امریکی ٹیرف کے بعد بھارت کا برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان

امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر اضافی ڈیوٹی عائد کیے جانے کے بعد نئی دہلی نے برآمد کنندگان کو سہارا دینے کے لیے ریلیف پیکج متعارف کر دیا ہے۔
بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے مطابق حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے ذریعے 50 فیصد تک محصولات سے متاثرہ برآمد کنندگان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں بھارت کی متعدد مصنوعات پر 25 فیصد اضافی سزائی ٹیرف لگایا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ٹیکسٹائل، جواہرات، جوتے اور کیمیکلز پر مجموعی طور پر 50 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہو گئی ہے۔
بھارتی برآمد کنندگان کی تنظیم کے صدر ایس سی رالہان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ٹیکسٹائل، زیورات اور سی فوڈ کی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جبکہ تمل ناڈو، نوئیڈا اور سورت کے صنعتی مراکز میں پیداوار معطل ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی برآمدات کی 55 فیصد مقدار، جس کی مالیت تقریباً 48 ارب ڈالر ہے، امریکی منڈی میں ویتنام، چین اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں غیر مسابقتی ہو چکی ہے
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے گا کیونکہ یہ معیشت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ہمیں وہی خریدنا ہے جو نرخوں اور لاجسٹکس کے اعتبار سے بہتر ہو، چاہے وہ روسی تیل ہو یا کوئی اور چیز۔
