ایران کے امریکا سے مذاکراتی رابطے بند،کشیدگی بڑھ گئی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کی معطلی نے خطے میں نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ثالثوں کے ذریعے ہونے والے تمام پیغامات اور رابطے معطل کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان، غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران نے یہ فیصلہ لبنان اور غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں، جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیلی فوجی کارروائیاں نہیں روکی جاتیں اور مزاحمتی اتحاد کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک کسی قسم کے بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔
مبصرین کے مطابق ایران کے اس فیصلے نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط میں لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور بعض متنازع علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ صرف بیانات یا یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اقدام کو غیر معمولی اہمیت دینے سے گریز کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے باضابطہ طور پر امریکا کو اس فیصلے سے آگاہ نہیں کیا اور اگر مذاکراتی پیغامات کا تبادلہ وقتی طور پر رک بھی گیا ہے تو اس سے امریکا کو کوئی خاص مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس وقت کا انتظار کرے گا جب ایران امریکی شرائط کے مطابق کسی معاہدے کے لیے تیار ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کی معطلی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ فوری فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی موجودہ حکمت عملی جاری رکھے گا اور خطے میں اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتا رہے گا۔
ادھر ایران کے عسکری اور سیاسی حلقوں سے آنے والے بیانات صورتحال کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان اور غزہ میں اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو ایران اور اس کے اتحادی خطے کے اہم سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کے حوالے سے سخت اقدامات پر غور کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ایسے بیانات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم موجودہ کشیدہ ماحول میں ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ عالمی معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکراتی رابطوں کی معطلی دراصل ایک سفارتی دباؤ کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے جس کا مقصد امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں پر نظرثانی پر مجبور کرنا ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان سخت بیانات کے باوجود پس پردہ سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔خطے کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو لبنان کی صورتحال بھی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مزید حملوں کی دھمکیوں اور جنوبی بیروت سمیت مختلف علاقوں میں کشیدگی بڑھنے سے لاکھوں افراد پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ایران خود کو مزاحمتی اتحاد کے اہم حمایتی کے طور پر پیش کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تہران اس معاملے کو صرف سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک مسئلہ قرار دے رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل فی الحال تعطل کا شکار نظر آتا ہے، لیکن دونوں فریق مکمل تصادم سے بھی گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بڑے فوجی تصادم کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔اسی لیے متعدد بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ سخت بیانات اور سفارتی کشیدگی کے باوجود پس پردہ رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال، لبنان اور غزہ میں پیش رفت، اور عالمی طاقتوں کی سفارتی کوششیں یہ طے کریں گی کہ آیا ایران اور امریکا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا مشرق وسطیٰ ایک نئے اور زیادہ خطرناک بحران کی طرف بڑھتا ہے۔
