ڈنڈے اور بندوق سے پاکستان چلانا ممکن کیوں نہیں؟

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کو بدلنے کے لیے پاکستان کو مزید آئینی ترامیم کی نہیں بلکہ ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس قومی مکالمے کی کامیابی کے لیے پارلیمنٹ کا مضبوط ہونا اور آزادیِ اظہار کا تحفظ ناگزیر ہے، کیونکہ یہی آئین کا بنیادی تقاضا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈنڈے اور بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ صرف جمہوریت کے راستے پر چل کر ہی استحکام حاصل کر سکتا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حامد میر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے اور کیا تمام مسائل کا حل صدارتی نظام کے نفاذ میں پوشیدہ ہے؟ ان کے بقول یہ سوالات نئے نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے آغاز سے ہی مختلف ادوار میں زیر بحث رہے ہیں اور ہر بار ان کے نتائج قوم کے سامنے آ چکے ہیں۔

حامد میر کے مطابق پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1956ء کا آئین منظور کیا تھا جس کے تحت ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام نافذ کیا گیا، تاہم یہ نظام زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اکتوبر 1958ء میں گورنر جنرل اسکندر مرزا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل ایوب خان نے مل کر پہلا مارشل لا نافذ کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف آئین منسوخ کر دیا گیا بلکہ پارلیمانی نظام بھی ختم ہو گیا۔

ان کے مطابق اگرچہ اس وقت بیشتر سیاسی جماعتوں نے 1956ء کے آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا، لیکن جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر مکمل اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور 1962ء میں ملک پر صدارتی نظام نافذ کر دیا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ جنوری 1965ء کے صدارتی انتخابات میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے آئیں اور انہوں نے پارلیمانی نظام کی حمایت کی۔ ان کے بقول اس وقت فیلڈ مارشل ایوب خان نے فاطمہ جناح پر بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی عائد کیا، جبکہ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان اور خواجہ ناظم الدین، بلوچستان میں غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری اور عطا اللہ مینگل، خیبرپختونخوا میں ولی خان اور پنجاب میں نوابزادہ نصراللہ خان سے لے کر مولانا مودودی تک مختلف سیاسی رہنما مادر ملت کی حمایت کر رہے تھے۔

ان کے مطابق ان انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے فاطمہ جناح کو شکست دی گئی، جس کے نتیجے میں صدارتی نظام تو کامیاب قرار پایا لیکن پارلیمانی جمہوری روایت کو نقصان پہنچا۔
حامد میر کے مطابق 1969ء میں جنرل یحییٰ خان نے اپنے ہی لائے ہوئے صدر جنرل ایوب خان کو اقتدار سے ہٹا دیا اور بعد ازاں 1970ء کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت ملنے کے باوجود اقتدار منتقل نہ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے فوجی آپریشن، خانہ جنگی، پاک بھارت جنگ اور بالآخر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں انتہائی سنگین نتائج پیدا کیے۔

وہ کہتے ہیں کہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن کے تعاون سے 1973ء کا متفقہ آئین تشکیل دیا، جس کے ذریعے پاکستان ایک مرتبہ پھر وفاقی پارلیمانی نظام کی طرف واپس آیا، تاہم اس آئین پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ حامد میر کے مطابق اس دور میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی منتخب مخلوط حکومتوں کو مدت پوری کرنے کا موقع نہ ملا، نیپ پر پابندی عائد کی گئی، اپوزیشن قیادت کو جیل بھیجا گیا اور یوں پارلیمانی نظام کی روح کو نقصان پہنچا، جس کا نتیجہ 1977ء کے مارشل لا کی صورت میں سامنے آیا۔
ان کے مطابق جنرل ضیاء الحق نے گیارہ برس تک ایک ایسے صدارتی نظام کے ذریعے حکومت کی جس میں تمام اختیارات فوجی وردی میں ملبوس صدر کے پاس تھے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو وزیراعظم سے زیادہ اختیارات دے دیے گئے اور بعد ازاں انہی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پہلے محمد خان جونیجو، پھر بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور دوبارہ بے نظیر بھٹو کی حکومتیں مختلف ادوار میں برطرف کی گئیں۔

حامد میر کے مطابق 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا اور اگرچہ 2002ء میں انتخابات کروائے گئے، لیکن اصل اختیارات بدستور فوجی صدر کے پاس رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 2008ء میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد صدر آصف علی زرداری نے میثاقِ جمہوریت کے مطابق صدر کے اختیارات وزیراعظم کو واپس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ اس فیصلے کی مخالفت بھی ہوئی، تاہم بالآخر اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی اور یہ امید پیدا ہوئی کہ ملک میں جمہوری استحکام آئے گا، لیکن یہ امید پوری نہ ہو سکی۔

حامد میر اپنے تجزیے میں ایک ذاتی واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 2011ء میں اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ان سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور موجودہ پارلیمانی نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ حامد میر کے بقول انہوں نے اس مؤقف سے اختلاف کیا، جس پر دونوں کے درمیان تلخ گفتگو بھی ہوئی۔ وہ مزید کہتے کہ اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صدر کے اختیارات محدود ہو گئے، لیکن اس کے باوجود وزرائے اعظم محفوظ نہ رہ سکے۔ ان کے مطابق پہلے یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا، پھر نواز شریف بھی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے محروم ہوئے، جبکہ اسی دوران سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم پر بھی سخت تنقید کی جاتی رہی۔
حامد میر کے مطابق عمران خان کے دور حکومت میں بھی پارلیمانی نظام اپنی حقیقی روح کے مطابق کام نہ کر سکا اور بعد ازاں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی پارلیمنٹ پر ربڑ اسٹیمپ ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پارلیمنٹ نے بعض ایسے فیصلے بھی کیے جن سے پارلیمانی جمہوریت کمزور ہوئی، جن میں فوجی قیادت کو توسیع دینے اور پیکا ایکٹ 2025ء جیسے متنازع قوانین کی منظوری شامل ہے۔ حامد میر کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ فوجی آمروں کا نافذ کردہ صدارتی نظام پاکستان میں بارہا ناکام ہو چکا ہے، جبکہ موجودہ سیاسی اشرافیہ نے پارلیمانی نظام کو بھی اس کی اصل روح کے مطابق چلانے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ ان کے بقول سندھ سے بلوچستان تک اٹھارہویں ترمیم کے ثمرات پوری طرح دکھائی نہیں دیتے اور پنجاب و اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا مسلسل التوا بھی جمہوری نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تر کمزوریوں کے باوجود 1973ء کا آئین آج بھی پاکستان کی واحد متفقہ قومی دستاویز ہے، جسے تین مرتبہ معطل یا توڑا گیا مگر ہر بار بحال کر لیا گیا۔ ان کے مطابق اگر اس آئین پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جائے تو ملک کے بیشتر مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت نہ کسی نئے آئین کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی نئے نظام کا۔ ان کے بقول جو بھی اصلاحات کرنی ہیں وہ 1973ء کے آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کی جانی چاہئیں، کیونکہ اگر یہ متفقہ آئین بھی برقرار نہ رہا تو کسی نئے آئین پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

حامد میر سوال اٹھاتے ہیں کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد کیا واقعی ملک میں سیاسی استحکام آیا؟ ان کے مطابق پہلے صرف دو صوبوں میں بدامنی تھی، لیکن اب آزاد کشمیر تک میں خونریزی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پاکستان کو مزید آئینی ترامیم کے بجائے ایک جامع گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، جس میں تمام سیاسی قوتیں شریک ہوں، پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے، آزادیِ اظہار کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوری نظام کو مضبوط کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول پاکستان ڈنڈے اور بندوق سے نہیں بلکہ صرف جمہوریت سے ہی چل سکتا ہے۔

Back to top button