عمران خان کو سزائے موت ہو گی یا 14 سال قید؟

سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پیر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا اور استغاثہ یعنی پراسیکیوٹرز کو اپنے گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت میں دونوں ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے چالان کے مطابق اس مقدمے میں استغاثہ کے 28 گواہان کی فہرست پیش کی گئی ہے۔ان گواہان میں سابق سیکریٹری خارجہ سہیل احمد، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید، سابق وزیر اعظم اور اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور سابق سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر بھی شامل ہیں۔دیگر گواہان میں وزارت خارجہ ، وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور کابینہ ڈویژن کے حاضر سروس افسران شامل ہیں۔

وکیل استغاثہ راجہ رضوان عباسی کے مطابق وہ جلد ہی گواہان کی فہرست متعلقہ جج کے سٹاف کو فراہم کر دیں گے۔ یہ ضروری نہیں کہ چالان میں جن گواہوں کے نام دیے گئے ہیں ان سب کو گواہی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے بلکہ یہ استغاثہ کا استحقاق ہے کہ وہ ان گواہوں میں سے جس کو چاہے پیش کرے اور جس کو چاہے گواہی کے لیے عدالت میں طلب نہ کرے۔انھوں نے کہا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد ’استغاثہ کی جانب سے یہ کوشش کی جائے گی کہ جلد از جلد گواہوں کے بیانات کو قلمبند کروایا جائے تاکہ ملزمان کے وکلا اُن پر جرح کر سکیں اور اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ ہو جو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے۔خیال رہے کہ اس مقدمے کی تفیش کرنے والی ٹیم نے مختلف گواہوں کے بیانات اور پیش کیے گئے ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خا ن اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعہ پانچ اور نو کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل افتخار شیروانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس مقدمے میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے اور ان گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہونے کے بعد عدالت ملزمان کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرے گی۔ جس میں اس وقت تک پیش کی گئی شہادتوں کے بارے میں ملزمان کو آگاہ کیا جاتا ہے۔عدالت ملزمان کو یہ آپشن بھی دیتی ہے کہ اگر انھوں نے اپنا دفاع میں کوئی گواہ یا کوئی دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہے تو وہ کر سکتے ہیں۔‘ ملزمان کے بیانات ریکارڈ ہونے کے بعد فریقین دلائل دیں گے جس کے بعد عدالت ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔اس کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد متعلقہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف چارج شیٹ کے مطابق دونوں کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔کیس کی چارج شیٹ میں الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بطور وزیراعظم غیر قانونی طور پر سائفر اپنے پاس رکھا۔ عمران خان نے سیکرٹ دستاویز کو ممنوع مقام  یعنی جلسے میں غلط طریقہ کار سے استعمال کیا۔ سائفر کی خفیہ معلومات کو غیر ضروری افراد تک پہنچایا۔چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ریاست کے مفاد کے خلاف معلومات استعمال کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ وزارت خارجہ نے اعتماد کرتے ہوئے سائفر سابق وزیراعظم عمران خان کو فراہم کیا۔ مگر انہوں نے سائفر اپنے پاس رکھتے ہوئے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اس عمل سے ملک کے سیکیورٹی سسٹم پر کمپرومائز کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے اس عمل سے ریاستِ پاکستان کی سلامتی متاثر ہوئی۔

چارج شیٹ کے مطابق 28 مارچ 2022 کو بنی گالا اجلاس میں ملزم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ سابق وزیراعظم نے بدنیتی کی بنیاد پر سائفر اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ غیر مجاز ہونے کے باوجود سائفر غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔سائفرکیس میں شاہ محمود قریشی کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر خارجہ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جرم میں معاونت کی، جس طرح عمران خان نے جرم کیا، شاہ محمود قریشی بھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔

دوسری جانب سینیئر قانون دان اور سابق پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور سیکشن 9 کے تحت سزا 14 سال تک قید یا سزائے موت تک کی ہے تاہم عمران خان پرجو جرم ثابت ہوتا ہے اس کی سزا پاکستان کے قانون کے مطابق 2 سال تک ہی ہوسکتی ہے۔عمران شفیق کے مطابق 14 سال قید یا سزائے موت آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت تب بنتی ہے جب سائفر کا کوڈ کسی کو فراہم کیا گیا ہو جبکہ عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سائفر کا متن جلسے میں بتایا اور سائفر کو چھپایا گیا ہے۔عمران شفیق کے مطابق اس چیز کا ثبوت موجود نہیں کہ عمران خان نے کسی کو سائفر کا کوڈ بتایا ہے، ’صرف سائفر کا متن وہ بھی سچ اور جھوٹ کا ملغوبہ ہے اس لیے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ان کو 2 سال تک سزا ہوسکتی ہے‘۔سائفر کو چھپانے سے متعلق جرم پر عمران شفیق کہتے ہیں کہ سائفر چھپانے کا الزام تب ثابت کیا جاسکتا ہے جب سائفر کہیں سے برآمد کیا جائے یا پھر یہ ثابت کیا جائے کہ عمران خان نے سائفر کسی دشمن ملک کو دیا ہے۔عمران شفیق نے کہا کہ وزیراعظم آفس کے ڈاکومنٹس کے کسٹوڈین یا تو ملٹری سیکریٹری ہیں یا پھر وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری، یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اس دستاویز کے کسٹوڈین میں عمران خان بھی شامل تھے۔

Back to top button