کیا 27ستمبر سے پہلے حکومت اورPTIمیں سیز فائر ممکن ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ کی تیاریوں کے درمیان سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 ستمبر سے پہلے سیاسی اور عدالتی محاذ پر ایسی پیش رفت ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں موجودہ کشیدگی کم ہوجائے گی اور کسی بڑے لانگ مارچ یا افراتفری کی نوبت نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ 25 یا 26 ستمبر کے آس پاس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات اور دیگر پیش رفت کے دوران کوئی نہ کوئی راستہ نکل آنے کا امکان ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ان کے خیال میں 27 ستمبر سے پہلے صورتحال کو کسی نہ کسی طریقے سے قابو میں کرلیا جائے گا۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں کا راستہ کھلے گا، ممکنہ طور پر انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے گا اور وکلا کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت مل سکتی ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ عمران خان ایک ہفتے یا دس دن تک ہسپتال میں قیام بھی کرسکتے ہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق عمران خان سے متعلق جو بات چیت جاری ہے، اس میں بشریٰ بی بی کے ذریعے رابطے کا ایک اہم کردار ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے موجودہ صورتحال کو ’’ڈی فیوز‘‘ کرنے کی خواہش ضرور موجود ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کو رعایت دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔

سینئر تجزیہ کار کے مطابق تحریک انصاف کے باہر موجود حلقے بھی کسی نہ کسی سمجھوتے کی خواہش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی ممکنہ ڈیل یا مفاہمت کا راستہ نکل آئے، تاہم ان کے بقول اسٹیبلشمنٹ فی الحال کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پر سختی دکھائی جا رہی ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ حکومت بھی اپنے اوپر موجود سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے راستہ تلاش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے حلقوں میں بھی یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ کسی حد تک لچک دکھائی جائے اور معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق اگر دونوں جانب سے محدود سطح پر بھی کوئی پیش رفت ہوئی تو 27 ستمبر کے احتجاج کی شدت کم ہوسکتی ہے۔

انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ تحریک انصاف اپنا احتجاج مکمل طور پر منسوخ کرسکتی ہے، تاہم اگر احتجاج واپس نہ لیا گیا تو اسے محدود رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے تاکہ صورتحال کسی بڑے تصادم یا سیاسی بحران میں تبدیل نہ ہو۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے گرفتاریاں شروع ہوچکی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں، جس سے سیاسی ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

نجم سیٹھی کی یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف 27 ستمبر کے احتجاج کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے اہم مرحلہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم ان کی جانب سے ظاہر کیے گئے امکانات حتمی فیصلے نہیں بلکہ موجودہ سیاسی حالات کی بنیاد پر ایک تجزیاتی پیش گوئی ہیں۔ آنے والے دنوں میں عدالتوں میں ہونے والی پیش رفت، عمران خان سے ملاقاتوں، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ممکنہ رابطوں اور احتجاج کی حکمت عملی سے ہی واضح ہوگا کہ 27 ستمبر سے پہلے واقعی کوئی سیاسی راستہ نکلتا ہے یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

Back to top button