اے آئی کی تربیت کے لیے لاکھوں نایاب کتابیں ہمیشہ کیلئے ختم؟

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں اب اس کی تربیت کے لیے نایاب اور آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور انہیں سکین کرنے کے بعد ضائع کیے جانے کے انکشاف نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبینہ طور پر "پروجیکٹ پاناما” کے تحت لاکھوں کتابوں کی بائنڈنگ کاٹ کر انہیں ڈیجیٹل شکل میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس پر مصنفین، ناشروں، کتاب فروشوں اور ثقافتی ورثے کے ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بے شمار نایاب کتابیں اور تاریخی نوادرات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی تیاری کے لیے معیاری ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے دنیا بھر میں نایاب اور آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اے آئی کمپنیاں لاکھوں ایسی کتابیں خرید رہی ہیں جو کبھی ڈیجیٹل شکل میں منتقل نہیں کی گئیں، پھر ان کی بائنڈنگ کاٹ کر صنعتی سکینرز کے ذریعے صفحات محفوظ کیے جاتے ہیں جبکہ اصل کتابیں ضائع کر دی جاتی ہیں۔

کتاب فروشوں کے مطابق حالیہ مہینوں میں نایاب اور غیر معروف کتابوں کی خریداری میں اچانک غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی یورپی ممالک کے کتاب فروشوں نے بھی اسی نوعیت کی درخواستوں کی تصدیق کی ہے، جن میں ہزاروں تخصصی کتابوں کی فہرستیں فراہم کر کے خریداری کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کتابوں کا مقصد دوبارہ فروخت یا ذاتی ذخیرہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت معلوم ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اب تک چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے لینگویج ماڈلز کی تربیت انٹرنیٹ، لائسنس یافتہ کتابوں، تحقیقی مضامین، کمپیوٹر کوڈ اور انسانی فیڈبیک سے کی جاتی رہی، مگر انٹرنیٹ پر معیاری مواد کی محدود دستیابی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد میں اضافے کے باعث کمپنیاں اب 2022 سے پہلے شائع ہونے والی مطبوعہ کتابوں کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں، کیونکہ انہیں نسبتاً زیادہ مستند اور غیر مصنوعی مواد سمجھا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں "پروجیکٹ پاناما” سامنے آیا، جس کا تعلق گوگل کی حمایت یافتہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی این تھروپک سے جوڑا جا رہا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی نے لاکھوں استعمال شدہ کتابیں خرید کر ان کی بائنڈنگ کاٹنے، صفحات کو تیز رفتار سکینرز سے ڈیجیٹل شکل دینے اور بعد ازاں اصل کتابیں تلف کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مبینہ طور پر اس منصوبے کا مقصد دنیا کی زیادہ سے زیادہ کتابوں کو اے آئی کی تربیت کے لیے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا تھا۔

اس دوران امریکہ میں این تھروپک کو مصنفین کی جانب سے دائر کاپی رائٹ مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں ایک وفاقی عدالت نے کمپنی اور مصنفین کے درمیان ایک بڑے مالی تصفیے کی منظوری دی، جس نے مصنوعی ذہانت، دانشورانہ املاک اور کاپی رائٹ کے حوالے سے نئی قانونی بحث کو جنم دیا۔

دوسری جانب متعدد کتاب فروش، ناشر اور ثقافتی ادارے اس عمل کو علمی اور تاریخی ورثے کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اصل کتاب صرف متن کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں مصنف کے دستخط، حاشیوں پر تحریری نوٹس، تاریخی دستاویزات، اصل جلد اور دیگر منفرد خصوصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جنہیں صرف ڈیجیٹل سکین سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔

سپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے بھی اس طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اے آئی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ نایاب کتابوں کو نقصان پہنچائے بغیر سکین کیا جائے تاکہ اصل نسخے محفوظ رہیں۔

آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں کتاب فروشوں، ناشروں اور مصنفین کی تنظیموں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں میں نایاب اور تاریخی کتابوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مصنفین اور ناشروں کو ان کے تخلیقی کام کے استعمال پر مناسب اجازت، لائسنس اور منصفانہ معاوضہ دیا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ناگزیر ہے، تاہم اگر اس کی تربیت کے لیے علمی و ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچایا گیا تو یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج ایسی پالیسی تشکیل دینا ہے جس میں ٹیکنالوجی کی ترقی، دانشورانہ حقوق اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے درمیان متوازن راستہ اختیار کیا جا سکے۔

Back to top button