آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی، پاکستان نے پھر امریکہ سے مدد مانگ لی

پاکستان کے لئے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ محدود ہوتے جارہے ہیں۔ملکی بگڑتی معاشی صورتحال اور ہر گزرت دن کے ساتھ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر پاکستان نے ایک مرتبہ پھر امریکا سے درخواست کی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو اسٹاف لیول معاہدے پر قائل کرنے میں پاکستان کی مددکرے۔

 وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے امریکی سفارتکار اینڈریو شوفر نے ملاقات کی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کو درپیش تجارتی و اقتصادی چیلنجز پر گفتگو کی اور اقتصادی رابطوں کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔دریں اثنا بدھ کو پاکستان نے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کو قائل کرنے کےلیے امریکا سے مداخلت کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے کرنے کےحوالے سے آگے بڑھا جاسکے حالانکہ اسلام آباد فنڈ کی تجویز کردہ تمام بڑی شرائط نافذ کرچکا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بالترتیب دو ارب ڈالر اور ایک ارب ڈالر کے قرض کی توسیع کی تصدیق کر دی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اس سلسلے میں رسمی معاہدے جلد طے پاجائیں گے۔ باقی ماندہ دوارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ میں سے 45 کروڑ ڈالر ورلڈ بینک اپنے رائیز پروگرام ، 25 کروڑ ڈالر ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے ملنے کی توقع ہے ۔اس طرح مجمودی طور پر ورلڈ بینک اور اے آئی آئی بی سے 70 کروڑ ڈالر کا قرض جون 2023 کے آخر تک مل سکتا ہے۔جبکہ باقی ماندہ 1.3 ارب ڈالر کمرشل بینکوں سے اس وقت لے لیے جائیں گے جب پاکستان اور آئی ایم ایف کےمابین اسٹاف لیول معاہدہ طے پاجائے گا۔ پاکستان نے جولائی سے دسمبر کے پہلے نصف کے دوران کمرشل بینکوں کو 5 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں ان میں سے دو ارب ڈالر چینی کمرشل بینک سے دوبارہ قرض مل سکتا ہے۔ جبکہ باقی ماندہ تین ارب ڈالر آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول ایگریمنٹ معاہدہ طے ہونے کے بعد حاصل کیاجاسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کی فوری بحالی کے امکانات معدوم ہیں۔اس کے باوجود 30جون 2023ء تک پروگرام کی مقررہ ڈیڈ لائن گزرنے سے قبل ہی اس کے احیاء کے امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔

 خیال رہے کہ ساڑھے چھ ارب ڈالرز کی تو سیع شدہ فنڈ سہولت کے تحت گیاہواں جائزہ 3 مئی کو لاگوہوچکا ہے جبکہ التواء شدہ نواں جائزہ تاحال نا مکمل ہے ۔ دسواں جائزہ گزشتہ3فروری کو ہی واجب ہوگیا تھا جو پورا ہی نہ ہوا جس کیلئے آئی ایم ایف اور پاکستان ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں ۔اعلیٰ حکومتی ذرائع نے دی نیوزکو بتایاہے کہ یہ معاملہ گزشتہ 80دنوں سے زیر التوا ہے ۔

آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ اسے بیرونی فنانسنگ ضروریات کی تصدیق کا انتظارہے ۔ اس کے باوجود کہ پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے تین ارب ڈالرز بیرونی سرمایہ کاری کی ضمانت دے دی ہے ۔ تا ہم آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک کی جانب سے دو ارب اور ایشین انفرااسٹر کچر انوسٹمنٹ بینک کی جانب سے 90کروڑ ڈالرز فراہمی کی تحریری توثیق چاہتا ہے ۔اس سے قبل بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اسٹاف لیول پر سمجھوتے سے گریزاں ہے ۔2سے 3ارب ڈالر کی اضافی بیرونی فنانسنگ کے بغیر آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے پر تیار نہیں ‘.

دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ پاکستان کے ساتھ سیاست کررہاہے ‘اسٹاف لیول معاہدہ بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا ‘یہ سیاسی کھیل کے سواکچھ نہیں ‘رابطہ کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ نواں جائزہ نا مکمل ہے ۔جبکہ زرمبادلہ ذخائر گھٹ کر محض4.4ارب ڈالرز رہ گئے ہیں۔

Back to top button