حملوں کے بعدامریکی فوجی اڈوں پر ایران کا بڑا جوابی وار

امریکی حملوں کے بعد ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اگر امریکی جارحیت جاری رہی تو ایران کا ردعمل مزید سخت اور وسیع پیمانے پر ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملوں کے بعد ایرانی فورسز نے خطے میں بعض امریکی فوجی اڈوں پر کارروائیاں کیں۔ بیان کے مطابق بحرین میں تعینات امریکی پانچویں بحری بیڑے کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور اگر امریکا نے اپنی فوجی کارروائیاں بند نہ کیں تو ایران مزید طاقتور اور وسیع جوابی اقدامات کرے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ امریکا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جن میں جاسک، سیریک اور جزیرہ قشم شامل ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں سیریک کے علاقے بامانی میں ایک ٹیلی کمیونی کیشن ٹاور کو نقصان پہنچا جبکہ پانی ذخیرہ کرنے والے دو بڑے ٹینک بھی تباہ ہوگئے۔ایرانی حکام نے امریکی کارروائیوں کو ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے تاحال بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے پر مبینہ ڈرون حملے کے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
