شکر ہے زرداری نے مجھ پر ہتک عزت کا مقدمہ کیاہے

تحریک انصاف  کے چیئرمین  اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پیپلزپارٹی  کے شریک چیئرمین پر عائد کیے  گئے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہےکہ شکر ہے کہ آصف زرداری نے مجھ پر ہتک عزت کا مقدمہ کیا ہے، میری اطلاعات اتنی پکی ہیں کہ مجھے تفصیلات تک معلوم ہیں۔

زمان پارک لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے عوام سے خطاب کے دوران عمران خان نے  کہا سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے ہتک عزت کے مقدمے کو قیامت کی نشانی قرار دیا اور انہیں مخاطب کرکے کہا کہ میں تو شکر ادا کررہا ہوں کہ آصف زرداری آپ عدالت میں آئیں گے، سب سے پہلے جب یہ مقدمہ عدالت میں جائے گا تو آپ سے سوال کیا جائے گا کہ کیا آپ کی کوئی ساکھ ہے جو خراب ہوئی ہے، ساری دنیا کے آپ کو مضمون دکھائیں گے کہ آپ کا نام مسٹر ٹین پرسنٹ رکھا گیا تھا، یہ ہر چیز پر پیسے بناتے تھے، قرآن پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اب تک آپ کتنے لوگ مروا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں تو شکر کر رہا ہوں کہ آپ مجھ پر ہرجانہ کریں۔ جب میں کہہ رہا تھا کہ مجھے قتل کیا جائے گا اور ایک دینی انتہا پسند کے نام پر مجھے قتل کریں گے تو کیا کسی نے تحریری معاہدہ کیا تھا، مجھے کہیں سے پتا چل ہی گیا تھا، یہ اس سے پہلے بھی ایک منصوبہ بنا چکے تھے، یہ پلان بی بنا تھا، مجھے تحریری طور پر تو کسی نے نہیں کہا تھا بلکہ اطلاع ملی تھی اور وہ ساری اطلاعات ثابت ہو رہی ہیں، میری اطلاعات اتنی پکی ہیں کہ مجھے تفصیلات تک معلوم ہیں، یہ دہشت گردوں کا اسپلنٹر گروپ ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کے ساتھ کون سی ایجنسی کے افسران ملے ہوئے ہیں جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہے،ے پلان اے بنا جن کے نام میں نے ٹیپ پر ریکارڈ کر کے باہر بھجوا دیے ہیں، پھر پلان بی بنا جن میں تین لوگ ملوث تھے اور انہوں نے تیسرا منصوبہ بنایا ہوا ہے جو دہشت گردی کے نام پر ہوگا اور یہ کہا جائے گا کہ دہشت گرد نے خودکش حملہ کیا اور عمران خان کو مار دیا۔

عمران خان نے کہا کہ پشاور میں بہت دردناک اور تکلیف دہ سانحہ ہوا ہے اور دہشت گردی پر پھر سے بات چیت شروع ہو گئی ہے، دہشت گردی میں آہستہ آہستہ کمی آئی تھی اور اب پھر اس میں اضافہ شروع ہو گیا ہے، ماضی میں بھی خیبر پختونخوا پولیس نے بہت قربانیاں دیں اور جب ہم 2013 میں حکومت میں آئے تھے تو اس وقت تک صوبے کے 700 سے زائد پولیس اہلکار شہید ہو چکے تھے، افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا سانحہ ہوا ہے لیکن اس کو سیاسی بنایا جا رہا ہے، ہم پچھلے 20سال سے ایک عذاب بھگت رہے ہیں، ہم نے افغان جہاد لڑا اور یہ سارا افغان جہاد قبائلی علاقوں سے لڑا گیا لیکن اس میں القاعدہ جیسے گروپس کے مجاہدین بھی جاتے تھے لیکن قبائلی علاقے کے لوگوں نے اس میں بڑے پیمانے پر شرکت کی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ 2001 کے بعد جب جنرل مشرف نے فیصلہ کیا کہ ہم امریکا کی جنگ میں شامل ہوں گے تو پراپیگنڈا سے کسی کی جنگ کو اپنی جنگ بنایا گیا، میں تب سے کہتا رہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں تھی لیکن ہم نے شرکت بھی کی اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اس سے ڈالرز بھی آئے، جب 2001 میں امریکا افغانستان آنے کا فیصلہ کرتا ہے تو جن قبائلیوں نے سوویت یونین کے خلاف جانوں کی قربانیاں دیں ہم نے ان سے کہا کہ اگر اب امریکیوں کے خلاف آپ لڑے تو یہ دہشت گردی ہو گی، سب کو پتا تھا کہ اس کا ردعمل آئے گا، 1948 میں قائد اعظم نے قبائلی علاقوں سے فوج واپس بھیجی اور اس کے بعد پہلی مرتبہ 2003 میں ہم نے پہلی بار قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہم نے قبائلی علاقے میں فوج بھیجی تو وہاں سے مسئلے شروع ہوئے، جو لوگ افغانستان میں امریکی مداخلت کو غلط سمجھتے تھے انہیں بہت غصہ آیا، سارے پشتون علاقے کے لوگوں نے اسی ناراضی کے سبب 2002 کے الیکشن میں ایم ایم اے کو ووٹ دیا کیونکہ ایم ایم اے واحد پارٹی تھی جو یہ کہہ رہی تھی کہ امریکا نے غلط کیا ہے، ہم جیسے جیسے امریکا کی جنگ میں پڑتے رہے اس کا ردعمل دہشت گردی کی شکل میں آتا رہا، آہستہ آہستہ پاکستان میں دہشت گردی اور شدت پسندی بڑھتی گئی اور مجھے افسوس کہنا پڑتا ہے کہ جب میری طرح کے لوگ کہتے تھے کہ یہ غلط ہو رہا ہے تو مجھے طالبان خان کہا گیا، میں بار بار کہتا تھا کہ کوئی فوجی حل نہیں ہے کیونکہ افغانستان والے کسی باہر والے کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2006 سے ڈرون حملے شروع ہو گئے جو آہستہ آہستہ بڑھتے گئے، ڈرون حملوں میں زیادہ تر معصوم لوگ مارے جاتے تھے اور وہ بدلہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور پولیس سے بدلہ لیتے تھے، 2013 میں ہماری حکومت آئی تو پولیس کے حوصلے پست تھے، ہم نے اصلاحات کیں اور مرحوم آئی جی درانی کو لے کر گئے، ہم نے پولیس کمانڈوز کی ٹریننگ کرائی جس کی بدولت پختونخوا کی پولیس پیروں پر کھڑی ہوئی اور ہم نے اس جنگ سے کامیابی سے واپسی کی تھی، 2018 میں ہماری حکومت آئی تو ہم نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت میں سہولت کار کا کردار ادا کیا، ہم نے کوشش کی کیونکہ ہمارا مفاد یہ تھا کہ وہاں امن ہو گا تو پاکستان میں اس کا فائدہ ہو گا، اس وقت پچھلی افغان حکومت پاکستان کے بجائے بھارت کی حامی تھی اور وہ ہماری کوئی مدد نہیں کرتی تھی۔

انہوں نے کہا 2021 کی گرمیوں میں امریکا نے انخلا کی تاریخ کا اعلان کیا تو مجھے خوف آنا شروع ہو گیا کہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، ہماری خفیہ ایجنسیوں نے اطلاع دی کہ افغانستان کی 3لاکھ فوج ہے اور 60 سے 70 ہزار طالبان ہیں لہٰذا وہاں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی تو ہمیں خدشہ تھا کہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے، میرا جنرل باجوہ سے کوئی اختلافات نہیں تھے، ہم ایک پیج پر تھے، جب پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور منتخب حکومت ایک پیج پر تھی تو اس ملک کا بڑا فائدہ ہوا، کافی اچھے اچھے کام کیے لیکن پہلا اختلاف یہ ہوا کہ ایکسٹینشن کے بعد جنرل باجوہ نے بار بار ہمیں کہا کہ ان کو این آر او دے دو اور احتساب سے پیچھے ہٹ جاؤ لیکن میں نے اس سے انکار کر دیا۔

انکا کہنا تھا جنرل باجوہ سے دوسرا اختلاف جنرل فیض پر ہوا، میں یہ چاہتا تھا کہ افغانستان کی وجہ سے سردیوں تک جنرل فیض کو رکھا جائے کیونکہ سب سے مشکل وقت میں سب سے سینئر فرد کو انٹیلی جنس کا سربراہ ہونا چاہیے کیونکہ مجھے اس وقت سے دہشت گردی کا خوف تھا، اللہ نے ہم پر اور افغانستان پر کرم کیا کہ افغانستان کی تربیت یافتہ فوج نے ہتھیار ڈال دیے اور صدر اشرف غنی ملک سے چلے گئے، ایک دم طالبان کی حکومت آ گئی اور خطہ خانہ جنگی سے بچ گیا، اگر خدانخواستہ خانہ جنگی ہوتی سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہونا تھا، امریکا اور طالبان میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں ہمارا بڑا کردار تھا اور انخلا میں بھی پاکستان نے سب سے بڑا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے موضوع پر او آئی سی کے وزرا کی کانفرنس کرائی اور دنیا کو بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے افغانستان میں استحکام ضروری ہے لیکن اس کے بعد بدقسمتی سے رجیم چینج کے نتیجے میں ہماری حکومت کو ہٹا دیا گیا، جب ہماری حکومت ہٹائی گئی تو میں نے جنرل باجوہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کی، طالبان کی افغان حکومت نے کہا تھا کہ ہم 30 سے 40 ہزار طالبان فائٹرز اور ان کے خاندانوں کو بھیجنے لگے ہیں تو نور الحق قادری سمیت اس علاقے سے باخبر ہمارے تین لوگوں نے اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ قبائلی علاقوں کے اراکین قومی اسمبلی اور سیکیورٹی فورسز فیصلہ کریں گی کہ ان کو دوبارہ کیسے بسانا ہے، جب سوات کے مقامی افراد نے طالبان کی واپسی اور ممکنہ دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا تو میں نے خیبر پختونخوا کے اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ ملاقات کی جس میں ان سب نے دہشت گردی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا لیکن اس حکومت کو پتا ہی نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے اور نہ ہی ان کی وہاں کوئی توجہ تھی لہٰذا یہ مسئلہ بڑھنا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ابھی تو لوگوں نے قبروں میں اپنے لوگوں کو دفن بھی نہیں کیا اور تجزیہ بھی نہیں کیا گیا کہ کیا ہوا ہے تو گورنر خیبر پختونخوا خط لکھ دیتا ہے کہ الیکشن ملتوی کردیے جائیں کیونکہ صوبے کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے، کیا صورت حال جانچے بغیر یہ کہنا ٹھیک ہے کہ الیکشن ملتوی کریں، میں آج اس حکومت اور اس کے ذمہ داروں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس کا حساب تو دے سکتے ہیں جب ہم اقتدار میں تھے لیکن جب ہم اقتدار میں ہی نہیں ہیں تو اس کے بارے میں بات کیوں کریں، سوال یہ ہے کہ یہ ہمارے دور میں یہ کیوں نہیں ہوا لیکن آج یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اقتدار میں ایسا کیا تو دہشت گردی بڑھ گئی، مجھے پہلے سے پتا تھا کہ یہ نااہل ہیں، 17سال میں سب سے بہترین معاشی کارکردگی کے باوجود ہماری حکومت تبدیل کی گئی، 30 سال انہوں نے حکومت کی اور آج ملک کی یہ حالت ان کی وجہ سے ہے، جو ملک کو تباہی کی طرف لے کر جائے وہ ملک کو ٹھیک کیسے کر سکتا ہے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہماری تیاری نہیں تھی، ملک کے حالت بہت برے تھے تو ہمیں رہنے دیتے، آپ نے سازش کیوں کی تھی، ہم ذمہ دار تھے، جو آپ نے آ کر ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے ہم اس کے ذمہ دار کیسے ہوئے، ہمارے جانے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر 90 روپے گرا ہے، کیا اس کے ہم ذمہ دار ہیں، اس مہنگائی کے ہر شعبے پر اثر پڑ رہا ہے، آج لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی بن چکی ہے، تنخواہ دار لوگ سوچتے ہیں کہ ان کی تنخواہ میں کیسے گزارا ہو گا، ابھی پوری مہنگائی آئی نہیں ہے اور ابھی پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھنی ہیں اور چیزیں مزید مہنگی ہوں گی، گزشتہ 9 ماہ میں ہمارے قرضوں میں 10ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے بس ایک کارنامہ انجام دیا ہے کہ اپنے کرپشن کے کیسز ختم کروا دیے ہیں، عوام پس رہے ہیں اور 1100 ارب کے اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرا دیے ہیں جس کو ہم این آر او ٹو کہتے ہیں۔

عمران خان  نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کا جلدی الیکشن کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، انہوں نے الیکشن ملتوی کرانے کے لیے اتنی جلدی پشاور سانحے کا استعمال کیا ہے کہ ان کا اس سال الیکشن کرانے کا بھی ارادہ نہیں ہے اور یہ آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ یہ تب الیکشن کرائیں جب یہ سمجھیں کہ تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے اور ہم نے اسی لیے آئین کو سامنے رکھتے ہوئے جلد الیکشن کرانے کے لیے اپنی حکومت سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، اس صورت حال سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے کہ جلد از جلد آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، عوام کے مینڈیٹ سے حکومت آئے، جو حکومت عوام کے فیصلوں سے آئے گی وہ بڑے فیصلے کرے گی اور ان بڑے فیصلوں سے یہ ملک بحران سے نکلے گا۔

مریم نواز کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

Back to top button