نواز شریف کے داماد کے خلاف اربوں روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے داماد اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر اور سینئر وکیل احسن بھون کے مابین جاری چپقلش میں شدت آتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ڈگری کے حوالے سے جاری بیان بازی کے بعد اب ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف 5 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ پنجاب ڈیفیمیشن ٹربیونل نے دعوے کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کو 11 نومبر 2026ء کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔ دوسری جانب کیپٹن (ر) صفدر نے احسن بھون اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے استعفوں کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یکم نومبر کے بعد تحریک شروع کی جائے گی۔
احسن بھون نے اپنے دعوے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر نے ٹی وی انٹرویوز اور سوشل میڈیا پر ان کی قانون کی ڈگری اور وکالت کی اہلیت کے حوالے سے مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دیے، جس سے ان کی کئی دہائیوں پر محیط قانونی خدمات اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچا۔ احسن بھون کے مطابق انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے اور متعلقہ اداروں سے اس کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔
احسن بھون نے ٹربیونل سے استدعا کی ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ارب روپے عمومی، 2 ارب روپے خصوصی اور 2 ارب روپے تعزیری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو مبینہ بیانات واپس لینے، غیر مشروط معافی مانگنے اور آئندہ ایسے بیانات دینے سے روکنے کا حکم بھی جاری کیا جائے۔ تاہم، یہ دعویٰ ابھی زیرِ سماعت ہے اور ٹربیونل کی جانب سے ہرجانے کے مطالبے پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب راولپنڈی ضلع کچہری میں مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ احسن بھون اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احسن بھون کی ڈگری سے متعلق مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یکم نومبر کے بعد تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احسن بھون جہاں بھی پیش ہوں گے، ان کے ساتھ 100 وکلا ڈگریاں لے کر پہنچیں گے اور ان سے تعلیمی اسناد دکھانے کا مطالبہ کریں گے۔
کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ انہوں نے وزیر قانون کو بھی پیغام دیا تھا کہ احسن بھون کو سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں امیدوار کیوں بنایا گیا، جبکہ ان کے بقول ڈگری سے متعلق سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مشروط طور پر دستبرداری کے لیے تیار ہیں، لیکن پہلے ڈگری دکھائی جائے۔ اپنے خطاب میں کیپٹن (ر) صفدر نے عدالتی نظام اور ججوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کے خیال میں عدالتوں اور ججوں کے بعض اقدامات نے پاکستان کو کمزور کیا۔ انہوں نے ڈن بیس کے اربوں روپے امریکا اور یورپ منتقل ہونے اور ساجد تارڑ کے امریکا میں ارب پتی بننے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے، تاہم ان دعوؤں کی تفصیلات یا شواہد خبر میں بیان نہیں کیے گئے۔کیپٹن (ر) صفدر نے آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت اور ججوں کے انتخاب کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی بات بھی کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ججوں کی سلیکشن کے طریقے میں ایک عالم کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتوں میں پیسے چلنے سے متعلق بات درست ہے تو اس پر وزیراعلیٰ سے سوال ہونا چاہیے۔ ان بیانات کے بعد احسن بھون کی ڈگری کا تنازع محض قانونی دعوے تک محدود نہیں رہا بلکہ وکلا سیاست اور مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات کے حوالے سے بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اب ٹربیونل کی کارروائی اور فریقین کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد اس معاملے کی آئندہ سمت متعین کریں گے۔
