عمران خان کے مومی پر کیسے پگھلے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا یے کہ پاکستان میں پرندہ سازی کی صنعت ہمیشہ سے مستحکم رہی ہے، اور ہمارے عسکری کاری گر مصنوعی بال و پر موم سے جوڑ کر اقبال کے جعلی شاہین بناتے رہے ہیں، کبھی ایم کیو ایم، کبھی ٹی ٹی پی، کبھی کوئی سپاہ، کبھی کوئی لشکر۔ لیکن سب کے سب سورج کے اتنے نزدیک چلے گئے کہ ان کے مومی پر پگھل گئے اور وہ ہوا میں لوٹنیاں کھاتے سمندروں میں جا گرے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ سب کاری گری بھائی لوگوں کو مہنگی پڑی مگر انہوں نے ہار نہ مانی۔ سو انہوں نے عمران خان خان کا تجربہ بھی کر ڈالا جو انہیں پچھلے تمام تجربات سے مہنگا پڑا ، ہوا یوں کہ جعلی شاہین سورج کے بالکل سامنے آ گیا، یعنی چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو۔ عمران خان آفتابِ 9 مئی تک یونہی نہیں آپہنچا تھا، اس کے پیچھے ایک طویل پرواز تھی۔ یہ پرواز میر جعفر، میر صادق سے شروع ہو کر جانور اور غدار سے ہوتی ہوئی کور کمانڈر ہائوس پہنچی تھی۔ اپنے حواریوں کے دل میں ادارے کے خلاف غصہ بھرا گیا، نفرت ڈالی گئی۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لئےکسی آڈیو لیک میں ہونے والی منصوبہ بندی کا منظرِ عام پر آنا لازم نہیں ہے، یہ سب تو کھلے عام ہو رہا تھا،ذہن سازی کی جا رہی تھی، ہزاروں حواریوں کو مومی پر لگائے جا رہے تھے، سب کے سب اُڑ رہے تھے، غول در غول، سب کے سب سورج کی سمت محوِ پرواز، حتیٰ کہ نو مئی کا دن آن پہنچا، اور سب کےبال و پر جل کر راکھ ہو گئے، اِکرس قلابازیاں کھاتا ہوا اپنے لشکر سمیت سمندروں میں غرقاب ہو گیا۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ تو طے ہے کہ اس شاہین سازی کے کھیل نے ملک و قوم کے پر کاٹ دیے ہیں، آئین، قانون، انسانی حقوق، سب کے سب، پر کٹے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کو ایسے بڑے بڑے جہازی سائز کے سیاسی و عدالتی پر باندھے گئے کہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر اس کوقابو میں لانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔ اگر عدالتیں قانون کو موم کی ناک نہ بناتیں، ضمانتوں کی آ ڑھت کا کام نہ شروع کرتیں تو یہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے تھے۔ کیس چلتے اور اپنے منطقی انجام تک پہنچتے، مگر یہ رستہ روک دیا گیا، لہٰذا جب ملٹری کورٹس رو بہ عمل آئیں تب تک رائے عامہ تیار ہو چکی تھی کہ اس کے سوا اب کوئی رستہ نہیں ہے۔ بلا شبہ، انسانی حقوق کی موجودہ ناقابلِ رشک صورتِ احوال کی بنیادی ذمہ داری عدالتوں میں بھنبھناتے ہوئے برادرانِ اِکرس پر عائد ہوتی ہے۔
حماد کے مطابق عمران خان کی کہانی کا ایک ہی سبق ہے، اور وہ یہ کہ موم کے پروں والے سورج کے نزدیک نہیں جایا کرتے، اسی لئے نواز شریف احتیاطً پانچ فٹ سات انچ کی بلندی سے اوپر اُڑنے کا رسک نہیں لیتے۔ حماد غزنوی یاد دلاتے یاد ہیں کہ اس سے پہلے نواز شریف بھی دہکتے ہوئے سورج کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب وہ زندان میں قید تنہائی کاٹ رہے تھے تو بھائی لوگوں کے ایک بے بدل گروہ نے عمران کو بتایا کہ آج سے ہم تمھارے لیے موم کے ایسے پر بنائیں گے جنہیں لگا کر تم آسمانِ سیاست پر محوِ پرواز ہو جائو گے، تمہارے سب حریف پیچھے رہ جائیں گے، نیچے رہ جائیں گے۔اور پھر عمران خان کو نصیحت کی گئی کہ بس ایک خیال رکھنا کہ ہماری ہم سری کی خواہش میں آسمانوں کی سمت اُڑان مت بھرنا کیوں کہ ہم نے راہ میں سورج نصب کر رکھا ہے جس سے تمہارے مومی پر پگھل جائیں گے۔اور پھر ہم نے دیکھا کہ خان نے ہو بہو وہی دیو مالائی غلطی کی اور مرغِ بے بال کی طرح تڑپتا، پھڑکتا ہوا گرتا چلا گیا حتیٰ کہ بحر ِ ظلمت میں غرقاب ہو گیا۔
