شرارتی کپتان نے اپنے ہی باپ کے گریبان پر ہاتھ کیوں ڈالا؟

عمران خان کی جانب سے نواز شریف اور آصف زرداری کو اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کس طرح بھول سکتے ہیں کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے تعینات کیا تھا اور تین برس بعد خان صاحب نے ان کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے جنرل باجوہ کو مزید تین برس کی توسیع دے دی تھی۔ ایسے میں عمران خان کا یہ الزام بھونڈا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران خود کو بچانے کے لئے مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ خان صاحب اپنے دور حکومت میں جس فیض سے فیض یاب ہوتے رہے وہ اب فیض دینے کے قابل نہیں رہا لہذا کپتان کو اپنی سیاست ڈوبتی نظر آتی ہے اور وہ دھونس اور دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نشہ آور اشیاء سے ایک مخصوص کیفیت حاصل ہوتی ہے، لیکن کچھ مدت بعد یہ کیفیت حاصل کرنے کے لئے منشیات کی مقدار بڑھانا پڑتی ہے۔ ویسے بھی انسانی فطرت جاننا چاہتی ہے کہ اس موڑ سے آگے کا منظر کیسا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کچھ نشئی تو نشے کی لت میں اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ خود اپنی زبان پر سانپ سے ڈسوانا شروع کر دیتے ہیں، یوں زہر ان کے لہو میں تیرتا ہے، اور پھر رفتہ رفتہ ان کی زندگی کا ضامن بن جاتا ہے۔ ایسے میں مسئلہ سانپ کے لئے پیدا ہو جاتا ہے چونکہ ایسا نشئی اگر سانپ کو کاٹ لے تو اسکا بچنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ آج کل ہم کچھ ایسی ہی صورتحال کا نظارہ کر رہے ہیں کیونکہ نشئی اب ڈسنے پر آ گیا ہے اور دودھ پلانے والوں کو ہی کاٹ رہا ہے۔

عمران خان کیا تمہارا تقرر میرٹ پر ہوا تھا ؟

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آج تک ہم ایک ہی بات جمہوری راہ نمائوں سے سنتے آئے تھے کہ آرمی چیف کو اپنے آئینی حلف کی پاس داری کرنی چاہئے، یعنی سیاست سے دور رہنا چاہئے اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں، اور یہ کہ آرمی چیف لگانا وزیرِ اعظم کا اختیار ہے۔اس کے علاوہ ماضی کے ناخوش گوار تجربات سے سیکھ کر سنجیدہ حلقے یہ مشورہ دیتے ہیں کہ تین سینئر جرنیلوں میں سے ہی چیف کا انتخاب ہونا چاہئے تاکہ ادارے اور سیاسی نظام کو غیر ضروری افراتفری اور کش مکش سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اب ذرا ان اوصافِ حمیدہ کا ذکر ہو جائے جو عمران خان آرمی چیف میں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ فرماتے ہیں چیف کو ’تگڑا‘ ہونا چاہئے اور ’محبِ وطن‘ ہونا چاہئے۔ اب اسکا کیا مطلب ہوا؟ کیا یہ خوبیاں ہر فوجی جرنیل میں نہیں ہونی چاہئیں؟ یہ وظائف ہر وزیرِ اعظم بلکہ ہر حکومتی عہدے دار میں نہیں ہونے چاہئیں؟ وہ کون سے عہدے ہیں جن کے لئے غیر محبِ وطن افراد سے بھی کام چل سکتا ہے؟ کتنے سینئر افسران ہیں جنہیں خان صاحب نے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے؟ اور کیا یہ سرٹیفکیٹ انہوں نے خود جاری کئے ہیں یا کسی اور نے؟ حماد کے بقول، ہمیں خان صاحب سے حُب الوطنی کی تعریف بھی اچھی طرح سمجھنی چاہئے، کہ وہ کسے محب وطن سمجھتے ہیں، اپنے حلف کی پاس داری کرنے والے کو یا ان کے سیاسی مخالفین کو چُن چُن کر جیلوں میں ڈالنے والے کو؟ محب وطن وہ ہے جو آئینی نظام کے استحکام کا باعث بنتا ہے یا وہ جو ہائی برڈ نظام کھڑا کرتا ہے؟ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ آئین سے خان صاحب کے لگائو کا یہ عالم ہے کہ حکومت چھوڑنے سے پہلے سات دن میں انہوں نے پانچ مرتبہ آئین توڑا تھا، اور ملکی تاریخ کے پہلے آئین شکن کی عظمت اجاگر کرنے کے لئے وہ اپنے اکثر جلسوں میں ویڈیوز بھی چلاتے رہے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ چلیں خان صاحب آپ یہ بتائیں کہ محب وطن چیف وہ تھا جسے نواز شریف نے لگایا تھا، یا وہ تھا جسے آپ نے ایکسٹینشن دی تھی؟ کچھ تو بتائیں خان صاحب، اور اگر آپ نہیں بتائیں گے تو پھر ہمیں مجبوراً محبِ وطن افسر کی تعریف جسٹس شوکت صدیقی سے پوچھنا پڑے گی۔ بہرحال، یوں لگتا ہے جیسے عمران خان کسی خاص نام سے کسی وجہ سے خوف زدہ ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی تنازع کھڑا کر سکیں، ابھی انہوں نے ابتدا کی ہے، غالباً وہ ایک دو قدم آگے بھی جائیں گے، اور بھرپور کوشش کریں گے کہ جس طرح انہیں فیض بخشنے والے جرنیل کو مریم نواز اور آصف زرداری نے نام لے کر متنازع بنا دیا، اسی طرح وہ بھی جوابی وار کر سکیں۔ اور یہ تو ہونا ہی تھا۔حماد بتاتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک بہت ’تگڑا‘ آدمی تھا، جس نے اپنے تین سال کے بیٹے گڈو کو ’شیریں سخنی‘ کے چند نمونے یاد کروا رکھے تھے، جو وہ بڑے فخر سے اپنے مہمانوں کو گڈو کی توتلی زبان میں سنواتا اور اپنے اس کارنامے پر نازاں دکھائی دیا کرتا تھا۔جب گڈو جوان ہوا تو اس نے اپنے والد صاحب پر بھی مشقِ سخن کا آغاز کر دیا۔ اور یہ تو ہونا ہی تھا۔

پہلے عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کو گالیاں دیتے تھے، پھر پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے لگے، پھر عدالتوں اور الیکشن کمیشن کی عزت افزائی کرنے لگے، اور اب وہ ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس میں گڈو کا کوئی قصور نہیں ہے، اسے یہی آدابِ فرزندی سکھائے گئے تھے، اسے کبھی کسی نے ٹوکا ہی نہیں، پارلیمنٹ پر حملہ کرے، حوالات پر دھاوا بول کر اپنے لوگ چھڑائے، پولیس فورس پر تشدد کرے، پی ٹی وی میں گھس جائے، سرکاری افسروں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کرے، آئین توڑے قانون توڑے، یعنی جو جی چاہے کرے اسے کبھی روکا ہی نہیں گیا، اس کی ہر ہر بد تہذیبی پر مسکراتے ہوئے کہا گیا ’گڈو بڑا شرارتی ہے‘۔ سو یہ تو ہونا ہی تھا۔جس نے اختلافِ رائے کیا اسے مزا چکھایا گیا، صحافی تھا تو لفافی قرار پایا، جج تھا تو ریفرنس بنا دیا گیا، سیاست دان تھا تو چور ڈاکو کہہ کر جیل میں ڈال دیا گیا، ادارے کے بعد ادارہ تباہ کیا گیا، ایک ہی ادارہ بچا تھا، مگر کب تک، ہل من مزید کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، کپتان نما شرارتی گڈو اپنے باپ کا گریبان پکڑ کر کھڑا ہے ، یہ تو ہونا ہی تھا کہ دو جمع دو چار ہی تو ہوتے ہیں، کیکر کے بیج سے کیکر ہی اُگ سکتا تھا، سر و کا بوٹا نہیں۔تو اب دامن تو اڑے گا، پھٹے گا، یہ تو ہونا ہی تھا۔

Back to top button