آرمی چیف کے امیدواروں کی سینیارٹی کا تعین کیسے ہوگا؟

عمران خان کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کو نئے آرمی چیف کی سلیکشن نہیں کرنے دیں گے، ملک بھر میں اس وقت یہ بحث شروع ہے کہ خان صاحب کی جانب سے میرٹ پر نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے کیا مراد ہے کیونکہ پچھلے چار فوجی سربراہان کی تعیناتیاں سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھیں۔ اسکے علاوہ جب جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا وقت آیا اور عمران کو خود نیا آرمی چیف لگانے کا موقع ملا تو انھوں نے ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے آئین میں ترمیم بھی کروا دی۔ اسی لئے اب جبکہ جنرل باجوہ 28 نومبر کو ریٹائر ہونے جا رہے ہیں تو ایک مرتبہ پھر ایسی افواہیں چل رہی ہیں کہ شاید انہیں ایک سال کی اور توسیع دے دی جائے۔
کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر تنازعہ کھڑا کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنرل قمر باجوہ کو ایک ایکسٹینشن اور دلوانا چاہتے ہوں۔ فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق کہا کہ ’آصف زرادری اور نواز شریف نومبر میں اپنا فیورٹ آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں کیونکہ انھوں نے پیسے چوری کیے ہوئے ہیں۔ یہ ڈرتے ہیں کہ کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آ گیا تو ان سے پوچھے گا لہٰذا اس ڈر سے یہ دونوں مل کر اپنا آرمی چیف مقرر کریں گے۔
عمران کا کہنا تھا کہ ’جو بھی میرٹ پر بنتا ہے اسی کو نیا آرمی چیف بننا چاہیے۔ کسی کا پسندیدہ آرمی چیف نہیں ہونا چاہیے، کسی کا فیورٹ نہیں ہونا چاہیے۔ اس بیان کے ردِ عمل میں آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک روایتی مذمتی بیان جاری کیا گیا جس میں عمران کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کی سینیئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور زور دیا گیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانے سے پرہیز کیا جائے۔ لیکن پشاور کے جلسے میں عمران خان نے دو قدم اور آگے بڑھتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف تعینات نہیں کرنے دیں گے کیونکہ دونوں چور اور کرپٹ ہیں۔ لیکن یہ اعلان کرتے ہوئے عمران نے واضح نہیں کیا کہ وہ موجودہ حکومت کو نئے آرمی چیف کی سلیکشن سے کیسے روکیں گے۔ اس کے علاوہ عمران یہ بھی بھول گئے کہ کہ جنرل مشرف، جنرل راحیل شریف، جنرل اشفاق کیانی اور جنرل قمر باجوہ کی بطور آرمی چیف تعیناتی بھی نوازشریف اور آصف زرداری کی حکومتوں نے ہی کی تھیں۔ لہذا اگر عمران کے اعتراض پر غور کیا جائے تو پھر تو یہ چاروں آرمی چیف بھی متنازعہ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان چاروں کو سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں لگایا گیا تھا۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل جن فوجی افسران کی لسٹ وزیرِ اعظم کو ارسال کی جاتی ہے اس میں کون سے نکات پر غور کیا جاتا ہے اور اس مرتبہ اس لسٹ میں کن جرنیلوں کے نام شامل ہوں گے؟ یاد رہے کہ جنرل باجوہ 28 نومبر کو ریٹائر ہونے جا رہے ہیں اور چند ماہ قبل فوجی ترجمان نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنی ملازمت میں مزید توسیع کے خواہشمند نہیں۔ تاہم اس مدت کے خاتمے میں جب اب تین ماہ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ’ایکسٹینشن‘ کی بازگشت دوبارہ سنائی دینے لگی ہے اور فوج کی جانب سے فی الوقت ان خبروں پر دوبارہ کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

اسمبلی میں جا کر معاملات حل کرنے کا کہا جا رہا ہے

آرمی چیف کی تقرری آئین کے آرٹیکل 243 کے سیکشن تین کے مطابق صدر مملکت، وزیر اعظم کی سفارش پر کرتا ہے۔‎عام طور پر جی ایچ کیو چار سے پانچ سب سے سینیئر لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں کی فہرست اور ان کی تفصیلات وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جس کے بعد یہ لسٹ وزیر اعظم کی میز پر پہنچتی ہے جو صدر سے مشاورت کے بعد اس عہدے پر تعیناتی کرتے ہیں۔ اس معاملے پر مزید غور و خوض کے لیے اگر وزیر۔اعظم چاہیں تو کابینہ کے سامنے بھی یہ معاملہ زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے اور وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ غیر رسمی مشاورت کر سکتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ایک سابق سینیئر افسر کے مطابق فوج میں یہ قانون تو نہیں تاہم روایت ضرور ہے کہ فور سٹار جنرل یعنی آرمی چیف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی پانے والے افسران بطور لیفٹننٹ جنرل کمانڈ اور سٹاف دونوں فرائض سرانجام دیتے ہیں۔پاکستانی فوج میں اب تک صرف ایک افسر ایسے ہیں جو کور کی کمان کیے بغیر فور سٹار کے رینک تک پہنچے۔
یہ تب ہوا تھا جب سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق نے اپنے سمدھی جنرل خالد محمود عارف کو وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ خیال رہے کہ ایک لیفٹننٹ جنرل کے عہدے کی مدت چار سال ہے جس میں سے عام طور پر دو سال پرنسپل سٹاف ڈیوٹی جبکہ دو سال کسی بھی کور کی کمان میں صرف کیے جاتے ہیں۔
بی بی سی سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار فرحت جاوید کے مطابق آرمی ایکٹ کے مطابق کسی بھی افسر کی لانگ کورس میں سینیارٹی ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر ملنے والے نمبر کی بنیاد۔ہر۔کی جاتی ہے جسے پاک آرمی یا پی اے نمبر کہا جاتا ہے۔ سروس کی عمر یا اس رینک کے لیے مختص مدت میں سے جو پہلے آئے، اسی کے مطابق ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے۔ مثلا موجودہ آرمی چیف اگرچہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہی دن پاس آوٹ ہوئے تاہم آرمی چیف بننے سے قبل وہ اپنے کورس میں سینیارٹی میں چھٹے نمبر پر تھے جس کی وجہ ان کا پی اے نمبر تھا۔
اسی طرح موجودہ سینیئر ترین لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل سید عدنان اپنے رینک کی مدت پوری ہونے پر اکتوبر 2022 میں ریٹائر ہوں گے اور یوں وہ فور سٹار جنرل کی دوڑ میں بھی شامل نہیں ہوں گے اب ہم تمام افسران کا ذکر ہے جو آئندہ برس نومبر میں سینیر ترین ہوں گے اور آرمی چیف بننے کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔
نومبر 2022 میں اگر وزیر اعظم شہباز شریف سینیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کا انتخاب کرتے ہیں تو موجودہ فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت 76 ویں لانگ کورس کے افسران فوج میں سب سے سینیئر ہیں۔76ویں لانگ کورس میں آج سینیئر ترین افسر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہیں تاہم انہیں تکنیکی بنیاد پر نئے آرمی چیف کی دوڑ سے باہر بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ ہو جائے گی۔ عاصم منیر کی بطور تھری سٹار تعیناتی تو ستمبر 2018 میں ہو گئی تھی تاہم انھوں نے اگلے دو ماہ رینک نہیں لگایا تھا۔ اس لیے ان کی چار سالہ مدت ملازمت 27 نومبر کو یعنی موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن پہلے پوری ہو گی اور وہ اس دوڑ میں اسی صورت میں شامل ہو سکتے ہیں کہ وزیر اعظم کو بھجوائی جانے والی سنیارٹی لسٹ میں ان کا نام بھی شامل ہو۔ لیکن اس کا انحصار جنرل باجوہ پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
عسکری ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے منتخب ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ لیکن انہیں آرمی چیف کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے یا تو دو دن کی توسیع دینا یو گی یا پھر جنرل باجوہ کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہو گی۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ نئے آرمی چیف کی سنیارٹی لسٹ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے کافی پہلے وزیر اعظم کے پاس جاتی ہے لہٰذا اس میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا نام لازمی شامل ہوگا۔
عاصم منیر کے بعد 76 ویں لانگ کورس میں دوسرا نام لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے۔ اسکے بعد 76وین لانگ کورس سے لیفٹیننٹ جنرل چراغ حسرت کا نام آتا ہے جو سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ ماضی میں بننے والے فوجی سربراہان کا ریکارڈ اور ان جنرلز کی اسائنمنٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ 76ویں کورس کے تقریبا تمام ہی افسران مضبوط پروفائل رکھتے ہیں۔ سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ساحر شمشاد مرزا اس وقت ٹین کور، جسے راولپنڈی کور بھی کہا جاتا ہے، کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل خود آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی یہی کور کمان کی تھی۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔
اس سے پہلے ساحر فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل سٹاف تعینات رہے۔ وہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔ اسکے علاوہ وہ وائس چیف آف جنرل سٹاف رہے جو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ چیف آف جنرل سٹاف بنے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈویژن کی کمانڈ کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔
بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے اظہر عباس سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے بطور کور کمانڈر ٹین کور کمان کی ہے۔ ان دو عہدوں کی حد تک جنرل اظہر عباس اور ساحر شمشاد مرزا کی پروفائل ملتی جلتی ہے۔ اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری سکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔ وہ جنرل (ر) راحیل شریف کے پی ایس سی یعنی پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف رہے ہیں۔
اگرچہ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہیں مگر ایک مضبوط کیریئر کے حامل ہیں۔ فوج میں انھیں خاص طور پر ہماری مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔ ان کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی جنگ میں شامل تھے تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں یعنی ان کے لاپتہ ہونے کے باعث ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق علم نہیں۔ بعد میں نعمان محمود نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کی کمانڈ بھی کی۔ بلوچ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ پشاور کے کور کمانڈر تعینات رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دفتر میں نہیں پائے جاتے اور ان کا زیادہ وقت فارورڈ ایریاز میں گزرتا ہے۔ انھیں سابق فاٹا کی جنگ کا ماہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ ان کی اسائنمنٹس ہیں۔
وہ بریگیڈئیر کے طور پر الیون کور میں ہی چیف آف سٹاف رہے، بطور میجر جنرل انھوں نے شمالی وزیرستان میں ڈویژن کی کمان سنبھالی اور افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے منصوبے کی نگرانی کی۔ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔
فوجی جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر اس وقت غالبا خاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر معروف لفٹننٹ جنرل محمد عامر ہیں جو کشمیری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھنے والے عامر سابق صدر آصف زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل سٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی۔ اس وقت اس وقت وہ گوجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے.
سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر ہین جنکا تعلق فرنٹئیر فورس رجمنٹ سے ہے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انھوں نے آفیسر ٹریننگ سکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔
بطور بریگیڈیئر وہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔ انڈیا کی جانب سے ستمبر 2019 میں لائن آف کنٹرول کے پاس سرجیکل سٹرائیک کے وقت وہ جہلم کا ڈویژن کمانڈ کر رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ رہے جبکہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔ اس وقت وہ کور کمانڈر ملتان ہیں۔اس کے علاوہ پاک فوج کے متنازعہ ترین جرنیل سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی آرمی چیف کے امیدواروں کی لسٹ میں شامل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ایک برس کور کمانڈ کر لیں۔

Back to top button