائی حملوں سے دیا جائے گا۔ اب پاکستان اس درد کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔
