خان، ادارے نہ تو بھولتے ہیں اور نہ ہی معاف کیا کرتے ہیں

فوج کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آنے والے عمران خان کو فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے یاد رکھنا چاہیے کہ ادارے نہ تو بھولتے ہیں اور نہ ہی معاف کرتے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں یہ وارننگ دیتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستانی فوج کے سینئر جرنیلوں میں سے کوئی غیر محبِ وطن بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ عمران خان تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار سے نکالے جانے کی صورت میں خطرناک ہو جانے کی دھمکی دینے والے عمران اب واقعی خطرناک ترین ہو چکے ہیں اور کھلے عام اپنی بے بنیاد بیانیے کے زور پر فوج میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ ملک بھر میں جلسے اور جلوس کرتے ہوئے ایک ہی مطالبہ کررہے ہیں کہ فوری الیکشن کروانے جائیں۔ اس سے پہلے انہوں نے 25 مارچ کے لانگ مارچ کی کال دیتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ان کا فوری الیکشن کا مطالبہ منظور نہ کیا گیا تو وہ 25 لاکھ لوگوں کیساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کر دیں گے اور حکومت کو گھر جانے پر مجبور کر دیں گے۔ تاہم پشاور سے لانگ مارچ کا آغاز کرنے والے عمران جب سپریم کورٹ کی مداخلت کے نتیجے میں اسلام آباد پہنچے تو ان کی ہوا نکل گئی اور وہ چھ روز بعد دوبارہ لانگ مارچ کی دھمکی دے کر ایسے غائب ہوئے کہ آج دن تک لوٹ کر واپس نہیں آئے۔ اب ان کا زور جلسے جلوسوں پر ہے اور وہ حکومت سے زیادہ فوج پر تنقید کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد اس قومی ادارے میں نفاق پیدا کرنا ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب نئے ارمی چیف کا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے ساتھیوں کو یہ یقین دلایا رکھا ہے کہ وہ اگلا الیکشن دو تہائی اکثریت سے جیتنے کے بعد ایک مرتبہ پھر برسراقتدار آئیں گے اور ان کی حقیقی آزادی حاصل کرنے کی جنگ کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ اب تو خان صاحب واضح اشارے بھی دینا شروع ہوگئے ہیں کہ وہ قوم کو حقیقی آزادی کس سے دلوانا چاہتے ہیں۔ عمران اپنے ساتھیوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ فوج سمیت پاکستان کے ہر ادارے میں بغاوت کروائی جا سکتی ہے، تاہم افسوس کیوں نہیں روکنے والا کوئی نہیں۔
عمران خان کیا تمہارا تقرر میرٹ پر ہوا تھا ؟
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے کمال مہارت سے اپنے چاہنے والوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اپنے پیچھے لگا لیا ہے اور یہ ان کے جھوٹ کو بھی سچ تسلیم کرکے لبیک کہنے کو تیار ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کے تصادم اور ٹکراؤ کے بیانیے نے بھی انکی مقبولیت کو چار چاند لگائے ہیں۔ نیازی کے بقول عمران جھوٹے بیانیہ گھڑنے کے بھی ماہر ہیں اور اسی لیے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد دے انھوں نے امریکی سازش کا جو بیانیہ تیار کیا اس نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی ہوا نکال دی۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کے بیانیے نے ان کی پونے چار سالہ حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر عوامی مقبولیت تو دلوا دی لیکن اپنے ہدف سے کوسوں دور کر دیا۔ انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لے کر اور تصادم کی سیاست کرکے وہ اقتدار میں واپس نہیں آ سکتے۔ بلکہ امکان تو اس بات کا ہے کہ یہ ٹکراؤ انہیں پہلے الیکشن سے اور پھر سیاست سے بھی باہر کر دے گا۔ مانا کہ اسٹیبلشمنٹ سے تصادم کا بیانیہ سیاستدان کو رفعتیں عطا کرتا ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود یے کہ اسٹیبلشمنٹ سے جو بھی ٹکرایا وہ پہلے سیاست سے باہر ہوا اور پھر ملک چھوڑنا پڑا۔ یاد رکھیں کہ ادارے نہ تو بھولتے ہیں اور نہ ہی معاف کرتے ہیں۔
حفیظ اللہ نیازی یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان آخری دنوں کسی بھی قیمت پر اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ عمران کی اقتدار سے علیحدگی بزور طاقت یا ماورائے آئین اقدامات کے ذریعے نہیں بلکہ عین آئینی تقاضوں کو پورا کر کے ہوئی۔وطنی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی۔ عمران نے اس کو اپنی بے عزتی اور توہین جانا۔ اس سے پہلے جب انہیں سن گن ہوئی، تو غصے سے بپھر کر ننگے الفاظ میں فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہ بیانیہ انہیں وقتی مقبولیت دے گیا مگر الیکشن سے کوسوں دور لے گیا۔ عمران نے فوری الیکشن کرانے کے لئے ترکش کے سارے تیر چلا دیئے، جلوس،جلسوں پر پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ درجنوں جلسے کراچی تا پشاور کر ڈالے۔ 25/30 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا دعویٰ بھی کر ڈالا، بالآخر 25 مئی کو ’’لانگ مارچ‘‘ کا دن آیا تو سارے صوبائی وسائل کے باوجود عوام کو اسلام آباد لانے میں ناکامی ہوئی۔ نیازی کہتے ہیں کیا مجھے نہیں معلوم کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد سے خان کی مقبولیت دگنی ہو چکی ہے یا نہیں جیسا کہ عمران کے ساتھ دعوی کرتے ہیں۔ لیکن آگے ان کی مقبولیت میں اضافے کی بجائے کمی ہوتی نظر آ رہی ہے عمران کو معلوم ہے کہ اسلام آباد پر ناکام دو چڑھائیوں کے بعد تیسری چڑھائی کی کامیابی بھی ممکن نہیں۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خان نے فوج اور عدلیہ کے خلاف بد زبانی کی ایک نئی تاریخ رقم کی جس کے منفی نتائج بھی اب ان کے سامنے آرہے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ خان صاحب نے نے اپنا 25 مئی کا لانگ مارچ ناکام ہونے کے بعد حکومت کی مخالفت میں پاکستان کا بھی بیڑا غرق کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔
25 مئی کے بعد تحریک انصاف نے ساری توجہ پاکستان کے ڈیفالٹ اور اقتصادی ابتری سے باندھ لی۔پاکستان کو سری لنکا بنانے پر زور لگایا گیا۔ شوکت ترین کا دو صوبائی وزرائے خزانہ سے رابطہ کر کے آئی ایم ایف کی مدد رُکوانااور پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنا انہی کوششوں کی ایک کڑی تھی لیکن پاکستان کی خوش قسمتی کے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ہر جگہ منہ کی کھانی پڑی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد عمران خان کا سیاسی مستقبل بے یقینی کا شکار ہے۔ توشہ خانہ سکینڈل، ملک ریاض کو 250 ملین کو واپس کر۔کے 450 کنال زمین لینے کا کیس، فرح گوگی کرپشن سکینڈل، توہین عدالت کیس، فوج میں بغاوت کی سازش اور ایسے کئی الزامات عمران کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ ایسے میں عمران کا نا اہلی اور سزا سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا۔
