کراچی میں شدت پسندوں نے دوبارہ قدم جمانے شروع کر دیے

کچھ عرصہ قبل شہر قائد کراچی میں تحریک طالبان پاکستان کا صفایا کرنے کی دعویدار کراچی پولیس نے اب خود یہ انکشاف کیا ہے کہ شدت جہادی طالبان نے واپس کراچی کا رخ کر لیا یے اور مختلف علاقوں میں اپنے قدم جمانے شروع کر دیے ہیں۔ زیادہ خوفناک بات یہ یے کہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے اپنی دہشت گرد سرگرمیوں کو مالی اعانت فراہم کرنے کیلئے اسمگلنگ کے ذریعے آمدن حاصل کرنا بھی شروع۔کر دی یے جسکی بڑی وجہ کراچی پولیس کی ناقص کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔
19 اپریل 2021 کو سندھ کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈی آئی جی عمر شاہد حامد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سی ٹی ڈی اور پاکستان رینجرز نے کراچی کے قریبی شہر جامشورو میں مشترکہ کاروائی کر کے پانچ دہشت گردوں کو، جن میں دو خودکش بمبار بھی شامل تھے، گرفتار کر لیا ہے، جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ دوران تفتیش گرفتار دہشت گردوں نے پاکستان میں ماضی میں ہونے والی دہشت گردی کے چھ واقعات کی زمہ داری قبول کی اور بتایا کہ وہ مستقبل میں بلدیہ ٹاون میں واقع سعید آباد پولیس ٹریننگ پر حملہ کرنا چاہتے تھے اور ان کا ٹارگٹ اس ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت سینکڑوں پولیس اہلکار تھے۔ اسی دن ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا جس کہ مطابق ملیر پولیس تحریک طالبان پاکستان کا ایک کارندہ دھر لیا ہے۔ مختلف مقامات سے تحریک طالبان پاکستان کے کارندوں کی گرفتاری کے بعد شہر کے کرائم رپورٹرز کو احساس ہونے لگا ہے کہ شاید ان کی بیٹ دوبارہ گرم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب دہشت گردوں کی گرفتاریوں کا اعلان اتنی کثرت سے ہوتا تھا کہ نیوز رومز کے پاس ہر پریس کانفرنس کو کور کرنے کیلئے مطلوبہ کرائم رپورٹرز نہیں ہوتے تھے، اخباری نمائندوں نے دلچسپ خبروں کو یک کالمی خبروں تک محدود کردیا تھا۔ ٹی وی کرائم رپورٹرز تواتر کے ساتھ ٹیکسٹ میسجز یا واٹس ایپ گروپس پر ٹکرز فائل کریں گے لیکن وہ آپ کی اسکرین سے نیچے جاتے ہوئے غائب ہوجائیں گے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے شہر کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے رینجرز کو ذمہ داری سونپی۔ پولیس، حساس اداروں اور رینجرز نے اس پر کام شروع کردیا۔اس وقت مختلف علاقوں سے آنیوالے طالبان کے پاس تخلیقی طور پر دھڑے تھے، لہٰذا کراچی میں تحریک طالبان سوات یعنی ٹی ٹی ایس، تحریک طالبان مہمند یعنی ٹی ٹی ایم اور تحریک طالبان باجوڑ یعنی ٹی ٹی بی موجود تھے، ان کے افراد یا تو گرفتار ہوئے یا مارے گئے یا فرار ہوگئے۔ بالآخر آپریشن کے عروج کے بعد پریس کانفرنسوں کی تعداد کم ہوگئی۔ اگرچہ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کراچی اور اس کے آس پاس دو مختلف طاکبان گروہوں کی تشکیل نو ہوئی ہے۔ جامشورو کے چھاپے میں ٹی ٹی پی سوات اور ملیر میں ٹی ٹی پی باجوڑ کا کارکن پکڑا گیا۔ اگر کرائم رپورٹرز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ذرا کھوج لگائیں تو پتہ چلے گا کہ یہ عسکریت پسند واپس کیسے آئے تھے؟۔
کیماڑی کو نیا ضلع بنانے سے قبل ضلع غربی کالے دھن کیلئے زیادہ ذرخیز تھا کیونکہ یہ متعدد مقامات پر بلوچستان کے ساتھ لگتا ہے، یہاں 90 ایسے راستے ہیں جن کے ذریعے اسمگل شدہ سامان شہر میں داخل ہوتا ہے، چاہے وہ منشیات، چھالیہ پیٹرولیم یا ایرانی چاکلیٹ، اسفنج کیک ہوں۔ 2018ء میں ایس ایس پی ضلع غربی محمد رضوان احمد خان نے اسمگلنگ سے متعلق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کیلئے ایک رپورٹ تیار کی۔ اسمگلنگ کے اس پس منظر سے قطع نظر ڈی آئی جی عمر شاہد کا خیال ہے کہ ناصرف عسکریت پسند واپس آئے ہیں، بلکہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے اپنی دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مالی اعانت فراہم کرنے کیلئے اسمگلنگ کے ذریعے بھی آمدن حاصل کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی شدت پسندوں کی واپسی کی وجہ بنی، کراچی کے ضلع غربی کو اب ایک مضبوط گڑھ سمجھا جارہا ہے، کراچی آپریشن کے آغاز پر جس نے بھی ایس ایس پی ضلع غربی کا چارج سنبھالا اس نے عسکریت پسندوں کیلئے صفر برداشت کا مظاہرہ کیا، لیکن پچھلے ڈیڑھ سالوں میں معاملات بدل چکے ہیں۔ عمر شاہد اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ وہ خود ضلع غربی میں ایس ایس پی کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ میرا کہنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایس ایس پی ضلع غربی نے شدت پسندوں کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت دی بلکہ میں کہوں گا کہ اس وقت شدت پسندی اور شدت پسند کا مقابلہ کرنا ترجیح نہیں تھی۔ ان حالات میں کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طالبان کی شہر میں واپسی اور اپنے قدم دوبارہ سے جمانے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہونگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button