ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کےلیے امریکا کو شرائط پیش کردیں

ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کےلیے امریکا کے سامنے 6 شرائط رکھ دی ہیں،جن میں ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ختم کرنے، جنگ بندی اور پابندیاں اٹھانے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری ذوالقدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کےلیے امریکا کو ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
سیکرٹری قومی سلامتی کونسل کے مطابق ایران کو کبھی بھی اور کسی بھی زبان میں دھمکی نہ دی جائے اور ایرانی قوم کی توہین سے گریز کیا جائے۔ایران اور اس کے اتحادیوں پر مسلط جنگ مستقل طور پر ختم کی جائے، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے اور امریکی افواج کو ایران کے اطراف سے ہٹایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا بغیر کسی کمی کے مکمل ہرجانہ ادا کیا جائے،ایرانی قوم پر عائد غیرمنصفانہ اور غیرقانونی پابندیاں ختم کی جائیں جب کہ غیر مشروط طور پر ایرانی عوام کے چوری اور منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔
سیکرٹری قومی سلامتی کونسل کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔جنگ ہو یا مذاکرات، ایران اپنے مؤقف اور ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کرنے کا منصوبہ نہیں،جے ڈی وینس
قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھاکہ آبنائے ہرمز میں عارضی جہاز رانی کے راستے سے متعلق عمان کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب ہیں۔مسلح افواج نے ہرمز میں نیا راستہ بھی تیار کرلیا ہے،تاہم اس کا مطلب آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا نہیں، کیونکہ اس کا انحصار دیگر عوامل پر ہوگا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھاکہ امریکا کو مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ موجودہ صورت حال امریکا کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔
