بڑھتے عالمی تنازعات، کیا واقعی تیسری عالمی جنگ چھڑنے والی ہے؟

روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی صف بندی اور عالمی سفارت کاری کی کمزور ہوتی حیثیت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا دنیا ایک اور بڑے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگرچہ ماہرین کی اکثریت فوری طور پر تیسری عالمی جنگ کے آغاز کی پیش گوئی نہیں کرتی، تاہم مختلف خطوں میں بیک وقت جاری تنازعات، عسکری اتحادوں کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی رقابت نے عالمی امن کے مستقبل پر سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو علاقائی جنگیں ایک وسیع تر بین الاقوامی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق دنیا اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں مختلف خطوں میں بیک وقت جاری تنازعات عالمی امن کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان طویل جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی طاقتوں کے باہمی اختلافات اور بین الاقوامی اداروں کی محدود مؤثریت نے یہ بحث دوبارہ زندہ کر دی ہے کہ آیا دنیا ایک اور عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے یا نہیں۔
تاریخی طور پر پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے ثابت کیا کہ جب علاقائی تنازعات بڑی طاقتوں کے مفادات سے جڑ جائیں تو ان کے اثرات پوری دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے ہی بڑے تصادم کو روکنا تھا، تاہم گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف عالمی تنازعات نے اس ادارے کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل سے لے کر افغانستان، عراق اور دیگر جنگوں تک، متعدد مواقع پر عالمی ادارے بڑی طاقتوں کے اختلافات کے باعث مؤثر کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
روس اور یوکرین کے درمیان 2022 میں شروع ہونے والی جنگ نے عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندی کو جنم دیا۔ اگرچہ نیٹو ممالک نے یوکرین کو فوجی، مالی اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کی، لیکن براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا۔ اس کے باوجود اس تنازعے نے یورپی سلامتی، توانائی کی فراہمی، عالمی معیشت اور دفاعی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بحری تجارتی راستوں، توانائی کی ترسیل، پراکسی تنازعات اور خطے میں عسکری سرگرمیوں نے اس امکان کو بڑھایا ہے کہ اگر مزید علاقائی یا عالمی طاقتیں براہِ راست اس کشمکش کا حصہ بنیں تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی منظرنامے میں سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ کوئی ایک جنگ اچانک عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ مختلف خطوں میں جاری الگ الگ تنازعات، فوجی اتحادوں، اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں، توانائی کے بحران اور تزویراتی رقابت کے باعث ایک دوسرے سے جڑتے چلے جائیں۔ ایسی صورت میں کسی ایک واقعے یا غلط اندازے سے کشیدگی تیزی سے وسیع ہو سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان، قومی مفادات کو ترجیح، داخلی سیاسی دباؤ اور نظریاتی اختلافات ایسے عوامل ہیں جو مذاکرات کے امکانات کو محدود کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی تنازعات سے متاثرہ ممالک اندرونی سیاسی عدم استحکام اور کمزور ریاستی اداروں کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس سے امن کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ بڑے تصادم سے بچنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون ہے۔ ان کے نزدیک ترکی، برازیل، جنوبی افریقہ، جاپان اور جرمنی جیسے بااثر ممالک تنازعات میں کمی لانے، اعتماد سازی اور مختلف فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ عالمی حالات تشویش ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن انہیں خودکار طور پر ایک نئی عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ عالمی طاقتیں اختلافات کو طاقت کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر سفارتی اقدامات کیے گئے تو موجودہ بحرانوں کو وسیع عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
