سولر صارفین سے رات کو مہنگی بجلی خریدنے کا نیا حکومتی منصوبہ تیار

پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف ہونے کے بعد سولر صارفین کے رویوں میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اب زیادہ تر نئے صارفین اپنی اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرنے کے بجائے بیٹریوں میں محفوظ کر کے خود استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کے باعث حکومت نے ایک نئی مجوزہ پالیسی تیار کی ہے، جس کے تحت شام کے پیک اوقات میں بیٹریوں میں ذخیرہ شدہ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرنے والے صارفین کو معمول سے زیادہ قیمت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کی بڑھتی طلب، مہنگی درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی اور قومی گرڈ کو زیادہ مستحکم بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی سامنے آنے جا رہی ہے، جہاں وفاقی حکومت سولر صارفین کو شام کے اوقات میں اپنی بیٹریوں میں ذخیرہ شدہ بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرنے پر اضافی مالی فائدہ دینے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹ میٹرنگ کے خاتمے اور نیٹ بلنگ کے نفاذ کے بعد ہزاروں نئے صارفین قومی گرڈ سے منسلک ہونے کے بجائے ہائبرڈ اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

پاور ڈویژن کی مجوزہ پالیسی کے مطابق "ٹائم آف یوز” نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک، جب ملک میں بجلی کی طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے، بیٹری رکھنے والے سولر صارفین اپنی اضافی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کر سکیں گے۔ اس کے بدلے انہیں معمول کے نرخ سے 18 سے 22 روپے فی یونٹ اضافی معاوضہ دینے کی تجویز ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ گرمیوں کے دوران انہی اوقات میں بجلی کی طلب 26 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے جبکہ سورج غروب ہونے کے باعث سولر سسٹمز بجلی پیدا نہیں کرتے۔ نتیجتاً حکومت کو فرنس آئل اور ایل این جی سے چلنے والے مہنگے بجلی گھروں کو فعال کرنا پڑتا ہے، جس سے پیداواری لاگت اور گردشی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر صارفین اپنی بیٹریوں سے اسی وقت گرڈ کو بجلی فراہم کریں تو مہنگی پیداوار پر انحصار نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

نیٹ بلنگ کے نفاذ کے بعد صارفین کی دلچسپی میں کمی کی ایک بڑی وجہ بجلی خریدنے اور فروخت کرنے کے نرخوں میں نمایاں فرق ہے۔ نئے نظام کے تحت صارفین اپنی اضافی سولر بجلی صرف 11 سے 13 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرتے ہیں، جبکہ رات کے وقت یا ضرورت پڑنے پر وہی بجلی تمام ٹیکسوں اور سرچارجز سمیت 45 سے 60 روپے فی یونٹ تک خریدنا پڑتی ہے۔ اسی فرق نے سولر منصوبوں پر سرمایہ کاری کی واپسی کا عرصہ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث صارفین اب بجلی فروخت کرنے کے بجائے اسے بیٹریوں میں محفوظ رکھنے کو زیادہ فائدہ مند سمجھ رہے ہیں۔

اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ جنوری 2024 سے جون 2026 کے دوران پاکستان میں تقریباً 6 گیگاواٹ آور سے زائد لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کی گئیں، جن کی مالیت تقریباً 455 ملین ڈالر رہی۔ صرف اپریل 2026 میں بیٹریوں کی درآمد گزشتہ برس کے مقابلے میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صارفین توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ نیپرا نے فروری 2026 میں نئے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کا پرانا نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ نافذ کیا تھا۔ حکومت کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد ڈسکوز کے مالی خسارے، کپیسٹی پیمنٹس کے بڑھتے بوجھ اور بجلی کے نظام کو درپیش مالی مشکلات پر قابو پانا تھا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ پرانے نظام میں گرڈ کے مستقل اخراجات کا بوجھ ان صارفین پر منتقل ہو رہا تھا جو سولر سسٹم نصب کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

دوسری جانب توانائی کے ماہرین اس نئی تجویز کو مثبت مگر چیلنجنگ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت شام کے اوقات میں بجلی خریدنے کا مناسب اور پُرکشش ریٹ مقرر کرے، ادائیگیوں کا شفاف نظام بنائے اور بیٹریوں کی عمر میں کمی کا مناسب معاوضہ دے تو یہ ماڈل کامیاب ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر صارفین کو خاطر خواہ مالی فائدہ نہ ملا تو وہ اپنی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرنے کے بجائے گھریلو استعمال کے لیے محفوظ رکھنا ہی بہتر سمجھیں گے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے جدید سمارٹ میٹرنگ، دو طرفہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مضبوط تقسیمی نظام ناگزیر ہوگا۔ اگر حکومت ان تکنیکی اور مالیاتی تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہی تو یہ ماڈل نہ صرف قومی گرڈ پر دباؤ کم کرے گا بلکہ بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم اور صارفین کو بھی معاشی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

Back to top button