مشرق وسطیٰ کشیدگی: کیا امریکہ ایران کو جھکانے میں کامیاب ہو پائے گا؟

امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی کو مزید مربوط بناتے ہوئے فوجی حملوں، جدید ٹیکنالوجی، سائبر کارروائیوں، مسلسل نگرانی اور سمندری ناکہ بندی کو ایک وسیع دباؤ کی مہم میں شامل کر لیا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف ایران کے موجودہ عسکری اثاثوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کی میزائل سازی، فوجی رابطوں، صنعتی پیداوار اور معاشی وسائل کو بھی محدود کرنا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکی تکنیکی اور عسکری برتری ایران کو مطلوبہ سیاسی رعایتوں پر آمادہ کر سکے گی یا دباؤ میں اضافے سے جنگ مزید طویل اور پیچیدہ ہو جائے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، جوہری تنصیبات، میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم فوجی منصوبوں کی تیاری کو حملے کے حتمی فیصلے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی روز استنبول میں علاقائی اور یورپی وزرائے خارجہ نے بھی نئی کارروائی کے نتیجے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ امریکی حکمت عملی میں اس تبدیلی کی ایک اہم کڑی جون 2025 میں کیا گیا آپریشن مڈنائٹ ہیمر تھا۔ امریکی تفصیلات کے مطابق، اس کارروائی میں 7 بی ٹو بمبار طیاروں نے 14 جی بی یو 57 بم استعمال کیے، جبکہ آبدوزوں سے ٹام ہاک میزائل بھی داغے گئے۔ کارروائی کے اہداف میں ایران کی 3 جوہری تنصیبات شامل تھیں۔ بی ٹو بمبار طیاروں کی خفیہ پرواز کی صلاحیت اور مضبوط زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کردہ بھاری بم امریکی عسکری قوت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ تاہم چند اہم اہداف کو تباہ کرنا اور کسی ملک کی مجموعی جنگی صلاحیت کو مستقل طور پر ختم کرنا 2 مختلف معاملات ہیں۔
28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے آپریشن ایپک فیوری میں امریکی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ پینٹاگون نے ایرانی میزائلوں، ان کی پیداواری صلاحیت، بحری قوت اور دیگر دفاعی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کو اپنے مقاصد میں شامل کیا۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے کا ہدف بھی امریکی مؤقف کا حصہ رہا۔ اس حکمت عملی کے تحت واشنگٹن نہ صرف ایران کے موجودہ ہتھیاروں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ ان کی دوبارہ تیاری کے لیے درکار صنعتی اور تکنیکی صلاحیت کو بھی محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور انہیں دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت کے خاتمے کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔
امریکی کارروائیوں میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول، یعنی احکامات اور رابطوں کے نظام، کو متاثر کرنا بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کسی ملک کے پاس جدید میزائل اور دوسرے ہتھیار موجود ہوں، تب بھی مؤثر کارروائی کے لیے درست معلومات، ہدف کی شناخت، بروقت فیصلے اور فوجی یونٹوں کے درمیان رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر فوجی قیادت، نگرانی کے نظام اور عملی دستوں کے درمیان رابطے متاثر ہوں تو دستیاب ہتھیاروں کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم رابطوں میں خلل پیدا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ملک کی پوری عسکری صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔
اسی تناظر میں سائبر اور الیکٹرانک جنگ کا کردار بڑھ رہا ہے۔ الیکٹرانک جنگ کے ذریعے ریڈار، مواصلاتی نظام اور ہتھیاروں کی رہنمائی میں استعمال ہونے والی برقی لہروں کو متاثر کیا جا سکتا ہے، جبکہ سائبر کارروائیوں کا ہدف کمپیوٹر نیٹ ورکس، سافٹ ویئر اور ڈیٹا ہو سکتے ہیں۔ امریکی جنرل ڈین کین نے مارچ میں ایک بریفنگ کے دوران ایرانی مواصلاتی صلاحیت کو متاثر کرنے کے لیے سائبر اور خلائی کمانڈ کی کارروائیوں کا ذکر کیا تھا۔ تاہم اس بیان کی بنیاد پر ایران میں ہر مواصلاتی خرابی کو امریکی کارروائی کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
مصنوعی ذہانت بھی امریکی عسکری حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اپریل کی بریفنگ میں سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنے اور فیصلوں میں مدد کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تصدیق کی، جبکہ انسانی نگرانی برقرار رکھنے کا بھی ذکر کیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو تیزی سے ترتیب دے کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم تیز رفتار تجزیہ ہمیشہ درست نتائج کی ضمانت نہیں دیتا۔ نامکمل معلومات یا غلط شناخت کی بنیاد پر فوری فیصلے شہری آبادی کے لیے خطرات اور جنگ کے غیر ارادی پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈرون ٹیکنالوجی امریکی حکمت عملی کا ایک اور نمایاں پہلو ہے۔ اگست میں سینٹ کام نے ٹاسک فورس فالکن سٹرائیک کے قیام سے متعلق کوششوں کا اعلان کیا، جس میں فضائی، سطح سمندر اور زیر آب بغیر عملے کے نظام شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے سکارپین سٹرائیک کے تحت یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے استعمال کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مہنگے جنگی طیاروں کے ساتھ نسبتاً کم لاگت اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے نظاموں پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ اس طرح جنگی برتری کا انحصار صرف ہتھیاروں کے معیار پر نہیں بلکہ انہیں مسلسل تیار کرنے اور میدان جنگ تک پہنچانے کی صلاحیت پر بھی ہوتا ہے۔تاہم حملہ آور قوت میں اضافے کے ساتھ دفاعی نظاموں کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ تھاڈ نظام بیلسٹک میزائلوں کو ان کے آخری مرحلے میں روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ پیٹریاٹ فضائی دفاع کی ایک اور تہہ فراہم کرتا ہے۔ مختلف سینسرز اور دفاعی نظام مل کر خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں، لیکن ہر نظام ہر قسم کے میزائل یا ڈرون کے خلاف یکساں مؤثر نہیں ہوتا۔ بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور چھوٹے ڈرونز کی رفتار، پرواز اور ہدف تک پہنچنے کے طریقوں میں فرق ہے۔ اس لیے کسی بھی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناقابل تسخیر سمجھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ ماہرین کے مطابق دفاعی نظاموں کی مؤثریت کا انحصار ان کی معاشی اور صنعتی پشت پناہی پر بھی ہے۔ مسلسل حملوں کے دوران دفاعی میزائلوں کے ذخائر، مرمت، پرزوں کی دستیابی اور نئی پیداوار اہم ہو جاتے ہیں۔ جولائی میں پینٹاگون نے پیٹریاٹ اور تھاڈ نظاموں کے اہم پرزوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے طویل مدتی معاہدوں کا اعلان کیا تھا۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ جدید ہتھیاروں کی موجودگی کافی نہیں، بلکہ انہیں مسلسل فعال رکھنے کے لیے کارخانوں، رسد اور پیداواری صلاحیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر جنگ طویل ہو جائے تو صنعتی پیداوار کی رفتار خود ایک اہم تزویراتی حد بن سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی حکمت عملی میں سمندری ناکہ بندی معاشی دباؤ کا اہم ذریعہ بن کر سامنے آئی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق، ایرانی بندرگاہوں میں آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں کی ناکہ بندی 14 جولائی کو دوبارہ شروع کی گئی۔ امریکی بیان میں ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی کا ذکر کیا گیا، نہ کہ پوری آبنائے ہرمز کی بندش کا۔ اس فرق کی اہمیت یہ ہے کہ ایران کی تجارتی آمدن محدود کرنے کی کوشش کے ساتھ دوسرے ممالک کی جہاز رانی جاری رکھنے کا تصور بھی موجود ہے۔ تاہم خطے میں کشیدگی، بیمے کے بڑھتے اخراجات اور ترسیل کے خطرات عالمی تجارت کو اس کے باوجود متاثر کر سکتے ہیں۔
ایران کی جوابی حکمت عملی کا ایک ممکنہ پہلو یہ ہے کہ وہ امریکی بحری قوت کا براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے خطرات بڑھانے کی کوشش کرے۔ روئٹرز نے 23 اکتوبر کو ایرانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نئی جنگ شروع ہونے کی صورت میں خلیج کی زیر سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ کسی حملے کی تصدیق نہیں کرتی، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع توانائی کی ترسیل سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل رابطوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں خطے کے ممالک کے لیے معاشی اور تکنیکی تحفظ کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے میں امریکی فوجی کامیابی کا تعین کرنا بھی آسان نہیں۔ کسی عمارت کی تباہی، زیر زمین موجود مواد کی حالت اور جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی صلاحیت الگ الگ سوالات ہیں۔ ستمبر میں جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ میں جاپانی نمائندے نے حساس ایرانی جوہری مواد کی ایک سال سے زیادہ عرصے سے تصدیق نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ایسی صورت حال میں جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے معائنوں، جوہری مواد کے حساب اور مسلسل نگرانی جیسے اقدامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
امریکی حکمت عملی کا بنیادی تضاد یہ ہے کہ فوجی اور معاشی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہی دباؤ ایرانی قیادت کو مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے۔ اگر توانائی، تجارت اور شہری معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس کی انسانی قیمت بھی سامنے آتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر مطلوبہ سیاسی رعایتوں، دباؤ کی حدود اور پابندیوں میں نرمی کے ممکنہ راستے واضح نہ ہوں تو ہر ناکام مرحلے کے بعد زیادہ طاقت استعمال کرنے کی ترغیب پیدا ہو سکتی ہے۔ اس طرح محدود مقاصد کے لیے شروع کی گئی کارروائیاں طویل اور وسیع جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتی ہیں۔
مبصرین کے بقول پاکستان کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی محض ایک دور کا عسکری معاملہ نہیں۔ خلیجی توانائی، سمندری تجارت اور پاکستانی شہریوں کے مفادات علاقائی استحکام سے براہ راست وابستہ ہیں۔ ایسی صورت حال میں اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کے لیے قابل تصدیق جوہری نگرانی، محفوظ جہاز رانی اور کشیدگی کم کرنے کے عملی انتظامات کی حمایت اہم ہو سکتی ہے۔ امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے مختلف طریقوں کو زیادہ مربوط بنا لیا ہے، لیکن اس حکمت عملی کی کامیابی کا اصل پیمانہ تباہ کیے گئے اہداف کی تعداد نہیں ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا فوجی اور معاشی دباؤ کسی ایسے سیاسی معاہدے کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو مستقبل میں جنگ کے امکانات کم کرے، یا یہ کشیدگی کے ایک نئے اور طویل دور کا آغاز بنے گا۔
