اندرونی اختلافات یا سیاسی حکمت عملی،KPکا بجٹ تاخیر کا شکار کیوں؟

خیبرپختونخوا میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری سے قبل سیاسی اور آئینی پیچیدگیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ ایک طرف صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پورے سال کا بجٹ مکمل طور پر تیار ہے، تو دوسری جانب پارٹی کے اندر اختلافات، عمران خان سے ملاقات کے مطالبات اور ناراض اراکین کے دباؤ نے بجٹ کی پیشی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خیبرپختونخوا حکومت بروقت بجٹ منظور کرا پائے گی یا یہ معاملہ مزید سیاسی کشمکش کی نذر ہو جائے گا؟
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس عین وقت پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے 15 جون کو بجٹ اجلاس بلانے کی سمری وزیراعلیٰ ہاؤس کو ارسال کر دی تھی، تاہم سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اجلاس 17 جون تک ملتوی کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔محکمہ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پورے مالی سال کا بجٹ تیار ہو چکا ہے اور اس کی کاپیاں بھی پرنٹ کی جا چکی ہیں، تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس سے باضابطہ منظوری کا انتظار ہے۔ وزیر خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا ہے کہ حکومت تین ماہ کا عبوری بجٹ لانے کا ارادہ نہیں رکھتی اور صوبے کے لیے مکمل سالانہ بجٹ ہی پیش کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے ترجمان شوکت یوسف زئی نے بھی اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ حکومت تین ماہ کے بجٹ پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بجٹ کی تمام تیاریاں مکمل ہیں اور اسے جلد اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔
تاہم پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی صورت حال نے حکومت کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے صوبائی بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کے مطالبے کے بعد بعض ناراض اراکین بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی رہائی اور ملاقات کے معاملے پر وفاق پر دباؤ ڈالنے کے لیے بجٹ کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جانا چاہیے۔پی ٹی آئی کے ناراض رکن فضل الٰہی کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی میں تقریباً 38 اراکین قیادت کی بعض پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہی اندرونی اختلافات بجٹ کی منظوری میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وفاق کے ساتھ مالی معاملات پر پیش رفت ہو چکی ہے اور سرپلس بجٹ کے حوالے سے بھی یقین دہانیاں حاصل کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی رکاوٹ موجود ہے تو وہ بنیادی طور پر پارٹی کے اندرونی معاملات ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں بعض اراکین نے نگران حکومت کی طرز پر تین ماہ کا بجٹ پیش کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ وفاق پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ تاہم قانونی ماہرین نے اس تجویز کو آئینی تقاضوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کے انتظامات مخصوص حالات میں ہی ممکن ہوتے ہیں۔اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جسے بجٹ کے حوالے سے آئینی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق کمیٹی کی حتمی سفارشات تاحال صوبائی حکومت کو موصول نہیں ہوئیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق آئینی طور پر صوبائی حکومت کے لیے یکم جولائی سے قبل بجٹ کی منظوری ناگزیر ہے تاکہ نئے مالی سال کے اخراجات قانونی تقاضوں کے مطابق جاری رہ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کی کمی کے باعث 17 جون کو بجٹ پیش کیے جانے کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں، اگرچہ حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس کی منظوری سے مشروط ہے۔ مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بجٹ سازی صرف معاشی عمل نہیں بلکہ سیاسی استحکام سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومت کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال کر آئینی تقاضوں کے مطابق بروقت بجٹ پیش کرے، کیونکہ کسی بھی تاخیر کے اثرات نہ صرف حکومتی کارکردگی بلکہ صوبے کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
