عاشق چودھری: انٹرٹینمنٹ رپورٹنگ کا ایک عہد تمام ہوا

انٹرٹینمنٹ رپورٹنگ میں اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے نامور صحافی عاشق چودھری کی وفات کو ایک عہد کا خاتمہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ عاشق چودھری نے جہاں شوبز رپورٹنگ میں نئی جہتوں کو متعارف کروایا وہیں پر انھوں نے اخبارات میں ہفتہ وار شوبز ایڈیشن کی بنیاد بھی رکھی۔عاشق چودھری کی رحلت سے پیدا ہونے والے خلا کا مدتوں پر ہونا ممکن نہیں۔

سینئر صحافی محمد عاشق چوہدری، ایڈیٹر شوبز اینڈ کلچر روزنامہ جنگ اور جیو ٹی وی، لاہور میں 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ عاشق چودھری پچھلے کچھ سالوں سے علیل تھے۔عاشق چودھری نے پچاس سال سے زائد عرصے تک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں خدمت سرانجام دیں۔ عاشق چودھری پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ  جنگ اخبار اور جیو ٹی وی سے بطور ایڈیٹر کلچر اور شوبز طویل عرصے سے وابستہ رہے۔ عاشق چودھری کو 2015 میں صحافت میں بے پایہ خدمات پر ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔پانچ دہائیوں پر محیط اپنے شاندار کیرئیر میں عاشق چوہدری نے روزنامہ جنگ، اخبار جہاں اور مصور کے لیے پچیس ہزار سے زائد مضامین، انٹرویوز اور فیچرز لکھے۔ انہوں نے پاکستان میں فلم، شوبز اور ثقافتی صحافت کی بنیادیں رکھیں اور مضبوط کیں۔ انہوں نے 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد فلم انڈسٹری کی بحالی میں ایک اہم اور موثر کردار ادا کیا۔

عاشق چودھری کی وفات پر شوبز حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرٹینمنٹ میڈیا کی ترقی عاشق چوہدری کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے اپنے دیکھنے، سننے اور پڑھنے والوں کو نہ صرف فلم، ٹی وی، تھیٹر، ریڈیو، فیشن اور میوزک کے بارے آگاہ کیا بلکہ پاکستان کی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرے پر ان ذرائع ابلاغ کے اثرات کے بارے میں بھی عوام میں آگاہی پیدا کی۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کے لیے پچاس سے زیادہ دستاویزی فلمیں بھی تیار کیں، ہدایت کاری کی اور اسکرپٹ بھی دیا۔ عاشق چودھری نے 1990-2003 تک پاکستان فلم سنسر بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1995-2004 تک بی بی سی ایشیا نیٹ ورک کے ثقافتی نمائندے کے طور پر بھی کام کیا۔ وہ پہلے پاکستانی صحافی تھے جنہوں نے پرنٹ میڈیا میں شوبز اور ثقافت کی روزانہ کوریج شروع کی اور خصوصی ہفتہ وار ایڈیشن کی روایت بھی قائم کی۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا کے اہم مظاہر کا تعارف، وضاحت اور تجزیہ بھی کیا۔ ان میں عالمگیریت، ثقافتی یلغار، ثقافتی فیوژن، قزاقی، میڈیا انضمام، سرقہ اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ انہوں نے ثقافتی نقطہ نظر سے پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے صحافتی کام کا پاکستان بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں مکمل ہونے والی متعدد پوسٹ گریجویٹ (ایم اے) اور ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) تحقیقوں اور مقالوں میں بڑے پیمانے پر حوالہ دیا گیا ہے،  انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران کئی ایوارڈز حاصل کیے جن میں تین نیشنل فلم ایوارڈز، گریجویٹ ایوارڈز، بولان ایوارڈز، ایشیا فلم ایوارڈز، 23 مارچ کے گولڈن جوبلی ایوارڈز اور کئی دیگر شامل ہیں۔ عاشق چودھری نے امریکہ، بھارت (FICCI)، ملائیشیا، سعودی عرب، بحرین، دبئی اور ایران (ایرانی انقلاب اور بین الاقوامی فلمی میلے کے ثقافتی جشن کے لیے سرکاری نمائندہ) سمیت کئی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے فہد محمود اسسٹنٹ پروفیسر سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز، پنجاب یونیورسٹی کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے بڑے بیٹے کاشف محمود سینئر پروڈیوسر سنٹرل نیوز ڈیسک نیو ٹی وی کے طور پر صحافت سے وابستہ ہیں۔

مریم نواز کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

Back to top button