عوام کو ماموں بنانے کے چکر میں مریم نواز خود ماموں کیسے بنیں؟

سوشل میڈیا پر اپنی تشہیری مہم میں سب کو پیچھے چھوڑنے کی خواہشمند وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز عوام کو ماموں بنانے کے چکر میں بیوروکریسی کے ہاتھوں خود ماموں بن گئیں۔ سیلاب زدگان کے لیے تیار کردہ پورٹیبل واش رومز کی بجائے او ایل ایکس کی کسی پراڈکٹ کی تصویر شیئر کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گئیں۔ عوام کو متاثر کرنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے آزمانے والی مریم نواز کی پی آر ٹیم نے انہیں ایسی تصویر تھما دی جو سیلاب زدگان کے لیے نصب شدہ پورٹیبل واش روم کے بجائے او ایل ایکس کے کسی پرانے اشتہار کی نکلی۔ یوں واہ واہ سمیٹنے کی کوشش میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا سوشل میڈیا پر اپنا رگڑا نکل گیا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے ایکس  اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی تھی، جس میں ایک جدید پورٹیبل واش روم دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے کیپشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ جدید پورٹیبل واش روم سیلاب متاثرین کے لیے چنیوٹ کے ریلیف کیمپ میں نصب کیا گیا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ مریم نواز کی جانب سے تصویر شئیر کرنے کی دیر تھی کہ صارفین نے فوراً نشاندہی کی کہ یہی تصویر ایک سال قبل او ایل ایکس پر کسی اشتہار میں بھی موجود تھی۔جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جبکہ اپوزیشن کو بھی حکومت پر طنز کے وار کرنے کا نیا موقع مل گیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے مریم نواز کے اس بلنڈرپر بھرپور ردعمل دیا۔ کسی نے اسے "جعلی خبر” کہا تو کسی نے براہِ راست ایکس انتظامیہ کو ٹیگ کرتے ہوئے مریم نواز پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ ایک صارف نے طنز کیا:

"محترمہ چیف منسٹر کو اپنی پی آر ٹیم کو فوراً فارغ کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ ٹیم زیادہ تر گوگل امیجز اور او ایل ایکس پر انحصار کرتی ہے۔”

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا:

"سیلاب زدگان کو سہولت دینا اچھی بات ہے، مگر جھوٹی تصاویر سے تشہیر کرنا عوامی اعتماد کے ساتھ کھلواڑ ہے۔”

سخت عوامی تنقید پر مریم نواز کی تو زبان بند ہو گئی تاہم صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری میدان میں آ گئیں انھوں نے جھوٹی تصویر شئیر کرنے پر کسی قسم کی معذرت یا وضاحت دینے کی بجائے تازہ تصاویر و ویڈیوز شیئر کر دیں، جن میں واضح طور پر دکھایا گیا تھا کہ چنیوٹ کے ریلیف کیمپ میں واقعی ایسے پورٹیبل واش رومز تیار اور نصب کیے گئے ہیں۔ان تصاویر میں جیومیٹرک ٹیگز بھی شامل کیے گئے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ فوٹیج موجودہ وقت میں ہی بنائی گئی ہے۔ تاہم نئی ویڈیوز اور تصاویر جاری کرنے کے باوجود ابتدائی غلطی حکومت کے گلے کا پھندا بن گئی۔

ناقدین کے مطابق اگر حکومت کے پاس اصل ویڈیوز اور تصاویر موجود تھیں تو ابتدائی طور پر غلط تصویر کیوں شیئر کی گئی؟ یہ واقعہ حکومتی نااہلی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مبصرین کے مطابق سیلاب جیسے بڑے چیلنجز اور آفات کے دوران اس طرح کی حکومتی غلطیاں عوامی اعتماد کو سخت نقصان پہنچاتی ہیں، تجزیہ کاروں کے بقول یہ محض ایک تصویر کا معاملہ نہیں بلکہ حکومتی بیانیے اور عوامی اعتماد کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کی علامت ہے۔ اگر حکومت معمولی معاملات میں بھی شفافیت برقرار نہیں رکھ سکتی تو اس کے شفافیت کے بڑے دعووں پر کون یقین کرے گا؟ ناقدین کے مطابق مریم نواز کو یہ سمجھنا چاہیے کہ محض تشہیری مہمات اور خوشنما تصاویر عوامی اعتماد جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔ عملی اقدامات اور زمینی حقائق ہی عوام کو مطمئن کرتے ہیں، ورنہ ایک غلط تصویر بھی پوری حکومت کی ساکھ کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔

Back to top button