سائفر کیس ،عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔خصوصی عدالت کے جج نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے گزشتہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی۔سائفر کیس کی منگل کے روز ہونے والی سماعت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی جس کے بعد عدالت نے فرد جرم کی کارروائی اگلی سماعت تک مقرر کردی۔
گزشتہ سماعت پر چالان کی نقول تقسیم نہ ہونے پرفرد جرم کی کارروائی نہیں ہوسکی تھی تاہم عدالت نے ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کردی اور کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شیر افضل مروت نے کہا کہ عدالت کو بتایا کہ بغیرچالان نقول فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجرہ نما کمرے میں رکھا گیا ہے، ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، انہیں 9 مئی واقعات میں پھنسانے کی کوشش ہورہی ہے، 22 افراد کے ذریعے بیان حلفی لیے گئے، چیرمین پی ٹی آئی کے ملٹری کورٹ ٹرائل کی کوشش کی جارہی ہے، ہم جیل میں سماعت کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں۔
خیال رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو
سانحہ 9مئی،اسد عمر،عمران خان کی بہنوں کی ضمانت میں توسیع
لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔
