اسلام آباد کا نیا نقشہ تیار؟ 27 رکنی اسمبلی، وزیراعلیٰ یا میئر،فیصلہ جلد متوقع

اسلام آباد کو الگ انتظامی یونٹ یا صوبے کا درجہ دینے کی تجویز نے پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی جاری بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں موجودہ وفاقی دارالحکومت کا علاقہ ہی نئے انتظامی یونٹ یا صوبے کی حدود پر مشتمل ہوگا، جبکہ دوسرے مرحلے میں اس سے ملحقہ علاقوں کو بھی اس میں شامل کرنے کا راستہ کھولا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے پنجاب کی حدود میں آئینی و قانونی طور پر تبدیلی اور باقاعدہ حد بندی درکار ہوگی، کیونکہ پنجاب اسمبلی کی منظوری کے بغیر صوبے کے علاقوں کو کسی نئی انتظامی اکائی میں شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے نئے انتظامی ڈھانچے، حدود اور اختیارات کا حتمی فیصلہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی تشکیل کردہ خصوصی ذیلی کمیٹی نے اسلام آباد کو زیادہ وسیع مقامی خودمختاری دینے اور وفاق کے متعدد انتظامی اختیارات منتخب مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی سفارشات تیار کرلی ہیں۔ اگر یہ تجاویز عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو وفاقی دارالحکومت میں موجودہ انتظامی نظام کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی واقع ہوگی اور اسلام آباد کی مقامی حکومت کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔
مجوزہ نظام کے تحت اسلام آباد میں 27 ارکان پر مشتمل ایک منتخب قانون ساز اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جسے آئی سی ٹی اسمبلی کہا جائے گا۔ اس اسمبلی میں 21 عام نشستیں، خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست شامل ہوگی۔ ہر قومی اسمبلی کے حلقے سے سات ارکان منتخب کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہوگی۔ اسمبلی کے ارکان کے لیے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں بیان کردہ اہلیت کی شرائط بھی لاگو ہوں گی۔
مجوزہ نظام میں منتخب اسمبلی اپنے ارکان میں سے ایک قائد کا انتخاب کرے گی، جسے وزیراعلیٰ یا میئر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہی شخصیت نئی اسلام آباد حکومت کی سربراہ ہوگی اور اسے موجودہ بلدیاتی نظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے شہریوں کو اپنے شہر کے انتظام، ترقی، بنیادی سہولیات اور دیگر اہم معاملات میں براہ راست منتخب حکومت کے ذریعے فیصلہ سازی کا اختیار دینا ہے۔
مجوزہ انتظامی فارمولے کا سب سے اہم پہلو وفاق اور اسلام آباد حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہے۔ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس بنیادی طور پر امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے شعبے برقرار رہیں گے، جبکہ تعلیم، صحت، ماحولیات، توانائی، خوراک، زراعت، جنگلات، مواصلات، خزانہ، لینڈ ریونیو اور مقامی حکومت سمیت متعدد اہم شعبے نئی اسلام آباد حکومت کے ماتحت منتقل کیے جائیں گے۔ اس طرح اسلام آباد محض وفاقی دارالحکومت ہونے کے بجائے ایک باقاعدہ بااختیار انتظامی اکائی کے طور پر کام کر سکے گا۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اختیارات میں بھی بڑی تبدیلی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت سی ڈی اے کے بیشتر انتظامی اختیارات نئی منتخب حکومت کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے، تاہم ماسٹر پلاننگ وفاقی حکومت کے پاس برقرار رہے گی۔ اس تقسیم کا مقصد ایک طرف اسلام آباد کی منصوبہ بندی کو قومی دارالحکومت کی حیثیت سے وفاقی نگرانی میں برقرار رکھنا اور دوسری طرف روزمرہ شہری و انتظامی معاملات میں منتخب حکومت کو زیادہ سے زیادہ اختیار دینا ہے۔
مجوزہ ڈھانچے میں وفاق کو ضرورت پڑنے پر اسلام آباد کے لیے گورنر مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم گورنر اور منتخب حکومت کے اختیارات کے درمیان توازن کس طرح قائم ہوگا، یہ معاملے کا ایک اہم آئینی اور سیاسی پہلو ہوگا۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس امن و امان، ماسٹر پلاننگ اور گورنر کی تقرری جیسے اہم اختیارات موجود رہتے ہیں تو دوسری طرف منتخب حکومت کے پاس تعلیم، صحت، مالیات، زمین، ماحولیات اور دیگر شعبوں کا انتظام ہوگا۔ اس لیے مستقبل میں اختیارات کی حدود واضح نہ ہونے کی صورت میں وفاق اور اسلام آباد حکومت کے درمیان اختلافات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد کو الگ انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز دراصل نئے صوبوں کی وسیع تر بحث میں ایک ممکنہ درمیانی راستے کی حیثیت بھی اختیار کر سکتی ہے۔ ملک میں جنوبی پنجاب، بہاولپور اور دیگر علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبات کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ہر انتظامی مسئلے کا حل نئے صوبے کی صورت میں نکالا جائے یا موجودہ صوبائی ڈھانچے کے اندر بااختیار انتظامی یونٹس اور مضبوط مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ اسلام آباد کا مجوزہ ماڈل اسی بحث میں ایک عملی تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اگر دوسرے مرحلے میں اسلام آباد کے ساتھ پنجاب کے ملحقہ علاقوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی تو معاملہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ اس کے لیے نہ صرف باقاعدہ حد بندی بلکہ پنجاب کی صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے آئینی اور قانونی مراحل طے کرنا ہوں گے۔ پنجاب اسمبلی کی منظوری کے بغیر صوبے کے کسی علاقے کو اسلام آباد کی مجوزہ انتظامی اکائی میں شامل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہی پہلو مستقبل میں اس تجویز کو سیاسی طور پر بھی حساس بنا سکتا ہے۔
اسلام آباد کو بااختیار انتظامی یونٹ بنانے کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ اس سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں اختیارات کی تقسیم کا ایک نیا ماڈل سامنے آ سکتا ہے۔ اگر منتخب حکومت کو حقیقی مالی، انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات ملتے ہیں اور وہ شہریوں کو تعلیم، صحت، صفائی، ماحولیات، ٹرانسپورٹ، زمین اور دیگر بنیادی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ ماڈل ملک کے دوسرے بڑے شہری علاقوں اور انتظامی یونٹس کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اسمبلی بنانے یا محکمے منتقل کرنے پر نہیں ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ وفاق اور نئی منتخب حکومت کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم کس طرح کی جاتی ہے، مالی وسائل کہاں سے فراہم کیے جاتے ہیں، سی ڈی اے کے اختیارات کی منتقلی کیسے ہوتی ہے اور ماسٹر پلاننگ و امن و امان جیسے وفاقی اختیارات کے ساتھ مقامی حکومت کا انتظامی توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔
یوں اسلام آباد کا موجودہ علاقہ ہی ابتدائی طور پر مجوزہ انتظامی یونٹ یا صوبے کی حدود بننے کی تجویز پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی بحث کو عملی سمت دے سکتی ہے۔ 27 رکنی منتخب اسمبلی، وزیراعلیٰ یا میئر کی سربراہی میں حکومت، وفاق سے بڑے پیمانے پر اختیارات کی منتقلی اور سی ڈی اے کے بیشتر اختیارات کا نئی حکومت کو ملنا ایک بڑی انتظامی تبدیلی ہوگی۔ لیکن اس منصوبے کو حقیقت بنانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے، آئینی تقاضوں اور وفاق و صوبوں کے درمیان اختیارات کے حساس توازن کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ اگر یہ مرحلہ کامیابی سے طے کرلیا گیا تو اسلام آباد صرف وفاقی دارالحکومت نہیں رہے گا بلکہ پاکستان میں بااختیار انتظامی یونٹس کے ایک نئے ماڈل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
