حوثی حملے میں پاکستانی طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبر جھوٹی نکلی

سعودی عرب میں حوثیوں کے حالیہ حملوں کے دوران پاکستانی جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، لیکن پاکستان نے ان دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بالکل جعلی‘‘ قرار دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا تھا کہ یمن کے حوثیوں نے ظہران میں کنگ عبدالعزیز ایئر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر پاکستان فضائیہ کے جے ایف 17 طیارے بھی موجود تھے، اور حملے میں تین پاکستانی طیاروں کو نقصان پہنچا۔ تاہم پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق کسی معتبر یا سرکاری ذریعے نے پاکستانی طیاروں کو کسی بھی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں دی۔

پاکستانی وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں ان دعوؤں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی جے ایف 17 طیاروں کو نقصان پہنچنے اور انہیں مبینہ طور پر سعودی عرب سے منتقل کیے جانے کی خبر بے بنیاد ہے۔ وزارت نے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس خبر کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دعوے کی تائید میں کوئی معتبر سرکاری اطلاع موجود نہیں۔ بھارت کی جانب سے اس الزام یا پاکستانی تردید پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

البتہ یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب ان دنوں حوثیوں کے مسلسل ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں ہے۔ 20 ستمبر کو سعودی حکام نے تصدیق کی کہ حوثیوں نے ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم حملہ ناکام بنا دیا گیا اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس سے قبل سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں، جن پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

اسی کشیدہ صورتحال میں 17 ستمبر کو طائف کے علاقے میں ایک حوثی ڈرون کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ آبادی پر گر گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک یمنی شہری جاں بحق جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق پاکستانی شہری کی حالت تشویشناک تھی، جبکہ متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ سعودی فضائی دفاع کی جانب سے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو روکنے کے چند روز بعد پیش آیا۔

سعودی عرب کے خلاف حملوں کا دائرہ صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہا۔ ستمبر میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس پر پاکستان نے شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں حوثیوں کے حملوں کو علاقائی امن، عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے اور دونوں ممالک نے حالیہ عرصے میں دفاعی و سلامتی کے تعاون کو مزید رسمی شکل دی ہے۔ تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت حوثیوں کے خلاف کسی فوجی کارروائی پر اس وقت کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور جارحیت کی روک تھام کے لیے ہے۔

یوں سعودی عرب میں حوثی حملوں کا خطرہ اپنی جگہ حقیقی اور سنگین ہے، لیکن پاکستانی جے ایف 17 طیاروں کو نقصان پہنچنے کی مخصوص خبر کے بارے میں فی الحال پاکستان کا سرکاری مؤقف واضح ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ ایسے ماحول میں جب خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں، غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعووں اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ معلومات میں فرق کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

Back to top button