ملزم نے عمران کو چھت کی بجائے زمین سے نشانہ کیوں بنایا؟

عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور نوید احمد نے انکشاف کیا ہے اسنے پہلے ایک قریبی مسجد کی چھت سے عمران کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن نماز عصر کی وجہ سے پولیس اہلکاروں نے اسے چھت پر نہیں جانے دیا لہٰذا اس نے زمین سے ہی کنٹینر پر فائرنگ کا فیصلہ کیا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت ایک جانب مسجد میں نماز ادا ہو رہی تھی جبکہ دوسری جانب عمران کے کنٹینر پر اونچی آواز میں میوزک چل رہا تھا۔ اس نے کہا کہ زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس میوزک میں بھی اللہ کا ن
ام استعمال کیا جا رہا تھا۔ نوید کے مطابق میں نے فائرنگ کرنے سے پہلے وہاں موجود تحریک انصاف کے لوگوں سے کہا کہ نماز کا وقت ہے لہذا کنٹینر سے چلنے والے پارٹی ترانے بند کروائے جائیں، لیکن ایسا نہ ہوا اور کسی نے اس کی بات نہ سنی۔
عمران پر حملے کی تفتیش کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے حوالے کردی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے کنٹینر سے 15 سے 20 قدم کےفاصلے پر 9 ایم ایم کے پستول سے پورا برسٹ فائر کیا ، لیکن 8 گولیاں چلنے کے بعد ایک گولی پستول میں پھنس گئی، اس دوران اسے ایک شخص نے پیچھے سے آ کر پکڑنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ اٹھا۔ نوید کو تفتیش کے لیے لاہور منتقل کردیا گیا جہاں اسے چوہنگ میں قائم سی ٹی ڈی کے سیل میں پہنچادیا گیا ہے۔
ملک بھر میں پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہرے، متعدد گرفتار
ملزم کے بیان کے بعد پولی گرافک ٹیسٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ جو گولیاں عمران اور ان کے ساتھیوں کو لگیں کیا وہ واقعی نوید احمد کے پستول سے فائر کی گئی تھیں یا ان افواہوں میں کوئی حقیقت موجود ہے کہ فائرنگ ایک سے زیادہ لوگوں نے کی۔ پنجاب پولیس اور فارنزک کی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔
ملزم نوید اور اس کے گھر والوں سے بھی تحقیقات جاری ہیں جب کہ جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول اور ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے حملے کے لیے نائن ایم ایم پستول استعمال کیا، نوید احمد سے پستول، 2 میگزین اور 20 گولیاں برآمد ہوئی ہیں جب کہ جائے وقوعہ سے گولیوں کے 11 خول ملے ہیں جن میں سے 9 خول نائن ایم ایم پستول اور2دیگر اسلحہ کے ہیں۔ خول ملنے کی ڈائریکشن بتاتی ہے کہ 9 خول نیچے سے اوپر اور 2 کنٹینر سے نیچے کی طرف فائر ہوئے۔
ملزم پستول کے ساتھ 2 میگزین لےکر تیاری سے آیا تھا جب کہ اس نے پستول کے ساتھ 46 گولیاں بھی خریدیں۔ ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ ملزم کے گھر والے حملے سے متعلق ناواقف تھے، جو اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ نوید نشے کا عادی ہے۔
حملہ آور نے پہلے عمران کو نشانہ بنانے کے لیے مسجد کی چھت استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن نماز عصر کی وجہ سے پولیس نے اسے چھت پر نہ جانے دیا، ملزم نوید بائی پاس روڈ کے ذریعے جائے وقوعہ تک پہنچا، اور مارچ کے شرکا کو نماز پڑھنے اور کنٹینر پر لگے پارٹی ترانے بند کرانے کا کہتارہا لیکن ایسا نہ ہوسکا جس سے اس کا پارہ اور بھی چڑھ گیا اور اس نے اپنے منصوبے کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔
