کیا 72 سالہ عمران کی فٹنس اب ختم ہورہی ہے؟

عمر کے ستر برس کراس کرنے والے  پی ٹی آئی کے سپر فِٹ چیئر مین عمران خان کا وزن بھی بالآخر بڑھنے لگا ہے اور پہلے کی نسبت ان کا چہرہ کافی بھرا بھرا لگتا ہے اور اس کا ذمہ دار بھی وہ ان سیاسی حریفوں کو ٹھہراتے ہیں جنھوں نے ان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور نتیجے میں ان کی ٹانگ پر گولی لگی۔یہاں تک کہ انھوں نے پیپلز پارٹی کے صدر اور جوڑ توڑ کے بادشاہ  آصف علی زرداری کو بھی موردِ الزام ٹھہرا دیا۔ دراصل آصف علی زرداری کی دھاک ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ جہاں قدم رکھ دیں، سیاسی اتھل پتھل شروع ہو جاتی ہے اور پھر بازی ایسی پلٹتی ہے کہ اچھا بھلا سیاسی قد کاٹھ رکھنے والا سیاستدان بھی بونا دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ آصف زرداری کے سیاسی وژن ہی کا کمال ہے کہ پاکستان جیسے ملک کی ڈولتی جمہوریت میں ان کی حکومت نے پانچ سال مکمل کئے۔ اب بھی جب آصف زرداری نے  پنجاب کا رُخ کیا تو خان صاحب کو پنجاب میں شوقیہ وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی کے لئے جیسے تیسے اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود  اسمبلی توڑنا ہی پڑی۔

دوسری طرف کہنے والے کہتے ہیں کہ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار خان صاحب کی یکے بعد دیگرے بے ہنگم چالوں کی وجہ سے ان کا سیاسی وزن جس تیزی سے گِر رہا ہے تو کیا اس کا کریڈٹ بھی ان کے حریفوں کا جاتا ہے؟ اب تو ان کی پرانی حریف مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز بھی نئے جوش اور جذبے کے ساتھ واپس آچکی ہیں۔ خیر خان صاحب ”لیگ انجری“ کی وجہ سے  چونکہ آج کل ایکسرسائز، جوگنگ، دوڑیں، اٹھک بیٹھک ،کچھ بھی نہیں کر پا رہے تو ان کا یہ بڑھتا ہوا وزن ان کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے جبکہ کھیل ہو یا سیاست، بازی  جیتنے کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر فِٹ ہونا ضروری ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے اعتراف کیا کہ کسی انجری یا گِرنے کے بعد اپنے آپ کو اٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے تاہم اس کوشش میں آپ ذہنی طور پر اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ دیر تک لڑ سکتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خان صاحب اب خود کو ایک لمبی لڑائی کے لئے تیار کر رہے ہیں؟ ویسے ایک بات ہے کہ جب سے ان کی ”لیگ انجری“ ہوئی ہے ان میں واضح تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ چال میں پہلے جیسی تیزی نہیں رہی، جارحانہ انداز بھی کافی حد تک دھیمہ پڑ چکا ہے اور وہ عام طور پر مدافعانہ رویہ اپنائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ  یو ٹرن لینا ان کے لئے اب بھی عام سی بات ہے لیکن اب پریشانی ان کے چہرے سے جھلکتی ہے۔ پے در پے سیاسی جھٹکوں کے ساتھ ساتھ  اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ  وہ اپنی معمول کی “رننگ” اور ایکسرسائز نہیں کر پا رہے یا اس لئے پریشان ہیں کہ جن غیر مرئی قوتوں کے وہ فیورٹ رہے ہیں وہ نیوٹرل ہو چکے ہیں۔بہرحال کچھ تو ہے جس نے خان صاحب کو زمان پارک تک محدود کردیاہے!!

مریم نواز کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

Back to top button