بھارت، گستاخانہ بیانات پر احتجاج کرنیوالوں کے گھر مسمار،400گرفتار

بھارت میں انتہاپسند مودی حکومت نے سہارنپور اور اترپردیش میں بی جے پی رہنمائوں کے گستاخانہ بیانات کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمان رہنماؤں کے گھر مسمار کردیئے۔جبکہ 400 سے زائد کو گرفتار کر لیا گیاہے.
انڈیں میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گستاخانہ بیانات کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنے والے مسلمان رہنماؤں کے گھروں کو بلڈوزر کی مدد سے مسمار کردیا گیا۔ گھروں کی مسماری سہارنپور اور اترپردیش میں کی گئی۔
مائیک ٹائسن نے دوران پرواز مخالف کو ناک آؤٹ کردیا
حکومت کا کہنا تھاجن مسلم سیاست دانوں کے گھر مسمار کیے گئے ہیں اُن پر گستاخانہ بیانات کیخلاف مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام ہے۔آج ہی اترپردیش کے مظاہروں میں دو افراد کےجاں بحق ہونے پر مسلم سیاست دان جاوید محمد کے گھر کے بیرونی حصے کو بلڈوزر کی مدد سے گرادیا گیا۔
پولیس کا کہنا تھاکہ جاوید احمد نے پُرتشدد مظاہروں کی قیادت کی تھی جس میں پولیس سے تصادم کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جاوید محمد ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے رکن جب کہ بیٹی آفرین فاطمہ جواہر لال یونیورسٹی میں طلبا رہنما ہیں۔
مقامی میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ مسلم رہنما کی رہائش گاہ گراؤنڈ فلور پر ہے اور پہلی منزل پر غیر قانونی تعمیرات کر رکھی ہیں جس کی مسماری کا نوٹس چند گھنٹے پہلے دیا گیا تھا۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے کارکن جاوید محمد کی چھوٹی بیٹی سومیا فاطمہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان کو ان کے گھر کے مبینہ غیر قانونی ہونے کے بارے میں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، جاوید محمد کے وکیل نے بھی گھر کے انہدام کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ یہ گھر ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں ان کی اہلیہ کا نام تک نہیں لیا گیا، انہیں اور ان کی والدہ کو بھی ہفتے کے روز حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں اتوار کی صبح رہا کیا گیا۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز پولیس نے جاوید محمد کو مبینہ طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو رہنماؤں کے توہین آمیز ریمارکس کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اگرچہ بھارتی قانون کے تحت کسی جرم کے الزام میں مجرم کے گھر کو منہدم کرنے کی کوئی دفعات نہیں ہیں، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں میں باقاعدگی سے اس طرز عمل کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
سومیا فاطمہ نے بتایا کہ انتظامیہ نے گھر کے غیر قانونی ہونے کے بارے میں پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا تھا، یہ پہلا نوٹس ہے جو ہمیں کل رات یعنی بروز ہفتہ ملا، ایک دن پہلے تک کسی نے بھی ہم سے اس بارے میں بات نہیں کی، اگر ہماری جائیداد واقعی غیر قانونی تھی تو انہوں نے ہمیں یہ نوٹس پہلے کیوں نہیں دیے، یہ ہمارے لیے ناقابل یقین حد تک مشکل وقت ہے، انہیں اور ان کی والدہ 50 سالہ پروین فاطمہ کو پریاگراج پولیس نے اتوار کی رات تقریباً ساڑھے 12 بجے حراست میں لیا اور شہر کے سول لائنز خاتون پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، انہوں نے ہم سے عجیب سوالات کیے جیسے کہ ہم گھر میں کس قسم کی گفتگو کرتے ہیں اور ہم کس قسم کی پوسٹس شیئر کرتے ہیں، وہ ہم سے کچھ متنازع قسم کی باتیں نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا جب خواتین پولیس اہلکار ان سے پوچھ گچھ کر رہی تھیں تو اس دوران ایک مرد افسر نے ان کی والدہ کو گالی دی اور کہا کہ ان سے ‘سچ اگلوانے’ کے لیے طاقت کا استعمال کیا جانا چاہیے، پولیس نے سومیا فاطمہ اور ان کی والدہ پروین فاطمہ کو بھی گھر فون کرکے گھر خالی کرنے کو کہا، اتوار کو رہا ہونے کے بعد صومیہ فاطمہ اور پروین فاطمہ کو ان کے اپنے گھر کے بجائے ان کے رشتہ داروں کے گھر لے جایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یہ جگہ نہ چھوڑیں، انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے خاندان کو ابھی تک ان کے والد کے ٹھکانے کے بارے میں نہیں معلوم۔
مسلمان سیاست دان جاوید محمد کے خاندان کے وکیل کمال کرشن رائے رائے نے بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں گھر کو مسمار کرنے کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے ایک پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔ وکیل کمال کرشنا رائے اور دیگر وکلا کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مکان جاوید محمد کی اہلیہ پروین فاطمہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا، پریاگراج شہری انتظامیہ کی دستاویزات میں بھی پرون فاطمہ کا نام درج تھا،یہ گھر پروین فاطمہ کے والد نے تحفہ دیا تھا، مسلم پرسنل لا کے تحت جب عورت کو کوئی جائیداد ملتی ہے تو یہ خود بخود اس کے شوہر کی ملکیت نہیں ہوجاتی، حکومت نے جو نوٹس جاری کیا ہے وہ جاوید محمد کے نام پر جاری کیا ہے جبکہ یہ جائیداد ان کی ملکیت نہیں ہے۔
وکیل کمال کرشنا رائے نے بتایا کہ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اس مکان کو گرانے کی کوئی بھی کوشش قانون کے بنیادی اصول کے خلاف اور جاوید محمد کی بیوی اور بچوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوگی، جاوید محمد کے خاندان کو کوئی شوکاز نوٹس موصول نہیں ہوا جیسا کہ گھر کو مسمار کرنے کے احکامات میں ذکر کیا گیا ہے، وہ درخواست کی جلد سماعت کی توقع رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اترپردیش پولیس نے جاوید محمد کو ہفتہ کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب پریاگراج، سابقہ الہٰ آباد کے علاقے اٹالا میں کچھ مظاہرین نے نماز جمعہ کے بعد پولیس پر پتھراؤ کیا، پولیس نے ذیابیطس کے مریض اور روزانہ کی بنیاد پر انسولین لینے والے جاوید محمد کو احتجاج کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجے کمار نے الزام لگایا تھا کہ جاوید محمد نے اپنی بیٹی و طالب علم کارکن آفرین فاطمہ سے بھی احتجاج کے بارے میں مشورہ کیا تھا۔
کارکن آفرین فاطمہ نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ پہلے پولیس اہلکار 8 بجکر 30 منٹ پر میرے والد کو لے گئے اور پھر دوبارہ رات 11 بجکر 30 منٹ پر آئے اور میری والدہ اور بہن کو گرفتار کیا، پھر رات ڈھائی بجے تیسری بار میرے گھر آئے اور مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی،ہم نے مزاحمت کی جس کے بعد پولیس نے میرے گھر کو گھیرے میں لے لیا، گھر میں اب صرف خواتین اور بجے موجود ہیں، ہم گھبرائے ہوئے ہیں اور صدمے میں مبتلا ہیں، پولیس نے ہمیں گھر چھوڑنے کے لیے کہا ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ میرے والدین اور بہن کہاں ہیں، میں ان کی سلامتی کے حوالے سے پریشان ہوں، میرے والد ذیابیطس کے مریض ہیں اور ان کے لیے ہر رات انسولین کا انجکشن لگانا لازمی ہے۔
جاوید محمد کی چھوٹی بیٹی سومیا فاطمہنے کہا پولیس نے اسے اور اس کی بھابھی کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ ہفتہ کے روز اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیا ناتھ نے کہا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،ایک بھی بے گناہ کو پریشان نہیں کیا جائے گا اور ایک مجرم کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔
