پاکستانیوں کی اوسط عمریں کم کیوں ہوتی جارہی ہیں؟

گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ پاکستانیوں کی اوسط عمر کم ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے سینئر صحافی جاوید چودھری نے کہا ہے کہ ہم لوگ ’’کل کیا ہو گا؟‘‘ اور ’’ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ جیسی صورت حال میں زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ انسان کو ہر چیز ٹائم اور شیڈول کے مطابق چاہیے ہوتی ہے اور ہم بدقسمتی سے من حیث القوم دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک کے بڑے سے بڑے اور طاقت ور عہدیدار کو بھی یہ یقین نہیں کہ میں کل اس عہدے پر رہوں گا یا نہیں۔ اس۔ملک میں گاہک یہ نہیں جانتا کہ میں جو چیز خرید رہا ہوں یہ مجھے کل بھی دستیاب ہو گی یا نہیں۔ تاجر کو صنعت کار پر یقین نہیں۔ صنعت کار کو بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور پانی کا یقین نہیں اور کیا یہ تمام اشیاء کل عوام کو فراہم کی جا سکیں، ہماری حکومت کو بھی اس کا یقین نہیں ہوتا چناںچہ ہم اوپر سے نیچے تک عدم استحکام کا شکار ہیں۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں چیف جسٹس کو بھی یہ معلوم نہیں ہوتا لہ میں کل کہاں ہوں گا؟ لہٰذا اس ملک میں کسی کو بھی شہباز گل بنتے دیر نہیں لگتی‘ اسکے علاوہ ہماری زندگی میں کوئی انٹرٹینمنٹ نہیں‘ مذہبی تقریریں‘ سیاسی گفتگو اور افواہیں ہماری سب سے بڑی تفریح ہوتی ہیں اور ہم جی بھر کر اس تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں‘ آپ کسی بھی شخص سے مل لیں آپ کو وہ کسی نہ کسی مذہبی پیغام کا حوالہ دے گا‘ وہ کوئی نہ کوئی سیاسی فلسفہ بیان کرے گا اور آپ کے کان میں کوئی نہ کوئی افواہ انڈیل دے گا‘ ہمارے لوگوں کو یہ تک معلوم ہے چیف جسٹس آف پاکستان عمران خان کو معاف کر دیں گے۔
صدر اکتوبر میں وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ مانگ لیں گے اور آصف زرداری آرمی چیف کو ایکسٹینشن دلوا دیں گے۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں ہمارے موجودہ سیلاب قدرتی نہیں ہیں‘ ہمیں ایک عالمی سازش کے ذریعے پانی میں ڈبویا گیا لہٰذا آپ خود سوچیے لوگ جب کتابوں‘ اسپورٹس‘ تیراکی‘ واک اور مکالمے کے بجائے سیاست‘ مذہب اور افواہ کو تفریح بنا لیں گے تو پھر یہ کتنا عرصہ صحت مند رہ لیں گے؟

عمران خان کیا تمہارا تقرر میرٹ پر ہوا تھا ؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ کے لیے شاید یہ بات نئی ہو کہ ہم زمین پر حیات کا پانچواں باب ہیں‘ ہم سے پہلے اس زمین سے چار مرتبہ زندگی ختم ہو چکی ہے اور یہ مکمل خاتمے کے بعد ایک بار پھر دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے‘ زندگی زمین سے چوتھی مرتبہ آج سے 65 ملین سال پہلے ختم ہوئی تھی جب آسمان سے دیوہیکل شہاب ثاقب ٹوٹ کر زمین پر گرا تھا اور اس نے زمین سے زندگی کا صفایا کر دیا تھا۔ ڈائنو سار کا دنیا سے خاتمہ اسی حادثے کا نتیجہ تھا لیکن زندگی نے ایک بار پھر آنکھ کھولی اور یہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی 2022 تک پہنچ گئی۔ آج کے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستانیوں کی عمریں سارک کے باقی ملکوں کے شہریوں سے کم ہیں‘ ہم پاکستانیوں کی اوسط عمر تقریباً 68 سال جب کہ ہمارے مقابلے میں بھارتی شہریوں کی اوسط عمر ساڑھے ستر سال‘ بنگلہ دیش ساڑھے 73 سال‘ بھوٹان پونے 73 سال‘ نیپال پونے 71 سال اور سری لنکا والوں کی اوسط عمر ساڑھے 77 سال ہے۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی اوسط عمر کم کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ یہ تو میں نہیں جانتا لیکن جہاں تک عمومی تاثر ہے ہماری اوسط عمر میں کمی کی چھ موٹی موٹی وجوہات ہیں۔
ہماری کم عمری کی پہلی وجہ اسٹریس ہے‘ ہم اوپر سے لے کر نیچے تک اسٹریس فل زندگی گزار رہے ہیں‘ آپ صدر سے ریڑھی بان تک لوگوں کو دیکھ لیں‘ آپ کو ہر شخص کے چہرے پر تناؤ اور کندھوں پر بوجھ نظر آئے گا‘ ہمارے ملک کے خوش خال ترین لوگ بھی ٹینشن کا پہاڑ لے کر بستر سے اٹھتے ہیں اور سارا دن کوشش کر کے اس پہاڑ میں اضافہ کرتے ہیں اور پھر تھک کر ایک بار پھر لیٹ جاتے ہیں۔
ہمارے ملک کے علماء پیر اور حکیم تک ٹینشن اور اینگزائٹی کی ادویات کھاتے ہیں اور یہ پڑھی لکھی بات ہے ٹینشن دنیا کی تمام بیماریوں کی ماں بھی ہے اور یہ انسانی زندگی میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے اور ہم من حیث القوم اس کا شکار ہیں‘ دوسری وجہ عدم استحکام ہے‘ دنیا کا کوئی بھی جان دار عدم استحکام میں زندہ نہیں رہ سکتا‘ ہم انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے دماغ بھی دے رکھا ہے‘ ہم چیزوں کو وقت سے پہلے دیکھ سکتے ہیں لہٰذا عدم استحکام ہمارے لیے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پاکستانیوں سے 18 برس اوسط زیادہ عمر رکھنے والے ہانگ کانگ کے باسی کتابیں پڑھتے ہیں، ایکسرسائز کرتے ہیں، اور غیرضروری سیاسی گفتگو سے پرہیز کرتے ہیں چناں چہ وہاں عام سا شخص بھی 86 سال صحت مندانہ زندگی گزار لیتا ہے جب کہ ہم ان تمام علتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ پاکستانیوں کی اوسط عمر کم ہونے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہیں۔ پاکستان میں کسان کو بھی خالص اناج‘ گوالے کو بھی ملاوٹ سے پاک دودھ‘ قصائی کو بھی صحت مند گوشت‘ اور باغبان کو بھی خالص پھل نہیں ملتا‘ آپ بڑے سے بڑے ریستوران میں چلے جائیں‘ آپ کو اے کوالٹی خوراک نہیں ملے گی‘ ہم گوشت‘ سبزیوں‘ دالوں‘ اناج اور کوکنگ آئل کی شکل میں زہر کھاتے ہیں‘ ہمارے ڈاکٹرز تک اپنے لیے ادویات دوسرے ملکوں سے منگواتے ہیں اور منرل واٹر بھی گرم کر کے پیتے ہیں چناں چہ پھر ہماری زندگی طویل کیسے ہو سکتی ہے؟
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی اوسط عمر کم ہونے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم من حیث القوم منفی اور احسان فراموش ہیں‘ آپ کسی محفل میں چلے جائیں آپ کو ہر شخص دوسرے کے بارے میں منفی بات کرتا ملے گا‘ لوگ اب اپنے بارے میں بھی اچھی بات نہیں کرتے اور ہم اوپر سے لے کر نیچے تک احسان فراموش بھی ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے۔
جاوید چوہدری سوال کرتے ہیں کیا ہم نے قائداعظم سے لے کر ڈاکٹر عبدالقدیر تک کسی شخص کے احسان کا بھرم رکھا‘ کیا ہم نے خود پر احسان کرنے والے کسی شخص کی عزت کی‘ ہمیں مشکل وقت میں جو بھی شخص سہارا دیتا ہے ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ اور یہ بھی لکھی پڑھی بات ہے احسان یاد رکھنے والوں اور دوسروں کے بارے میں مثبت سوچنے والوں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ دنیا میں شاکر لوگ اچھی اور طویل زندگی گزارتے ہیں‘ شکر خوشی اور عمر دونوں میں اضافہ کرتا ہے لیکن ہم اس معاملے میں کنجوس قوم ہیں‘ ہمیں جو مل گیا ہم اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور پوری زندگی اس کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں جو ہمیں نہیں مل سکا چناں چہ پھر ہماری زندگی میں برکت کہاں سے آئے گی؟

Back to top button