میجر عزیز بھٹی پر ڈرامہ بنانے میں 11 برس کیوں لگ گے؟

بہت کم پاکستانی جانتے ہیں کہ ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے میجر راجہ عزیز بھٹی شہید بارے پی ٹی وی کے لیے ڈرامہ بنانے کا فیصلہ 1984 میں ہو گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد میں 11 برس لگ گے اور یوں یہ ڈرامہ 1995 میں تیار ہوا۔ پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے 1984 میں میجر عزیز بھٹی شہید پر ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کیا اور ان سے مشابہہ اداکار ڈھونڈنے کا کام شروع ہوا۔ طویل انتظار کے بعد اس ڈرامے کی شوٹنگ 1995 میں شروع ہوئی، ناصر شیرازی نے میجر عزیز بھٹی شہید کے کردار میں ایسی جان ڈالی کہ شہید کے اہلخانہ بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ سال 1984 ہے، افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر پہ ڈرامہ بنانے کیلئے ان سے مشابہہ کسی موزوں اداکار کو ڈھونڈنے کا ٹاسک پاکستان ٹیلی ویژن کے تمام سینٹرز کو سونپ رکھا ہے۔ پاکستانی فلم اور ٹی وی کی دنیا کے اس وقت کے ایک سے بڑے ایک فنکار بشمول عابد علی، قومی خان، فردوس جمال، راحت کاظمی اور کئی دوسرے ناموں کی فہرست پیش کی گئی لیکن بات نہ بن سکی، دوسری طرف ان سب باتوں سے نا آشنا 24 سال کا ایک خوبصورت نوجوان ناصر شیرازی پی ٹی وی لاہور سینٹر میں اپنے روز مرہ کے کام میں مگن ہے۔ جب کسی طرف سے بھی کوئی موزوں چہرہ سامنے نہ آسکا تو اپنے وقت کے منجھے ہوئے ہدایتکار اور پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سینٹر کے اس وقت کے جنرل منیجر محمد نثار حسین کی نظر ناصر شیرازی پر پڑی جن کی شکل و صورت اور قد کاٹھ بھی میجر عزیز بھٹی سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔

ناصر شیرازی کو ملاقات کے لیے بلا لیا گیا۔ اگلے روز ناصر شیرازی جب جنرل مینیجر سے ملنے ان کے آفس پہنچے تو آواز آئی کہ ناصر میں تمھیں ایک ڈرامے میں ہیرو بنانا چاہتا ہوں، جنرل مینجر کے اس مختصر جملے سے شرمیلا نوجوان حیران ہوا۔ میں اور ہیرو! اس نے خود سے سوال کیا۔ سر میں پڑھنے لکھنے والا بندہ ہوں اداکاری کا کبھی سوچا نہیں اور نہ ہی یہ میرا شوق ہے۔ ناصر شیرازی نے معذرت کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ نثار حسین یہ جواب سنتے ہی زیر لب مسکرائے اور کہنے لگے کہ نہیں یار آپ اس پہ سوچو اور اپنا ذہن بناؤ ہم نے آپ کیلئے کوئی بڑا کردار سوچ رکھا ہے، کچھ دیر بعد یہ ملاقات ختم ہوئی اور ناصر شیرازی واپس لوٹ گئے۔

توہین عدالت پرعمران خان کی نااہلی یقینی کیوں ہو گئی؟

ناصر شیرازی اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ جنرل مینیجر نے دوبارہ بلا لیا، نثار حسین صاحب کہنے لگے کہ جو کردار آپ کے لیے سوچ رکھا ہے وہ بڑا تاریخی ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہے اور وہ کردار 1965 کی پاک-بھارت جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کا ہے، جب میں نے یہ سنا تو بغیر کچھ سوچے، سمجھے کہ میں یہ کر پاؤں گا بھی یا نہیں فوری ہاں کر دی جبکہ سلیکشن بورڈ نے بھی گرین سگنل دیدیا، 1984کے بعد حالات کچھ ایسے بدلے کہ یہ پراجیکٹ شروع نہ ہوسکا،1986-87میں بھارت کے ساتھ حالات پھر کشیدہ ہوگئے اور یہ معاملہ پھر التوا کا شکار ہوگیا۔ کرتے کرتے 1995 آ گیا جب ڈرامے کی پروڈکشن کے متعلق معاملات دوبارہ شروع ہوئے، ناصر شیرازی کے بقول جب ڈرامے کی شوٹنگ کا وقت آیا تو میں اس وقت روزنامہ پاکستان میں کام کر رہا تھا کیونکہ میری پی ٹی وی کی ملازمت تو کئی سال قبل ہی جا چکی تھی۔ میں نے اپنے چیف ایڈیٹر اور مالک اکبر علی بھٹی سے بات کی، چھٹی سے انکار ہوا تو نوکری سے استعفیٰ دے کر شوٹنگ پہ آگیا، اس ڈرامے کا سکرپٹ مشہور لکھاری اصغر ندیم سید نے لکھا۔۔ناصر شیرازی تسلیم کرتے ہیں میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار ادا کرنا ایک مشکل کام تھا جس کے لیے بہت محنت کی گئی۔ میجر عزیز بھٹی کے متعلق کئی کتابیں اور رسائل پڑھے، میجر عزیز بھٹی کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے سینئر اور جونیئر نے بہت مدد کی،اس کے علاوہ ٹریننگ کے دوران میں نے تقریبا 200 افراد کے انٹرویو بھی کیے۔
اس ڈرامے کی شوٹنگ چار مختلف شہروں میں کی گئی، شوٹنگ کے دوران اس بات کا بھی خاص خیال رکھا گیا کہ جو اسلحہ 65ء کی جنگ میں استعمال ہوا تھا وہی اسٹور سے نکال کر استعمال کیا گیا، لاہور میں بی آر بی نہر کے کنار ے پر جب جنگ کے مناظر فلمانے کا وقت آیا تو انڈیا کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا کہ ہم بارڈر کے ساتھ ڈرامہ کی شوٹنگ کرنے لگے ہیں تاکہ 40, 50 ٹینکوں کی موومنٹ اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے کہیں بارڈر پر کوئی ہلچل ہی نہ ہو جائے۔

ناصر شیرازی کے مطابق اس کردار کے لیے میں نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ میں نے 1984 سے 1995 تک کم از کم 100 کے قریب مختلف ڈراموں کی پیشکشیں ٹھکرائیں۔ ڈرامہ آن ایئر ہو جانے کے بعد میں نے دوسرے ڈراموں میں بھی کام کیا اور اب تک 70 کے قریب مختلف ڈراموں میں کام کر چکا ہوں، اس کردار سے ﷲ نے لوگوں کی نظروں میں جو عزت اور احترام دیا ہے، پیسوں سے کہیں بڑھ کر ہے، ڈرامے کی تیاری میں میرے تو دس سال لگ گئے۔
ناصر شیرازی نے بتایا کہ ڈرامے کہ پروڈکشن میں ایک بڑا زبردست لمحہ وہ ہے جب شہادت کا سین ریکارڈ ہونا تھا، میں نے اس منظر میں دکھانا تھا کہ میں شہید ہو چکا ہوں جس کے بعد ایک چھوٹی ٹرالی آتی ہے اور مجھے اس میں ڈال کر لیجایا جا رہا ہوتا ہے جبکہ بیک گراؤنڈ میں ‘اے راہ حق کے شہیدو’ نغمہ چل رہا ہوتا ہے۔ اس سین کی شوٹنگ ختم ہوئی تو ڈائریکٹر نے کٹ بھی بول دیا لیکن میں نے آنکھیں نہیں کھولیں، میں اس نغمے کے سحر میں اس قدر مبتلا تھا کہ میں نے ایسا محسوس کیا جیسے میں حقیقت میں شہید ہوچکا ہوں۔ جب ڈرامہ مکمل ہوگیا تو ٹیلی کاسٹ کرنے سے پہلے پی ٹی وی میں اس کا پر ری ویو رکھا گیا جس میں اعلیٰ فوجی افسران، پی ٹی وی کے اہم عہدیدار اور میجر صاحب کی بیگم جنھیں ہم احترام میں باجی ذرینہ کہتے تھے ان سمیت خاندان کے دیگر لوگ بھی جمع تھے کیونکہ ان سے اس روز منظوری لینا تھی، فنکار برادری سے مجھے بھی بلایا گیا تھا، جب شہادت کا منظر ختم ہوا تو وہ زار و قطار رو رہی تھیں اور آخری فقرہ جو انھوں نے کہا وہ یہ تھا، ناصر شیرازی نے جو کر دیا ہے اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا، میجر صاحب شہید یہی کچھ تھے جو آپ نے دکھا دیا۔ ان کے چھوٹے بیٹے جاوید اقبال بھی مجھ سے کہنے لگے کہ جب میجر صاحب شہید ہوئے تو وہ محض چھ ماہ کے تھے اس ڈرامہ کو دیکھ کر انھیں پتہ چلا کہ میجر صاحب کیسے زبردست باپ اور کس قدر فرض شناص فوجی افسر تھے اور یہ ناصر شیرازی آپ کا ہی کمال ہے کہ آپ نے اس ڈرامے کے ذریعے مجھے میرے باپ سے روشناس کروایا۔

Back to top button