خیبرپختونخوا میں مارچ میں سینیٹ انتخابات کا انعقاد غیر یقینی کیوں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج برقرار رہنے کی صورت میں مارچ 2027ء میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کا انعقاد غیر یقینی ہو گیا ہے، جس سے صوبے کی 12 نشستوں اور ایوانِ بالا میں اس کی نمائندگی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تصدیق کی ہے کہ اگر مقررہ وقت تک صوبے میں موجودہ انتظامی صورت حال برقرار رہی تو سینیٹ انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہے، لیکن 11 اکتوبر 2026ء کو گورنر راج نافذ ہونے کے بعد اسمبلی کا معمول کا کردار متاثر ہو چکا ہے۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2027ء میں ملک بھر سے 48 سینیٹرز کی 6 سالہ مدت مکمل ہو رہی ہے، جن میں خیبر پختونخوا کی 12 نشستیں بھی شامل ہیں۔ معمول کے آئینی طریقۂ کار کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنے سینیٹرز کا انتخاب متناسب نمائندگی اور واحد قابلِ انتقال ووٹ کے اصول کے مطابق کرتی ہے۔ تاہم، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج برقرار رہنے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ جب صوبائی اسمبلی معمول کے مطابق کام نہیں کر رہی ہوگی تو انتخابی عمل کس طرح مکمل کیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلسل دوسری مرتبہ ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق 2024ء میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق تنازعے کے باعث بھی صوبے میں سینیٹ انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔ اس بار بھی اگر انتخابی عمل متاثر ہوتا ہے تو صوبے کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ سینیٹ کی مجموعی تشکیل پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہے، جبکہ قومی پارلیمان میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے۔ ایسے میں صوبے کی 12 سینیٹ نشستوں کے انتخاب میں تاخیر سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اور ایوانِ بالا میں عددی توازن کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے بقول آئینی پہلو سے بھی صورت حال کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت کسی صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں اعلانِ نافذالعمل کے بعد پارلیمان صوبائی اسمبلی کے اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔ تاہم، گورنر راج کے دوران صوبے کے سینیٹرز کے انتخاب کے لیے اس شق کا اطلاق کس طرح ہوگا، اس کی قانونی تشریح اہمیت رکھتی ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت اعلانِ نافذالعمل کی 6 ماہ کی آئینی مدت بھی اس معاملے میں وقت کی اہمیت بڑھا دیتی ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج 11 اکتوبر 2026ء کو نافذ کیا گیا تھا، جبکہ سینیٹ انتخابات مارچ 2027ء میں ہونا ہیں۔

اگر خیبر پختونخوا سے نئے سینیٹرز کا انتخاب مقررہ وقت پر نہ ہو سکا تو 48 سبکدوش ہونے والے سینیٹرز کی مدت مکمل ہونے کے بعد سینیٹ کی تشکیل متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورت حال کے اثرات ایوانِ بالا کی قیادت کے انتخاب تک بھی پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ایوان کے ارکان کرتے ہیں۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ اب اس معاملے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا مؤقف اہم ہوگا کہ صوبائی اسمبلی کے غیر فعال رہنے کی صورت میں انتخابی عمل کے لیے آئینی اور قانونی راستہ کیا ہوگا۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا مارچ 2027ء سے پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دینا شروع کر دے گی یا صوبے کی 12 سینیٹ نشستوں کے انتخاب کے لیے کسی قانونی وضاحت یا متبادل آئینی طریقۂ کار کی ضرورت پیش آئے گی۔

Back to top button