پاکستان میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کی اصل وجہ کیا؟

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال اور بحری نقل و حمل میں مشکلات کے باعث پاکستان کو درآمدی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار متاثر ہونے لگی ہے۔ حکومت نے بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے کی صورتحال کا براہ راست اثر پاکستان کی توانائی کی فراہمی پر پڑ رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور نقل و حمل میں مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں کمی آئی۔ حکومت کے مطابق پیداوار میں اس کمی کے باعث بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ ناگزیر ہوگئی ہے۔

پاکستان اپنی بجلی کی پیداوار کے ایک اہم حصے کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرتا ہے اور قطر سے آنے والی ایل این جی اس نظام میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان حکومت سے حکومت کی سطح پر ایل این جی کی فراہمی کے دو طویل مدتی معاہدے موجود ہیں، جبکہ تاریخی طور پر قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔ آبنائے ہرمز چونکہ خلیجی خطے سے توانائی کی عالمی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک تک پہنچ سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، تاہم وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ شہباز شریف نے بجلی کے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں تاکہ ملک کے کسی بھی حصے میں بجلی کی بندش دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ ملک پہلے ہی توانائی کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام کے اثرات سے دوچار ہے۔ پاکستان تیل اور گیس کی درآمدات کے لیے خلیجی راستوں پر نمایاں انحصار کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے علاوہ بحیرہ احمر سے گزرنے والی توانائی کی ترسیل بھی گزشتہ عرصے میں متاثر ہوئی ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی طویل ہوتی ہے یا توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایندھن کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں، صنعتی سرگرمیوں اور مجموعی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

موجودہ بحران نے پاکستان کے توانائی کے نظام میں درآمدی ایندھن پر انحصار کے خطرات کو بھی ایک مرتبہ پھر اجاگر کردیا ہے۔ ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے سے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار کم ہوتی ہے تو بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے دیگر دستیاب ذرائع پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر متبادل ذرائع سے مطلوبہ بجلی پیدا نہ ہوسکے تو تقسیم کار کمپنیوں کو لوڈ مینجمنٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نے بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے بھی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر عوامی نمائندگی پر مشتمل شکایات کے ازالے کی کمیٹیاں قائم کی جائیں تاکہ بجلی کی فراہمی اور دیگر متعلقہ مسائل پر صارفین کی شکایات سنی اور حل کی جاسکیں۔ حکومت کے مطابق صارفین بجلی کی 118 ہیلپ لائن کے ذریعے بھی اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

یوں آبنائے ہرمز کی کشیدگی اب صرف مشرق وسطیٰ کا علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے بجلی اور توانائی کے نظام تک پہنچ چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ایل این جی کی سپلائی بحال رہتی ہے یا مزید متاثر ہوتی ہے، یہی فیصلہ کرے گا کہ پاکستان میں موجودہ لوڈ مینجمنٹ محدود رہتی ہے یا بجلی کی بندش کا دورانیہ مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ پاکستان کب تک بیرونی راستوں اور درآمدی ایندھن پر اپنے توانائی کے نظام کا بڑا حصہ منحصر رکھ سکتا ہے

Back to top button