آبنائے ہرمز کی بحالی کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں جلد حل کر لیا جائے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں اور اسے جلد حل کر لیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جلد براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات ہوں گے اور تہران کے لیے یہ ایک ’’آخری موقع‘‘ ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، ایران کی درخواست پر بات چیت کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ جلد براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات متوقع ہیں۔

ٹرمپ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کل تک مکمل طور پر کھل جانی چاہیے، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہوں گے۔

برطانیہ سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، تاہم کسی بھی ملک کو یہ نہیں بتا سکتے کہ اسے اپنے داخلی معاملات کیسے چلانے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ امیگریشن یورپ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ اگر برطانیہ شمالی سمندر میں موجود تیل کے ذخائر سے بھرپور استفادہ کرے تو اسے سستی توانائی میسر آ سکتی ہے، جو ان کے بقول سیکڑوں برس تک کافی ہوگی۔

 

ایران امریکہ امن مذاکرات کی بحالی پاکستان کیلئے بڑا امتحان کیوں؟

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے خود ان سے رابطہ کر کے حملہ نہ کرنے اور معاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے الفاظ میں، ’’یہی حقیقت ہے اور سب اس سے آگاہ ہیں‘‘۔تاہم ایران اس سے قبل ایسے امریکی دعوؤں کو مسترد کر چکا ہے۔

Back to top button