ایران امریکہ امن مذاکرات کی بحالی پاکستان کیلئے بڑا امتحان کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں آ گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی ثالث قرار دیے جانے کے بعد اسلام آباد کے سفارتی کردار کو نئی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، تاہم بیک چینل رابطوں، علاقائی مشاورت اور اعتماد سازی کی کوششوں نے مذاکرات کی بحالی کی نئی امید پیدا کر دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے ایک بار پھر خطے کو بڑے تصادم سے بچانے میں کامیاب ہو سکے گا؟

مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی اور مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے دوران پاکستان ایک مرتبہ پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اور مرکزی ثالث پاکستان ہے جبکہ قطر معاون کردار ادا کر رہا ہے۔ اس بیان نے ان قیاس آرائیوں کی نفی کر دی ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق ایرانی ترجمان کا یہ بیان نہ صرف پاکستان کی خاموش سفارتکاری کی توثیق کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی اشارہ دیتا ہے کہ بیک چینل رابطے مسلسل جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔

پاکستان کے سابق سفارتکار ضمیر اکرم کے مطابق ایران کی جانب سے پاکستان کے کردار کا اعتراف غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ تصدیق براہِ راست تنازع کے ایک اہم فریق کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مسلسل پس پردہ رابطوں کے ذریعے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ امریکی داخلی سیاست اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات مستقبل کی پیش رفت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

دفاعی امور کے ماہرین کا بھی خیال ہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کوششیں کیں بلکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔

پاکستانی دفتر خارجہ بھی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک بدستور برقرار ہے اور جب بھی دونوں فریق آمادہ ہوں گے، مذاکرات اسی طے شدہ سفارتی ڈھانچے کے تحت دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان مسلسل رابطوں نے بھی خطے میں سفارتی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی ہے۔ ان روابط کے بعد ایران اور ترکی کے درمیان بھی مشاورت ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی اہم ریاستیں جنگ کے بجائے سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پاکستان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ بیک وقت ایران، امریکا، سعودی عرب، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا ہے۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک ایسے قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لاتا ہے جس پر مختلف فریق اعتماد کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم تمام مثبت پیش رفت کے باوجود مذاکرات کی راہ میں کئی بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، سلامتی کی ضمانتوں اور اپنے خودمختار مؤقف پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایرانی جوہری پروگرام، خطے میں ایران کے کردار اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے۔ یہی بنیادی اختلافات کسی جامع اور پائیدار معاہدے کے حصول میں سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

اگر پاکستان ان اختلافات کے باوجود اعتماد سازی کا عمل جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو فعال رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ اسلام آباد کی عالمی سفارتی حیثیت بھی مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان کی خاموش سفارتکاری ایک مستقل امن معاہدے کی بنیاد بنتی ہے یا خطے کی پیچیدہ صورتحال ایک بار پھر مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار کر دیتی ہے۔

Back to top button