کیا عمران سرعام معافی مانگ کر سزا سے بچ سکیں گے؟

کیا سرعام معافی اور اعتراف گناہ ہی عمران کو بچا سکتا ہے ؟ سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ کاش کوئی عمران خان کو سمجھا پاتا کہ اُسکی”مقبول سیاست” محض دھوکہ اور فریب تھی۔ مقبولیت کا سراب موصوف کو پھانسی کے قرب و جوار میں لے آیا ہے۔ عمران خان کو فراخدلی سے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سر نگوں ہونا ہو گا، اعتراف گناہ کے بعد فراخدلی سے معافی مانگنا ہو گی۔ اتحادی حکومت کے سیاسی نقصانات کا بھی ازالہ کرنا ہو گا۔ حل تینوں فریقین کی صلح میں ہے، میثاق ثلاثہ ہی ملک کو بچا سکتا ہے، اس کے علاوہ بربادی ہی بربادی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . حفیظ الله نیازی لکھتے ہیں کہ فارمیشن کمانڈرز میٹنگ کےبعد آرمی چیف کا پالیسی بیان سامنے آچکا ہے جس میں آنیوالےدنوں میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم جتلایا گیا ہے ۔ درحقیقت شدید ردعمل آنے کو ہے کیوں کہ سانحہ 9 مئی پاکستان کی چولیں ہلا گیا ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔ اس واقعے کا ذمہ دار اکلوتا عمران خان ہے۔ ایک سال سے جس تندہی سے عمران نے اپنی تقاریر، انٹرویوز، بیانات، جلسے جلوس، سوشل میڈیا، ٹویٹر، یوٹیوب غرضیکہ ابلاغ عامہ کا ہر ذریعہ استعمال کر کے حتی المقدور، اپنے ماننے چاہنے والوں کو افواج پاکستان کیخلاف اُکسایا اور بھڑکایا۔ عسکری قیادت کیخلاف نفرت کے بیج بوئے اس کے بعد 9مئی کا سانحہ عمران خان کی ایک سالہ مہم جوئی کا منطقی نتیجہ ہی تو تھا۔عمران خان کی چرب زُبانی کیساتھ غیر معمولی جارحانہ طرزِ سیاست اور پھر جدید میڈیا ملا تو ان کی مقبولیت نے ساتویں آسمان کو چُھو لیا۔ ملکی سیاست بلا شرکت غیرے عمران کے قبضہ استبداد میں آ گئی۔ ۔ بالآخر سانحہ 9 مئی، ریاست پر قیامت ڈھا گیا۔ جنرل عاصم منیر کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اعصاب قابو میںر کھے، اندھا دھند ردِ عمل نہیں آیا۔ ایسے میں تحریک انصاف والے غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ ضرب کاری رہی، عمران خان چھا چُکے ہیں۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ 9مئی کے بعد ۔ آرمی چیف نےاگلے دو ہفتے قرب و جوار تا دور دراز ،جہاں جہاں ٹروپس موجود تھے وہاں ہنگامی دورے کئے، اُن کےحوصلے بڑھائے۔ ساتھ ساتھ اپنے لائحہ عمل کو ترتیب دیتے رہے اور پھر حالیہ میٹنگ میں اپنے جامع لائحہ عمل کا اعلان کر دیا۔ واشگاف الفاظ میں سانحہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم صمیم بتلایا۔ الفاظ کا چناؤ سخت، پیغام غصہ سے لبالب رہا ۔ واضح طور پر یہ پیغام صرف اور صرف عمران خان کیلئے تھا۔ مجھے یقین تھا کہ سانحہ کا اکلوتا ذمہ دار عمران خان بچ نہ پائے گا۔طاقت اور سیاست کے بیچ گھمسان کارن پڑ چُکا ہے جس میں فتح طاقت کی ہی رہنی ہے۔ اگرچہ سیاست کی ہار یقینی ہے، مگر یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ عمران خان کی 8 مئی کی سیاست آج 8 جون کو کہاں کھڑی ہے؟ وطنِ عزیز کی سیاست کا اکلوتا محور اس وقت عمران خان ہی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی جماعتوں کی سیاست ختم ہو گئی ہے، ہر گز نہیں۔ پچھلے 15 مہینے تسلسل سے عمران خان کی مہم کا سیاسی ہدف عسکری قیادت رہی ہے ۔جبکہ باقی سیاسی جماعتیں اس لڑائی میں گنتی سے باہرہو چُکی تھیں۔ ماضی میں سیاست جب جنرل ایوب کے زیر سایہ استوار ہوئی، کنونشن لیگ وجود میں آئی، حامی سیاسی جماعتوں کو ایوب خان کی زیر قیادت کنونشن لیگ کی سیاست میں ضم ہونا پڑا۔ ضیا الحق دور نے من و عن تاریخ کو دہرایا۔ پر پگارا کی فنکشنل مسلم لیگ بنی، باقی جماعتیوں بشمول بھٹو کی پارٹی کے سر کردہ رہنما سارے ضیا الحق کی سر پرستی میں رہے، بالآخر ضیا الحق کیساتھ خرچ ہو گئے۔ البتہ 1993میں نواز شریف نے اپنی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کے اثر سے نکال لیا تو بچ گئے۔ مشرف دور میں ق لیگ بنی، تمام حامی جماعتیں اور گروہ اس کا حصہ بنے۔ آج ملکی سیاست سے باہرہیں۔ حفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ میری محدود سوچ کے مطابق موجودہ اتحادی حکومت یا جہانگیر ترین کی استحکامِ پاکستان پارٹی سب "تیری سرکار” میں جب پہنچے تو بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ممد و معاون بنیں گے۔ شروع میں جیت طاقت کی ہی رہتی ہے۔ بالآخر سیاست جب انگڑائی لے گی تو اسٹیبلشمنٹ کی ساتھی جماعتوں کاخرچ ہو جانا مقدر بنے گا۔ تحریک انصاف کی جگہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے والی یہ پارٹیاں نہیں لے پائیں گی۔ عمران خان کی آشیر باد ہی اُنکی سیاسی وراثت کا تعین کرے گی۔ اس میں شک نہیں کہ طاقت نے غالب آناہے کہ طاقت ہی ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہے کہ عمران خان دو ماہ بعد پردہ سیمیں پر نہیں ہونگے، قرین از حقیقت ہے۔ عمران خان کی سوچ یہ ہے کہ تین ماہ بعد اسٹیبلشمنٹ کا رعب دبدبہ، دہشت ماند پڑ جائے گی اور اقتصادی زبوں حالی کی موجودگی میں اُنکی سیاست دوبارہ سر اُٹھائے گی، اس بات میں بھی وزن ہے کیوں کہ ماضی میں بھی پہلے چند سالوں اندر سیاست مارشل لاؤں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا چُکی ہے

ترین نے جلد بازی میں اپنی جماعت کا اعلان کیوں کیا؟

۔

Back to top button