سائفرکیس،عمران خان اورشاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کردی گئی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران فرد جرم عائد کی۔چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔عدالت نے فرد جرم روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کردی، عدالت کا کہنا تھا کہ آج کی تاریخ فرد جرم کے لیے رکھی تھی، فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔عدالت نے کیس کے گواہان کے بیانات 27 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں، سائفر کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
اس سے قبل 17 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم اس وقت تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے چالان کی کاپیاں فراہم نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا تھا، پی ٹی آئی کے اعتراض کے بعد فردِ جرم کی تاریخ آج مقرر کی گئی تھی۔
آج سماعت کے موقع پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔
واضح رہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی ان دنوں سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔
اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا
ن لیگ کا جلسہ، پولیس نے ٹریفک پلان جاری کردیا
کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔
