کیاآئندہ انتخابات تک کپتان جیل میں رہے گا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہاں عمران خان کے خلاف جاری سائفر کیس میں کارروائی فوری روکنے کا حکم دے دیا ہے وہیں دوسری طرف قومی احتساب بیورو نیب نے چئیرمین پی ٹی آئی کی مذید دو مقدمات میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ جس کے بعد عمران خان کی انتخابات سے قبل قید سے رہائی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری ڈالنے کے باوجود پی ٹی آئی چیئرمین اڈیالہ جیل میں رہیں گے جہاں وہ پہلے ہی سائفر کیس میں جوڈیشل حراست میں ہیں۔ نیب والے انہیں اپنی جیل میں منتقل نہیں کرینگے۔نیب کی درخواست کے بعد اسلام آباد میں قائم نیب عدالت نے پیر کو سابق وزیراعظم کیخلاف توشہ خانہ اور این سی اے برطانیہ کے ساتھ 190؍ ملین پاؤنڈز کی سیٹلمنٹ کے دو کیسز میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ اب چاہے انہیں سائفر کیس میں ضمانت مل بھی جائے، عمران خان نیب کے اقدام کی وجہ سے جیل میں ہی رہیں گے۔ نیب والوں نے احتساب عدالت میں گرفتاری وارنٹ کی تعمیل کی درخواست پیش کی تھی۔ عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق اس اقدام پر عمل کریں۔ نیب نے موقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ دونوں کیسز میں تحقیقات مکمل کرنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ضروری ہے۔ نیب کو عمران خان کا ریمانڈ ملنے کا مطلب ہے کہ جلد ضمانت کا امکان نہیں۔ ایک ماہر قانون کا کہنا ہے کہ نیب کو عمران خان کا ریمانڈ ملنے کا مطلب ہے وہ کم از کم چند ماہ کیلئے جیل میں ہی رہیں گے۔

دوسری جانب عمران خان کی مزید دو مقدمات میں گرفتاری کو جہاں پی ٹی آئی آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش قرار دے رہی ہے وہیں پی ٹی آئی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات میرٹ پر بنے ہیں اور تحریک انصاف صرف ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے دعوے کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خا  کو توشہ خانہ کیس اور القادر ٹرسٹ کیس میں نیب نے گرفتار کیا ہے۔توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری تحائف کی فروخت کے حوالے سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ اس کے علاوہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے سینکڑوں کینال زمین اور اربوں روپے وصول کیے۔

عمران خان پر پے در پے مقدمات اور گرفتاریوں بارے عمران خان کے قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ "عمران خان کے خلاف مقدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ ” ان کے اوپر سب سے کم وقت میں سب سے زیادہ کیسز بنائے گئے ہیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ہم ایک مقدمے کو ختم کراتے ہیں یہ دو اور نئے مقدمات لے آتے ہیں۔‘‘ عمران خان پر یہ دباؤ ریاست کے طاقتور عناصر کی طرف سے ڈالا گیا ہے تاکہ وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ان دعووں میں وزن معلوم ہوتا ہے۔  ”اس طرح کی رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں کہ عمران خان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کے چلے جائیں اور یہ کہ وہ طاقتور حلقوں سے ڈیل کر لیں لیکن عمران خان ایسی کسی ڈیل کو قبول نہیں کر رہے اسی لیے ان پر دھڑا دھڑ مقدمات بنائے جارہے ہیں۔‘‘جسٹس وجیہہ الدین احمد کے مطابق بشرٰیٰ بی بی کو بھی جیل میں ڈالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تاکہ ڈیل کے لیے عمران خان پر دباؤ بڑھا یا جا سکے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ حکومتیں ہمیشہ سابقہ حکومتوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بناتی ہیں اور پھر ان کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ 1988 میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کے لوگوں کے خلاف یہی کیا جبکہ نوے کی دہائی میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر مقدمات بنائے۔ پی ٹی آئی نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات بنائے۔ اسلام اباد سے تعلق رکھنے والی تجزیہ نگار ڈاکٹر نور فاطمہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقدمات کو سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ”سیاست دانوں کو کوئی ایسا میکنزم بنانا چاہیے کہ اگر کسی کے خلاف واقعی کرپشن کے کیسز ہیں تو موثر انداز میں مقدمہ چلایا جائے اور ان کو عدالتوں میں ثابت کیا جائے۔‘‘

ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف تمام مقدمات بے بنیاد ہیں۔ تاہم مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق گورنر خیبر پختون خواہ اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات میرٹ پہ بنے ہیں۔ ” مسلم لیگ ن پاکستان تحریک انصاف سے کوئی عداوت نہیں رکھتی اور وہ چاہتی کہ اس کا سیاسی طور پر مقابلہ کیا جائے لیکن، جہاں تک ان مقدمات کا تعلق ہے جیسے کہ القادر ٹرسٹ۔ اس میں چیزیں بڑی واضح ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے مقدمات خالصتا میرٹ کی

کیا پی ٹی آئی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی ہے؟

بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔‘‘

Back to top button