عمرانڈو غلام سرور خان کا PMLN میں شمولیت کا فیصلہ

تحریک انصاف سے مسغفی ہونے والے سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان بارے اطلاعات ہیں کہ ان کے لیگی قیادت سے تمام معاملات طے پا چکے ہیں اور وہ آئندہ چند دنوں تک مسلم لیگ ن میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کردیں گے۔ وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما غلام سرور خان نے اپنے بیٹے اور بھتیجوں کے ہمراہ تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ اپنی گرفتاری کے ایک روز بعد 22 جون کو سابق وفاقی وزیر نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے 9مئی کے واقعے کی مذمت کی اور پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

واضح رہے کہ غلام سرور خان کو 2018 کے انتخابات میں چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں راولپنڈی کی 2 قومی اسمبلی کی نشستوں پر ٹکٹ جاری کیا گیا تھا جب کہ ان کے بھتیجے راولپنڈی کی صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ غلام سرور خان اپنی دونوں نشستوں پر جیتنے میں کامیاب ہوئے اور ان کے بھتیجے نے بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی یوں ایک ہی گھر میں تحریک انصاف کے تین رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

غلام سرور خان اور چوہدری نثار علی خان دو بڑے روایتی حریف سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں کا سیاست کے میدان میں 1990 کے الیکشن سے ٹاکرا رہا ہے۔سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل چوہدری نثار علی خان کے جب مسلم لیگ ن کی قیادت سے اختلافات سامنے آئے تو انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سے رابطہ کیا اور عمران خان بھی چوہدری نثار علی خان کو پارٹی میں شامل کرنے کے خواہش مند تھے، بعد ازاں چوہدری نثار نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تاہم غلام سرور خان روایتی حریف چوہدری نثار علی خان کے پارٹی میں شمولیت کے سخت مخالف رہے ہیں۔عمران خان سے چوہدری نثار کی ملاقاتوں پر بھی وہ ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں اور وہ اس معاملے پر کہا کرتے تھے کہ ایک میان میں دو تلواریں اکٹھی نہیں رہ سکتیں، اگر چوہدری نثار پارٹی میں آئے تو میں پارٹی چھوڑ دوں گا۔2013 کے انتخابات میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے چوہدری نثار علی خان کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ غلام سرور خان کا تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ بھی اسی مخاصمت کا نتیجہ ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ جتنی نفرت وہ چودھری نثار سے کرتے ہیں اس سے دوگنی نفرت لیگی قیادت چودھری نثار سے کرتی ہے۔

واضح رہے کہ غلام سرور خان نے اپنی سیاسی کیریئر کا آغاز 1985 سے کیا جب وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس کے بعد 1988 کے انتخابات میں دوبارہ راولپنڈی سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پررکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

غلام سرور خان اور چوہدری نثار کے درمیان پہلا مقابلہ 1990 میں ہوا جہاں چوہدری نثار نے ان کو قومی اسمبلی نشست پر شکست دی۔ 1990 کے انتخابات میں غلام سرور خان نے پیپلز ڈیموکریٹک الائنس سے انتخابات میں حصہ لیا۔ اس الیکشن میں وہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔

1993 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لے کر ایک بار پھر وہ چوہدری نثار کے مقابلے میں میدان میں اترے تو ایک بار پھر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔ اس دوران پنجاب کی کابینہ کا حصہ بھی بنایا گیا جہاں انھیں صحت کے علاوہ معدنیاتی وسائل کا قلمدان سونپا گیا۔

1997کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے میدان میں اترے تاہم اس بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 2002 میں آزاد حیثیت میں وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات کے میدان میں اترے اور پہلی مرتبہ ن لیگ کے چوہدری نثار علی خان کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ سنہ 2004 میں انہیں شوکت عزیز کی کابینہ میں افرادی قوت کا قلمدان سونپا گیا۔

سنہ 2008 میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ سے انہوں نے ایک بار پھر چوہدری نثار کا سامنا کیا اور ایک بار پھر شکست کا سامنا رہا۔

سنہ 2013 کے انتخابات میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے چوہدری نثار علی خان کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی جبکہ سنہ 2018 میں وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر چوہدری نثار علی خان سے دونوں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

عمران خان کی کابینہ میں انہیں پہلے وزیر پٹرولیم کا قلمدان سونپا گیا اور بعد میں انہیں وزارت ہوا بازی کا قلمدان دیا گیا۔تاہم بطور وفاقی وزیر ہوا بازی کراچی طیارہ حادثے کے بعد پارلیمنٹ کے فلور پر ان کی جانب سے پاکستانی پائلٹس کے بارے انکشافات نے ایک نیا پنڈوراباکس کھول دیا۔ جس کے بعد تمام غیر ملکی ائیرلائنز نے پاکستانی پائلٹس کو گراونڈ کر دیا اور لائسنس کی جانچ پڑتال شروع کر دی۔ان کی اس بیان کی وجہ سے امریکا برطانیہ اور یورپ نے پی آئی اے کی پرازوں پر پابندی عائد کی جو تاحال

یہ کہنا کہ سویلین کا کبھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہوسکتا درست نہیں

اٹھائی نہیں گئی۔

Back to top button