پی ٹی آئی نےپھر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی درخواست کردی

 پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں نے صدر عارف علوی سے رابطہ کرکے انہیں سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کرانے کی درخواست کی ہے۔پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر علوی اصولاً اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ایسا کرینگے یا نہیں۔9مئی کے واقعات کے بعد جن حالات واقعات کے بعد جن حالات کا سامنا پی ٹی آئی کو کرنا پڑا ہے اس کی وجہ سے پارٹی کے اندر بہت ہی زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے تاہم پارٹی کو عام سیاست میں دوبارہ واپسی کا موقع نہیں مل رہا۔

پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ 9؍ مئی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی طے شدہ پالیسی چاہے کچھ بھی ہو لیکن پارٹی رہنما اُس دن پیش آنے والے واقعات اور پارٹی کارکنوں کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری پر دکھائے گئے رد عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔پی ٹی آئی کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ کاش ایسا کچھ بھی نہ ہوا ہوتا، 9؍ مئی کے واقعات نے پارٹی کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

پارٹی کی نمائندگی کیلئے اب بھی ٹی وی چینلز پر نظر آنے والے پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے دی نیوز سے بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی کہ حال ہی میں انہوں نے صدر علوی سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ صدر علوی اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن علی محمد خان کو یقین نہیں کہ صدر علوی یہ قدم اٹھائیں گے یا نہیں۔

آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر نے یہ قدم اٹھایا تو ممکن ہے انہیں سیاسی جماعتوں (بالخصوص پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں) اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مثبت جواب نہ ملے۔

ہفتوں قبل عمران خان نے اپنے ایک وکیل کے ذریعے اٹک جیل سے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کی پیشکش کا پیغام بھیجا تھا لیکن انہیں کسی کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے رابطہ کرنے پر کہا کہ پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرنے کا پی ٹی آئی کا مؤقف کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ صدر علوی پی ٹی آئی کی جانب سے بات چیت کی درخواست کے بعد ڈائیلاگ شروع کرائیں گے یا نہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر علوی سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور ایک یا دو دن میں ان سے دوبارہ ملاقات ہوسکتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ یہ عمران خان تھے جنہوں نے خود سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا کہا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اب 9 مئی کو ہونے والے واقعات پر پچھتا رہے ہیں تو رؤف نے کہا کہ سب سے پہلے 9 مئی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی پالیسی یہ ہے کہ معاملے کی تحقیقات ایک آزاد جوڈیشل کمیشن سے کرائی جائے تاکہ ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور کوئی بھی پاکستان کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانا نہیں چاہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا، اس نے انہیں بھی تکلیف دی ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ جب سے انہوں نے اپنی موجودہ ذمہ داری سنبھالی ہے، انہوں نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو قانون اور آئین کی حدود میں رہ کر سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

اسی دوران پارٹی ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی شدت سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے اختلافات دور کرنا چاہتی ہے لیکن 9 مئی کے واقعات نے تحریک انصاف کے

ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.30فیصداضافہ

لیے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔

Back to top button