ایم کیو ایم کا بہادر آباد مرکز میدان جنگ کیوں بن گیا؟

ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر شدید اندرونی کشمکش اور اختلافات کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔ بہادر آباد مرکز میں ہونے والا تصادم محض ایک تنظیمی تنازع نہیں بلکہ آئندہ انٹرا پارٹی انتخابات سے قبل پارٹی کی قیادت، تنظیمی کنٹرول اور سیاسی مستقبل کی جنگ بن چکا ہے۔ ایک جانب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اپنی موجودہ تنظیمی برتری برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، جبکہ دوسری طرف مصطفیٰ کمال جارحانہ سیاسی حکمت عملی کے ذریعے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلافات صرف عہدوں تک محدود ہیں یا ایم کیو ایم ایک نئے سیاسی موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی ہیڈکوارٹر بہادر آباد مرکز میں حالیہ ہنگامہ آرائی نے ایک بار پھر پارٹی کے اندرونی اختلافات کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔ کارکنوں کے دو گروپوں کے درمیان تلخ کلامی، دھکم پیل، فائرنگ اور مرکز پر تالے لگنے کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ پارٹی میں قیادت کی جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
بظاہر یہ تنازع تنظیمی عہدوں اور پارٹی ڈھانچے پر کنٹرول کا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں سب سے بڑا عنصر الیکشن کمیشن کی جانب سے 15 اکتوبر 2026 تک انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی ہدایت ہے۔ یہی انتخابات اب دونوں دھڑوں کے درمیان طاقت کے اصل معرکے کی بنیاد بن چکے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے آخری بار اکتوبر 2024 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے تھے، جبکہ پارٹی آئین کے مطابق نئے انتخابات اکتوبر 2025 تک ہونا ضروری تھے۔ تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر یہ عمل ایک سال سے زائد عرصہ مؤخر ہوتا رہا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے پارٹی کو مقررہ تاریخ تک انتخابات کرانے کا پابند بنا دیا۔
جیسے جیسے انتخابی تاریخ قریب آ رہی ہے، پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے اپنی تنظیمی گرفت برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ مصطفیٰ کمال بھی پارٹی کی سربراہی حاصل کرنے کے لیے بھرپور سیاسی مہم چلا رہے ہیں۔
تنظیمی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس وقت خالد مقبول صدیقی گروپ نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت، موجودہ تنظیمی ڈھانچہ، رابطہ کمیٹی کے اہم ارکان اور متعدد سینئر رہنما ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جس کے باعث موجودہ ووٹر لسٹ اور تنظیمی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں ان کا پلڑا بھاری تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مصطفیٰ کمال نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران زیادہ جارحانہ سیاسی انداز اپنایا ہے۔ وہ کراچی اور شہری سندھ کے حقوق، عوامی مسائل اور مضبوط سیاسی بیانیے کے ذریعے کارکنوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ سابق پاک سرزمین پارٹی کا متحرک تنظیمی نیٹ ورک بھی موجود ہے، جو انہیں سیاسی طور پر تقویت فراہم کرتا ہے۔
تاہم مصطفیٰ کمال کو ایک بڑی تنظیمی رکاوٹ کا سامنا بھی ہے۔ پارٹی کے اندر اب بھی انہیں ضم ہونے والے دھڑے کی نمائندگی کرنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث رابطہ کمیٹی اور تنظیمی فیصلوں میں ان کی پوزیشن نسبتاً محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انٹرا پارٹی انتخابات سے قبل پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور ووٹر لسٹوں پر زیادہ اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اگر انٹرا پارٹی انتخابات موجودہ قواعد، ووٹر لسٹوں اور تنظیمی ڈھانچے کے تحت مقررہ وقت پر منعقد ہوتے ہیں تو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی کامیابی کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اگر انتخابات سے قبل تنظیمی تبدیلیاں، ووٹر لسٹوں میں ردوبدل یا کوئی غیر معمولی سیاسی پیش رفت سامنے آتی ہے تو مصطفیٰ کمال گروپ بھی حیران کن کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
بہادر آباد مرکز میں ہونے والا تصادم دراصل اسی بڑی سیاسی کشمکش کا اظہار ہے، جس کا فیصلہ اب اکتوبر میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کریں گے۔ یہی انتخابات نہ صرف ایم کیو ایم پاکستان کی آئندہ قیادت کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ پارٹی مستقبل میں کس سیاسی سمت پر گامزن ہوگی۔
