عمران خان پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کی کرپشن پر برہم

ماضی میں پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دینے کے بعد اپنا وزیر اعلیٰ بنا لینے والے عمران خان اب موصوف کی اربوں روپوں کی کرپشن کے قصے سن کر پریشان ہیں اور انہیں اپنی حکومت کے لیے ایک دھبہ قرار دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں عمران خان کو پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کی کرپشن کے ایسے ہوشربا واقعات سننے کو ملے ہیں کہ جن کے بعد وہ شدید پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ انکی جماعت کے لیے بدنامی کا باعث بن رہی ہے جسکا انہیں اگلے الیکشن میں بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔ زمان پارک میں پی ٹی آئی کے اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی نے پرویز الٰہی کی کرپشن کی شکایتوں کے انبار لگا دیے اور کپتان کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر دونوں ہاتھوں سے خزانہ لوٹ رہے ہیں۔ اس موقع پر عمران نے کہا کہ ’میں پنجاب میں مخلوط حکومت کے خلاف ایسے الزامات برداشت نہیں کرسکتا‘۔ سابق وزیر اعظم نے زور دیا کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی پرویز الہٰی کو جلد از جلد اعتماد کا ووٹ لینے اور اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادہ کریں تا کہ ان سے جان چھڑائی جا سکے۔
بتایا جاتا ہے عمران خان کے ان ریمارکس کا پتہ چلنے پر پرویز الٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ساتھ عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ پر پہنچ گئے اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ مسلم لیگ (ق) بھرپور طریقے سے پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم جب عمران خان نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی کرپشن کی کہانیوں کے حوالے سے سوال کیا تو پرویزالٰہی نے کہا کہ ان پر الزام لگانے والے ثبوت لائیں تو ضرور جواب دوں گا۔دوسری جانب مونس الہٰی نے کہا ہے کہ ان کے والد کی عمران خان سے ملاقات کے نتیجے میں دونوں طرف تناؤ ختم ہوگیا ہے، اور دونوں اب بہترین دوست بن چکے ہیں اس لیے دشمنوں کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ مونس الٰہی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے میرے والد کو یقین دلایا ہے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے جو بھی معلومات ان کے پاس آئیں گی وہ سب سے پہلے پرویز الٰہی کے ساتھ شیئر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پرویز الٰہی نے بھی یقین دہانی کروائی کہ عمران خان ہی ان کے لیڈر ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘، انہوں نے زور دیا کہ ’ہمارا اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے‘۔
یاد رہے کہ ایک جانب عمران خان وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے میں مسلسل تاخیر پر تذبذب کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر نے بالکل مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پنجاب میں حکمراں اتحاد اپوزیشن کی خواہش پر اعتماد کا ووٹ نہیں لے گا‘۔ عمران اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جانب سے پرویز الہٰی کو 11 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے قائل کیا جارہا تھا، تاہم پرویز الہٰی نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک ووٹ لینے سے انکار کردیا تھا۔ اسد عمر نے کہا کہ ’ہم اعتماد کا ووٹ اس وقت لیں گے جب اس کی قانونی یا سیاسی ضرورت ہوگی‘۔
ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی کے کئی رہنما اب بھی سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب قانونی پیچیدگیوں کی آڑ میں اعتماد کے ووٹ میں تاخیر کی کوشش کر رہے ہیں، اُن کا خیال ہے کہ پرویز الہٰی اسمبلی کی تحلیل میں مزید تاخیر کرنے کے لیے اس معاملے کو سپریم کورٹ لے جا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہیں گے کیونکہ وہ پہلے ہی یہ طے کر چکے ہیں کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور بااختیار حلقوں کے اس مؤقف کے مطابق چلیں گے کہ اسمبلی کو اپنی آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے‘۔
جنیوا کانفرنس میں 9 ارب ڈالر کی رقم ملنا غیبی امداد سے کم نہیں
