فوج مخالف تنظیموں نے حملوں کے لیے نئی سٹریٹجی اپنا لی

ریاست مخالف دہشت گرد تنظیموں نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی دہشت گرد کاروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کر لی ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف دہشت گرد اب زیادہ منظم انداز میں دو مرحلوں پر مشتمل حملوں کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا اور امدادی نفری کو نشانہ بنانا ہے۔ اس حکمت عملی کے مطابق پہلے مرحلے میں دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے کسی مرکز پر حملہ کرتے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے روانہ ہونے والی کمک کو بھی نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔
اگرچہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں پولیس کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس محکمہ ابھی تک اپنی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کا مکمل ازسرنو جائزہ لینے اور نئی صورتحال کے مطابق واضح عملی رہنما اصول مرتب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی کے تحت پہلے مرحلے میں کسی پولیس چوکی، تھانے یا سکیورٹی تنصیب پر اچانک حملہ کیا جاتا ہے تاکہ وہاں موجود اہلکار مصروفِ دفاع ہو جائیں۔ اسی دوران دہشت گردوں کا دوسرا گروپ ان تمام راستوں پر پوزیشن سنبھال لیتا ہے جہاں سے اضافی پولیس نفری یا کمک پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔ جب امدادی دستے حملے کی اطلاع ملنے پر روانہ ہوتے ہیں تو انہیں راستے میں کم از کم تین بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سڑک کنارے نصب بارودی سرنگیں، گھات لگا کر کیے جانے والے حملے اور ایسے کواڈ کاپٹر ڈرون شامل ہیں جو فضا سے دھماکا خیز مواد گراتے ہیں۔
ان حالات میں پولیس کو فوری ردعمل کا مناسب موقع نہیں ملتا اور امدادی نفری خود حملے کی زد میں آ جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد کمک کے لیے روانہ ہونے والی ٹیموں پر مسلسل گھات لگا کر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو پولیس کے ردعمل کا طریقہ کار پہلے ہی سے معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے امدادی دستے خود ان کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 16 پولیس اہلکار، جن میں تین ڈی ایس پیز بھی شامل ہیں، دہشت گردوں کی اسی دو مرحلہ وار حکمت عملی کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان تمام واقعات میں حملے کا اصل نشانہ بننے والے اہلکاروں کی مدد کے لیے روانہ ہونے والی نفری بعد میں دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آئی۔ 29 جولائی کو خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں بھی اسی نوعیت کا بڑا حملہ ہوس۔ دہشت گردوں نے پہلے پولیس چیک پوسٹ پر دھاوا بولا اور بعد ازاں وہاں پہنچنے والی اضافی نفری کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار شہید جبکہ 28 دیگر زخمی ہوگئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا تیسرا بڑا واقعہ تھا جس میں سب سے زیادہ جانی نقصان ابتدائی حملے میں نہیں بلکہ بعد میں پہنچنے والی امدادی نفری کو اٹھانا پڑا، جس نے دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا۔
اس سلسلے کا پہلا بڑا واقعہ 15 جنوری 2023 کو پیش آیا تھا، جب پشاور کے نواحی علاقے سربند پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کے بعد مدد کے لیے روانہ ہونے والے ڈی ایس پی سردار حسین اپنے دو محافظوں سمیت راستے میں نصب آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہوگئے تھے۔ اسی طرح 30 مارچ 2023 کو لکی مروت میں صدر پولیس اسٹیشن کی مدد کے لیے جانے والے تازہ دم دستے کو پیر والا روڈ پر بارودی دھماکے کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ڈی ایس پی اقبال مومند اور تین کانسٹیبل شہید ہوگئے تھے۔
سینئر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود مناسب تربیت، منصوبہ بندی اور جدید جنگی حکمت عملی سے واقفیت کا فقدان مسلسل قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت گوریلا جنگ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جو نہ صرف اچھی تربیت یافتہ ہے بلکہ جدید حربوں سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ ان کے بقول مسئلہ ہتھیاروں کی کمی نہیں بلکہ جدید جنگی تربیت کی کمی ہے کیونکہ بیشتر تربیتی مراکز میں اب بھی روایتی پریڈ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید جنگی آلات اور ٹیکنالوجی دستیاب ہونے کے باوجود بہت کم اہلکار ان کے مؤثر استعمال سے واقف ہیں، جس کے باعث جدید وسائل سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔
ہنگو حملے کی مثال دیتے ہوئے متعلقہ افسر نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ پر بھاری اسلحہ اور ڈرون سمیت جدید آلات موجود تھے، تاہم دہشت گردوں نے سنائپر فائرنگ کے ذریعے اہلکاروں کو ایسی پوزیشن لینے ہی نہیں دی جہاں سے وہ مؤثر جوابی کارروائی کر سکتے۔ اس افسر نے انکشاف کیا کہ ضلعی پولیس افسر نے کمک کے لیے روانہ ہونے والے دستے کو بارہا چیک پوسٹ کی جانب نہ بڑھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اہلکاروں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا اور اینٹی ڈرون گنز ساتھ ہونے کے باوجود بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کے اندر مزید محکمے بنانے کے بجائے جدید جنگی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ صرف روزانہ کی پریڈ سے ایسے تربیت یافتہ دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں۔
دوسری جانب سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کئی برسوں کی جنگی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ان کے پاس موجود ہتھیار جدید ہیں، تاہم وہ افغانستان میں نیٹو افواج کے زیر استعمال انتہائی جدید ہتھیاروں کے معیار تک نہیں پہنچتے، اس لیے اصل مسئلہ پولیس کی تیاری اور حکمت عملی کا ہے، نہ کہ صرف اسلحے کا۔
سابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اور سابق سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور اختر علی شاہ کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ریاستی ادارے اب بھی ردعمل کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پیشگی اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گرد منظم انداز میں پولیس چوکیوں تک پہنچ سکتے ہیں تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی نقل و حرکت پہلے سے کیوں نہیں بھانپ پاتے۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا سپلائی نیٹ ورک اور بھرتی کا نظام اب بھی فعال ہے۔
اختر علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا ایک پہلو افغانستان سے ضرور جڑا ہوا ہے، تاہم اس کی دوسری کڑی پاکستان کے اندر موجود ہے، جبکہ اصل ناکامی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے نظام میں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے تجزیاتی ونگ کی رپورٹس کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ان سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہیے۔
