آزاد کشمیر میں اقتدار کی راہ ہموار، مسلم لیگ (ن) اکثریت کے دہانے پر

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دو اہم مراحل مکمل ہونے کے بعد سیاسی منظرنامہ بڑی حد تک واضح ہو چکا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح برتری حاصل کرتے ہوئے حکومت سازی کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ اب تمام نظریں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونے والے آخری مرحلے پر مرکوز ہیں، جہاں کے نتائج نہ صرف نئی حکومت کی عددی طاقت کا تعین کریں گے بلکہ آئندہ اپوزیشن کی سیاسی حیثیت بھی واضح کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے پہلے دو مراحل مکمل ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے کی مضبوط ترین پوزیشن میں آ گئی ہے۔ میرپور ڈویژن، مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستوں کے نتائج نے انتخابی منظرنامے کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے اور اب آخری مرحلے میں پونچھ ڈویژن کی نشستیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق 45 جنرل نشستوں میں سے اب تک 30 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے، جن میں مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 45 جنرل نشستوں کے علاوہ خواتین، علما و مشائخ، ٹیکنوکریٹس اور اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) پونچھ ڈویژن میں بھی بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد اسے نہ صرف واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی بلکہ حکومت سازی کے لیے کسی اتحادی جماعت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔
اب تمام توجہ 10 اگست کو ہونے والے پونچھ ڈویژن کے انتخابات پر مرکوز ہے، جہاں 11 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں پونچھ ڈویژن ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا آیا ہے اور یہی مرحلہ نئی حکومت کی سیاسی طاقت کا آخری تعین کرے گا۔ مسلم لیگ (ن) اپنی برتری مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی انتخابی نتائج میں بہتری لا کر سیاسی مقابلہ سخت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی کامیابی غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ انتخابی ماحول پہلے ہی اس کے حق میں دکھائی دے رہا تھا۔ ان کے مطابق اگر تمام مراحل ایک ہی روز بھی منعقد ہوتے تو بھی مجموعی نتائج میں کوئی بڑی تبدیلی کا امکان کم تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) حکومت سازی کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کے سامنے سب سے بڑا امتحان ایکشن کمیٹی اور دیگر عوامی مطالبات سے نمٹنا ہوگا۔ نئی حکومت کو انتظامی استحکام، عوامی توقعات اور سیاسی دباؤ کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
انتخابی عمل کے دونوں مراحل مجموعی طور پر پرامن ماحول میں مکمل ہوئے۔ الیکشن کمیشن نے حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے، جبکہ مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستوں پر ووٹرز کی بھرپور شرکت نے جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کو بھی نمایاں کیا۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اقتدار سنبھالنے کی مضبوط ترین امیدوار بن چکی ہے، تاہم 10 اگست کے آخری مرحلے کے نتائج یہ طے کریں گے کہ نئی حکومت کتنی مضبوط اور اپوزیشن کتنی مؤثر ہوگی۔
