40 سال سے کم عمر پاکستانی نوجوان ہارٹ اٹیک کا شکار کیوں ہونے لگے؟

کبھی دل کا دورہ پڑنے کی خبر سن کر ذہن میں کسی عمر رسیدہ شخص کی تصویر ابھرتی تھی، لیکن اب پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایسے نوجوان بھی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو رہے ہیں جو بظاہر بالکل صحت مند نظر آتے ہیں، روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزار رہے ہوتے ہیں اور کسی بڑی بیماری کی شکایت بھی نہیں کرتے۔ بعض اوقات 25 سے 30 سال کی عمر کے افراد تک ہارٹ اٹیک کے ساتھ ہسپتال پہنچ رہے ہیں، جس نے ماہرین صحت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح کے مکمل اور مستند قومی اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم ماہرین امراض قلب کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران 40 سال یا اس سے کم عمر افراد میں دل کے دورے کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے وابستہ ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق دنیا بھر میں ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے افراد میں تقریباً 5 سے 6 فیصد کی عمر 40 سال سے کم ہوتی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح 10 سے 12 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ طبی اصطلاح میں 40 سال یا اس سے کم عمر افراد میں ہونے والے دل کے دورے کو قبل از وقت ہارٹ اٹیک کہا جاتا ہے۔

اصل تشویش یہ ہے کہ نوجوانوں میں دل کا دورہ بظاہر اچانک ضرور دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی ایسے عوامل موجود ہو سکتے ہیں جو طویل عرصے سے جسم کو متاثر کر رہے ہوں۔ ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، غیر متوازن غذا، موٹاپا، تمباکو نوشی، ویپنگ، ذیابیطس، بلند فشار خون، کولیسٹرول اور آلودہ فضا جیسے عوامل کم عمری میں دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

پاکستان میں خوراک کے بدلتے ہوئے رجحانات بھی ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا اور شکر سے بھرپور مشروبات کا استعمال بڑھ رہا ہے، جبکہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کی جگہ غیر صحت بخش خوراک زیادہ اختیار کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں بھی کولیسٹرول کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق 10 سے 19 سال کے بچوں کے ایک سروے میں 19 فیصد بچے قبل از ذیابیطس جبکہ تقریباً نصف بچوں میں کولیسٹرول کی سطح معمول سے ہٹ کر پائی گئی۔ قبل از ذیابیطس کو معمولی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مستقبل میں دل کے امراض سمیت متعدد بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

جسمانی سرگرمیوں میں کمی بھی نوجوانوں کے دل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ طویل وقت تک بیٹھے رہنا، ورزش یا واک نہ کرنا اور مجموعی طور پر غیر فعال طرز زندگی جسم میں وزن، شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول جیسے عوامل کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانی میں ہی صحت مند طرز زندگی اپنانا ضروری ہے کیونکہ دل کی بیماری کا خطرہ صرف اس وقت پیدا نہیں ہوتا جب علامات سامنے آتی ہیں بلکہ اس کے لیے کئی سال تک جاری رہنے والے عوامل ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔

فضائی آلودگی بھی ایک ایسا عنصر ہے جس پر ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر سلیم ویرانی کے مطابق عالمی سطح پر ہارٹ اٹیک کے ایک قابل ذکر حصے کا تعلق خراب ہوا کے معیار سے جوڑا جاتا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً لاہور اور کراچی میں فضائی آلودگی کی صورتحال کئی دنوں میں تشویشناک سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ آلودہ ہوا صرف پھیپھڑوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ دل اور خون کی شریانوں کے لیے بھی خطرہ بڑھا سکتی ہے، جس کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

نوجوانوں میں دل کے دورے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض افراد میں اس سے پہلے واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ بڑی عمر کے افراد میں بعض اوقات چلتے ہوئے سانس پھولنا، سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس میں دشواری، سینے میں بوجھ یا دباؤ جیسی علامات پہلے سے سامنے آ سکتی ہیں، لیکن نوجوان افراد میں یہ علامات واضح نہ بھی ہوں تو خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا۔ ہارٹ اٹیک کی عام علامات میں سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری اور غیر معمولی پسینہ شامل ہوسکتا ہے، لیکن علامات ہر فرد میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اس لیے کسی بھی غیر معمولی علامت کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود معلومات دیکھ کر خود تشخیص کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ سینے میں درد یا جسم میں کسی دوسری علامت کو صرف انٹرنیٹ کی معلومات کی بنیاد پر معمولی سمجھ لینا یا خود ہی ہارٹ اٹیک قرار دینا درست طریقہ نہیں۔ ایسی صورتحال میں مستند ڈاکٹر سے معائنہ اور ضرورت کے مطابق طبی ٹیسٹ ہی درست صورتحال واضح کرسکتے ہیں۔

دل کے امراض کے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے بلڈ پریشر، خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی جانچ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض افراد میں ڈاکٹر علامات، خاندانی تاریخ، وزن، طرز زندگی اور دیگر عوامل کو دیکھتے ہوئے مزید ٹیسٹ تجویز کرسکتے ہیں۔ سی آر پی جیسے بعض ٹیسٹ بھی مخصوص حالات میں مددگار ہوسکتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق کسی بھی ٹیسٹ کو ہر شخص کے لیے لازمی یا حتمی پیش گوئی کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ بعض خون کے ٹیسٹ مختلف بیماریوں یا جسم میں موجود انفیکشن کی وجہ سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ٹیسٹ ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت اور فرد کی مجموعی طبی صورتحال کے مطابق ہونے چاہییں۔

بچاؤ کے لیے سب سے اہم راستہ طرز زندگی میں بہتری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کو مناسب جگہ دیں، شکر سے بھرپور مشروبات اور غیر صحت بخش فاسٹ فوڈ کے استعمال کو محدود کریں اور بچوں کو جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ نوجوانوں کے لیے باقاعدہ واک، ورزش، مناسب نیند، متوازن غذا اور وزن کو قابو میں رکھنا دل کی صحت کے لیے اہم ہے۔ سگریٹ، ویپنگ اور تمباکو کی تمام اقسام سے دور رہنا بھی ضروری ہے۔

ماہرین خاص طور پر پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی کو نظر انداز نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بعض اوقات کسی شخص کا مجموعی وزن بظاہر معمول کے مطابق ہوتا ہے لیکن پیٹ کے گرد چربی زیادہ جمع ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ اندرونی اعضا کے گرد چربی بڑھنے کی علامت ہوسکتی ہے اور مستقبل میں شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دل کے امراض کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اس لیے صرف ترازو پر وزن دیکھنا کافی نہیں بلکہ مجموعی جسمانی صحت اور طرز زندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

ورزش کے حوالے سے بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعتدال اور بتدریج اضافہ ضروری ہے۔ جو شخص برسوں سے ورزش نہیں کرتا، اگر 30 یا 40 سال کی عمر کے بعد اچانک بہت زیادہ وزن اٹھانے یا انتہائی سخت ورزش شروع کردے تو جسم پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ورزش کا آغاز مناسب شدت سے کیا جائے اور جسم کو آہستہ آہستہ زیادہ سرگرمی کا عادی بنایا جائے۔ خاص طور پر اگر کسی شخص کو پہلے سے بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، سینے کی تکلیف یا دیگر طبی مسائل ہوں تو ورزش کے معمول میں بڑی تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

یہ مسئلہ صرف مردوں تک محدود نہیں۔ خواتین بھی ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں، اگرچہ بعض صورتوں میں ان میں یہ مسائل مردوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ عمر میں سامنے آتے ہیں۔ دوران حمل بلند فشار خون یا ذیابیطس کا سامنا کرنے والی خواتین میں مستقبل میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے حمل کے دوران صحت کے مسائل کو عارضی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ بعد کی زندگی میں بھی طبی نگرانی جاری رکھنی چاہیے۔

نوجوانوں میں بڑھتے دل کے دوروں کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیق بھی ضروری ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی جانب سے ’لائف گارڈ‘ کے عنوان سے ایک تحقیق کا آغاز کیا گیا ہے جس میں بچوں سمیت تقریباً 4 ہزار افراد کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ کم عمری میں دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے خطرے کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

حقیقت یہ ہے کہ نوجوان عمر اور بظاہر صحت مند جسم دل کے دورے سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔ دل کی بیماری کئی برس تک خاموشی سے بڑھ سکتی ہے اور جب پہلی بار نمایاں ہوتی ہے تو صورتحال سنگین بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی مناسب نگرانی، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، تمباکو سے مکمل پرہیز، وزن خصوصاً پیٹ کے گرد چربی کو قابو میں رکھنا اور غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ہی خطرے کو کم کرنے کا عملی راستہ ہے۔ نوجوانی میں صحت کو نظر انداز کرکے یہ سمجھنا کہ دل کا دورہ صرف بڑی عمر کے لوگوں کا مسئلہ ہے، اب ایک خطرناک غلط فہمی ثابت ہوسکتی ہے۔

Back to top button